ملک میں اداروں کی بالادستی تسلیم نہیں کریں گے: مولانا فضل الرحمٰن

  • بدھ 13 / جنوری / 2021
  • 4880

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ  کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ فیصلہ کن وقت آگیا ہے اور یہ فیصلہ کرنا ہے کہ پاکستان کے مالک اس کے عوام ہیں یا کچھ طاقت ادارے ہیں۔

لورالائی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے صدر اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ لورالائی میں عظیم المثال اور تاریخی اجتماع میں عوام کی بے مثال کی شرکت اس بات کا اعلان ہے کہ بلوچستان کے عوام دھاندلی کی پیداوار حکومت کو مسترد کرتے ہیں۔ ووٹ چوری کرکے آنے والے حکومت کو قوم پر مزید مسلط رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ ہم نے قصد کیا ہے کہ اس ملک میں عوام کی مرضی کی حکومت قائم ہو کر رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری یہ جنگ پاکستان میں جمہوری فضاؤں کی بحالی، آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور قانون کی عمل داری کے لیے ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اس مقصد کے لیے ایک پلیٹ فارم پر ہیں۔ مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں آج قوم ایک پلیٹ فارم پر ہے۔ ہم نے پورے ملک میں جلسے کیے ہیں۔ کراچی، لاہور، بہاولپور، مالاکنڈ اور آج لورالائی دور دراز علاقوں میں عوام کا سمندر ہمارے جلسوں میں امنڈ آتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یاد رکھیں عمران خان کو جانا ہی ہے، یہ ایک غیر متعلقہ شخص ہے۔ اس جعلی حکومت اورجعلی وزیراعظم کو عقل نہیں ہے، اس کا تو کوئی نظریہ ہی نہیں ہے۔ کبھی کہتا ہے میری حکومت آئے گی تو ریاست مدینہ بناؤں گا۔ پھر کہتا ہے کہ پاکستان میں چین جیسا نظام ہونا چاہیے۔ تھوڑا عرصہ گزرتا ہے تو کہتا ہے کہ ایران جیسا انقلاب آنا چاہیے۔ ابھی چند دن ہوئے کہا کہ پاکستان کو امریکی نظام کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے اکابر نے آزادی کی جنگ لڑی اور انگریز کو ہندوستان کی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کیا لیکن پاکستان کی صورت میں ابھی بھی کالونی کی علامات موجود ہیں۔ ہم نے پاکستان کو امریکی کالونی نہیں بننے دینا اورپاکستان کو دنیا میں آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر متعارف کروانا ہے۔

ہمارا اپنا ملک ہے اور ہمیں اپنے ملک کے حوالے سے سے سوچنا ہے۔ ہمارے حکمرانوں میں خود اعتمادی نام کی کوئی چیز نہیں۔ اگر انہیں پاکستان کالونی نظر نہ آتا تو یہ اوٹ پٹانگ باتیں نہ کرتا۔ کبھی امریکا کے نظام کی بات کرے اورکبھی چین کے نظام کی بات کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست کے نام پر قوم کو بے وقوف بنایا ہے۔ ملک میں طاقت وروں کا فلسفہ ہے۔ آج ہماری مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے، آج پڑوسی ملک ہمارے ساتھ کھڑا نہیں ہو رہا ہے۔ ہندوستان تو ہے ہی ہمارا دشمن لیکن آج افغانستان بھی پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کو تیار نہیں ہے۔ ایران بھی بھارت کے کیمپ میں چلا گیا ہے۔ آج چین پاکستان سے ناراض ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں بلوچستان اور پوری قوم سے کہنا چاہتا ہوں اب ہم اس ملک میں اداروں کی بالادستی تسلیم نہیں کریں گے یہاں پاکستان کے عوام کی بالادستی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو حقوق دیے گئے ہیں، صوبوں کے عوام کو ان کے تمام اثاثوں اور ان کے سرمایے کا مالک بنایا گیا ہے۔ ہم پھر سے صوبوں کا حق مرکز کو دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