پہلی بار کسی امریکی صدر کا دوسری بار مواخذہ
- جمعہ 15 / جنوری / 2021
- 5600
امریکہ کے ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی منظوری دے دی ہے۔ صدر پر عوام کو بغاوت پر اکسانے کا الزام ہے۔ کسی امریکی صدر کو پہلی بار مواخذہ کاسامنا کرنا پڑا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ڈیمو کریٹک پارٹی کی جانب سے ایوان میں پیش کردہ قرار داد پر بدھ کو ووٹنگ ہوئی۔ اس موقع پر 232 ارکان نے صدر کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا۔ 197 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ صدر کے مواخذے کے حق میں ووٹ دینے والوں میں ری پبلکن پارٹی کے دس ارکان بھی شامل ہیں۔
امریکہ کی 245 سالہ تاریخ میں صدر ٹرمپ واحد صدر ہیں جن کے خلاف ایوانِ نمائندگان نے دوسری مرتبہ مواخذے کی قرار داد منظور کی ہے۔ صدر کے مواخذے کی قرار داد ایسے موقع پر منظور ہوئی ہے جب ان کی مدت صدارت مکمل ہونے میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت باقی ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ میں جمہوریت کی علامت سمجھی جانے والی کانگریس کی عمارت 'کیپٹل ہل' پر 6 جنوری کو صدر ٹرمپ کے حامیوں نے اُس وقت حملہ کر دیا تھا جب وہاں نو منتخب صدر جو بائیڈن کی انتخابات میں کامیابی کی توثیق کا عمل جاری تھا۔ مظاہرین نے کیپٹل ہل میں توڑ پھوڑ کی جب کہ اس ہنگامہ آرائی کے دوران خاتون اور پولیس افسر سمیت پانچ افراد ہلاک بھی ہوئے۔
کیپٹل ہل پر حملے سے قبل مظاہرین وائٹ ہاؤس کے قریب جمع ہوئے تھے جہاں صدر ٹرمپ نے اُن سے خطاب کے دوران اُنہیں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا تھا۔ ڈیموکریٹک پارٹی اور ری پبلکن پارٹی کے بعض رہنما کیپٹل ہل پر حملے کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کے ٹھہراتے ہیں اور اسی الزام کی بنا پر ایوانِ نمائندگان نے بدھ کو دوسری مرتبہ ان کے مواخذے کی منظوری دی ہے۔
نومنتخب صدر جو بائیڈن نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وہ پرامید ہیں کہ کانگریس مواخذے کی کارروائی میں نہ صرف اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے گی بلکہ وہ ملک کے دیگر معاملات پر بھی کام کرے گی۔
ایوان نمائندگان میں 2019 کے آخر میں صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی پہلی کارروائی شروع ہوئی تھی ایوانِ نمائندگان میں ایک مرتبہ پھر صدر کے مواخذے کے بعد ٹرمپ کو سینیٹ میں ٹرائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سینیٹ میں صدر کو مجرم ٹھہرانے کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہو گی۔ اگر صدر کا سینیٹ سے بھی مواخذہ ہو جاتا ہے تو وہ دوسری مرتبہ کوئی وفاقی عہدہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔
سینیٹ میں اقلیتی جماعت کے سربراہ چک شومر کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے خلاف ٹرائل رواں ہفتے یا آئندہ ہفتے شروع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو بڑے جرائم اور بدانتظامی کے الزام میں سزا دینے کے لیے سینیٹ میں رائے شماری ضرور ہو گی۔
یاد رہے کہ 20 جنوری کو نو منتخب صدر جو بائیڈن ملک کے 46 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے جس کے بعد چک شومر سینیٹ میں اکثریتی پارٹی کے سربراہ بھی بن جائیں گے۔