اصل لڑائی شعور اور جہالت کی ہے ؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 15 / جنوری / 2021
- 8150
سچائی یہ ہے کہ آج کی دنیا میں اصل لڑائی نہ تو کفر اسلام کی ہے اور نہ نیک و بد کی۔ نہ ہندو مسلم کی ہے اور نہ شیعہ سنی یا بریلوی دیوبندی کی۔ اصلی و حقیقی جنگ شعور اور جہالت کے درمیان برپا ہے۔
جہاں جہاں جتنی جتنی جہالت ہے وہیں وہیں اسی مقدار میں جنونیت ، منافرت، دشمنی اور لڑائی پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ آپ جہالت ختم کروا دیں، درویش لڑائی جھگڑے ختم کروا دے گا۔
کوئی صاحب ابھی اٹھیں گے اور چلاتے ہوئے فرمائیں گے کہ اے جعلی درویش آپ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ کوئی جہالت شعور کی لڑائی نہیں ہے، یہ سب مفادات کی لڑائیاں ہیں، مفادات کا ٹکراﺅ اگر پڑھے لکھے با شعور ادیبوں، شاعروں اور عالموں میں بھی ہو گا تو وہ بھی جہلاءکی طرح ہی باہم دست و گریبان ہو جائیں گے۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ پڑھائی لکھائی کی وجہ سے ہے ان کی لڑائی زیادہ گھناﺅنی یا سائنٹفک ہو جائے۔ وہ باہم ایک دوسرے کو ایسا نقصان پہنچائیں جو جہلا بھی نہیں پہنچا سکتے۔
بلاشبہ مفادات کے ٹکراﺅ سے جو منافرتیں ابھرتی ہیں اور بعد ازاں وہ معرکہ پانی پت میں ڈھل جاتی ہیں۔ یہ ایک پہلو اپنے اندر بڑا وزن رکھتا ہے لیکن اس کا پوسٹ مارٹم ہونا چاہئے۔ دنیا میں بڑے خونی معرکے تو ہوئے ہی عالموں فاضلوں کے درمیان ہیں۔ ورلڈ وار ون اور ٹو لڑنے والے جاہل گنوار تو نہیں تھے۔ صلیبی جنگیں لڑنے والوں کی علمیت یا نظریاتی وابستگی پر کون سوال اٹھا سکتا ہے۔ جمل و صفین جیسے خوفناک خونی معرکے لڑنے والوں کی علمیت اور اخلاقی و نظریاتی عظمت کو آئیڈیل کی صورت پیش کیا جاتا ہے۔ کس کی مجال ہے جو ان عظیم المرتبت ہستیوں پر کسی بھی حوالے سے انگلی اٹھا سکے؟
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ مقدسات اس قدر علمیت یا شعور سے مالا مال بھی تھے تو پھر وہ ہزاروں انسان جو ان جنگوں میں لقمہ اجل بنا دیے گئے یا ہمیشہ کیلئے اپاہج ہو گئے ان کی اموات اور دکھوں کی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے؟ درویش نے جتنا بھی اس پر غور کیا ہے تو یہی جواب ملا ہے کہ غلط فہمی بھی جذباتیت کی طرح ایک نوع کی جہالت ہی ہوتی ہے۔ چاہے اس کا مرتکب کتنی بڑی بڑی ڈگریوں کا حامل ہو یا اس کی علمیت کا کتنا زیادہ رعب و دبدبہ ہو۔ ذرا ٹھہریے یہاں اس امر کاتعین ضروری ہے کہ جارحیت کس کی طرف سے ہوئی؟ آپ کے اندر کتنی ہی علمیت و انسانیت ہے لیکن کوئی جہالت کا پروردہ اگر آپ کی جان مال یا عزت پر حملہ آور ہوتا ہے تو یونیورسل لا آپ کو سیلف ڈیفنس کا حق تحفظ دیتا ہے۔ یہ حملہ آور ہونے والے کی جہالت ہے نہ کہ حق حفاظت خود اختیاری استعمال کرنے والے کی۔ لیکن گھپلا ہمیشہ جارح کے تعین میں کیا جاتا ہے۔
