اقوام متحدہ پرتشدد قوم پرست گروہوں کو بھی کالعدم قرار دے: پاکستان
- بدھ 13 / جنوری / 2021
- 5270
اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے 15 رکنی سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ 'پرتشدد، انتہا پسند گروپوں' کو بھی دہشت گردوں کی دیگر تنظیموں کی طرح کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتہا پسند نیشنلسٹ تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے خلاف ایک عملی منصوبہ پیش کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے واضح خطرہ بن چکی ہے۔
منیر اکرم نے یو این ایس سی میں کہا کہ اس طرح کی پرتشدد، نسل پرست اور انتہا پسند دہشت گردی تشدد کو فروغ دے گی اور آئی ایس آئی ایس، داعش اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کے بیانیہ کی توثیق کرے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی، ہندوتوا نظریہ کی پیروی کررہی ہے جس سے بھارت میں مسلم آبادی کو خطرہ ہے۔
پاکستانی مندوب نے پرتشدد قومیت کے عروج کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا اور مندرجہ ذیل اقدامات تجویز کیے۔ ریاستوں سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ متشدد قوم پرست گروہوں، انتہا پسند اور دیگر نسلی اور لسانی شدت پسند گروہوں کو دہشت گرد قرار دیں۔ ان گروہوں کی بھرتی اور ان کی مالی امداد، تشدد پر مبنی نظریات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری طور پر داخلی اقدامات کئے جائیں۔ سیکریٹری جنرل سے درخواست ہے کہ وہ قوم پرست گروہوں کے انتہا پسندانہ نظریات اور اقدامات کو شکست دینے کے لیے لائحہ عمل پیش کریں۔
آر ایس ایس جیسے قوم پرست دہشت گرد گروہوں کو شامل کرنے کے لیے 1267 پابندیوں کی کمیٹی کے مینڈیٹ میں توسیع کی جائے۔ منیر اکرم نے اقوام متحدہ مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے نظرانداز ہونے والے پہلوؤں پر بھی غور کیا جائے جن میں سے ایک ریاستی دہشت گردی بھی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے اسی دہشت کا مظاہرہ ہورہا ہے۔ بھارتی فوج جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کررہی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان نے متعدد مرتبہ اقوام متحدہ میں بھارتی حکومت کے انتہا پسندانہ اقدامات سے آگاہ کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں بھارت کی حکومت کے انتہاپسندانہ اقدامات سے بھی دنیا کو آگاہ کیا تھا۔