ہم تمثیلاً ملاحظہ کرتے ہیں کہ دو افراد باشعور بھی ہیں اور نیک فطرت بھی۔ مشترکہ کاروبار یا معاملات میں کوئی ایسی غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے جو نفرت اور دشمنی تک لے گئی ہے تو شعور کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بیچ میں مشترکہ لوگوں کو ڈالتے ہوئے گفتگو یا بات چیت سے نہ صرف غلط فہمیاں دور کر لیں۔ بلکہ اپنے معاملات معیاری سطح پر لے آئیں۔ لیکن اگر ایک کی نیت میں فتور ہے تو معاملہ لازماً خرابی کی طرف جائے گا یہ جو فتور ہے اس کا تعلق شعور سے نہیں جہالت کے کنبے سے ہے۔
دنیا نے کئی دہائیوں تک دو عالمی طاقتوں امریکا اور سوویت یونین کو باہم بالمقابل کھڑے دیکھا جو سرد جنگ کے طویل دو ر میں ایک دوسرے پر مخالفت سے ابل رہے تھے۔ مفادات کا سخت ٹکراﺅ تھا۔ دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے مسلح تھے مگر براہ راست دونوں نے کبھی باہم وہ گرمی نہیں آنے دی جس کے مظاہر ہم مڈل ایسٹ یا ساﺅتھ ایشیا میں دیکھ چکے ہیں۔ جدید چائنہ اور امریکا کی بھی کچھ ایسی ہی مثال ہے۔ اس کے برعکس پاکستان اور انڈیا میں جتنی بھی سر پھٹول یا جنگیں ہوئی ہیں وہ سب کی سب جہالت و جنونیت کا نتیجہ یا شاخسانہ تھیں۔ اس امر میں کوئی اشتباہ نہیں کہ اگر ون بائی ون جائزہ لیا جائے تو ان جنگوں کو ٹالنا قطعی مشکل نہ تھا بلکہ زیادہ سچائی سے کام لیا جائے تو یہ تمام کی تمام شوقیہ جنگیں تھیں۔
کہا جاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر ہر دو ممالک کے درمیان گلے میں پھنسی ہوئی ہڈی یا منافرت کی اصل وجہ ہے جبکہ ہمارا تجزیہ اس سب کو جھوٹ اور منافقت سمجھتا ہے۔ ہمارے درمیان جس قدر جہالت و جنونیت ہے اس کی “برکت “سے مسئلہ کشمیر اگر نہ بھی ہوتا تب بھی منافرت نے اسی مضبوطی سے موجود و ایستادہ ہونا تھا۔ بالفرض آج اگر مسئلہ کشمیر حل ہو جاتا ہے تو اگلے روز پانچ نئے مسائل اٹھ کر سامنے آن کھڑے ہوں گے۔ جہالت نے منافرت کو ختم نہیں ہونے دینا اور منافرت نے لڑائی یا جنگ کی فضا کو بنائے رکھنا ہے۔ اصل ایشو یہ ہے کہ کسی بھی انسان میں شعوری بیداری لانا یا منطق و استدلال کی صلاحیت پیدا کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا جذباتیت بھڑکانا یا جذبات کو اشتعال میں لانا سہل و آسان ہے۔
یوں سمجھیے کہ کوئی بھی بلڈنگ تعمیر کرنے میں اگر مہینوں یا برسوں کی محنت درکار ہوتی ہے تو تخریب کاری کا بم پھوڑنے کیلئے محض ایک لمحہ کافی ہوتا ہے۔ لہٰذا سہل پسندی سے مقام بلند کے خواستگار جان جوکھوں میں ڈالے بغیر جذباتیت کا الاﺅ جلا کر اپنا الو سیدھا کر لیتے ہیں۔ ان تمام چکر بازوں اور چکر بازیوں کی بنیاد اس منافرت پر ہے جو سرزمین جہالت پر پھلتی پھولتی ہے۔ جب تک جہالت زندہ باد ہے افراد ہی میں نہیں اقوام میں بھی منافرتیں اور منافرتوں پر استوار طاقتیں توانا ہوتی رہیں گی۔ یہ طاقتیں سیاسی ہوں یا عسکری، مذہبی ہوں یا سماجی ، بظاہر تعلیم کو فروغ دینے جیسے بلند بانگ نعرے و دعوے بھی بلند کریں گی لیکن ان کی اصل دشمنی بڑھتے ہوئے انسانی شعور کے ساتھ رہے گی۔
یہ سب مفاد پرست ٹولے حریت فکر اور آزادی اظہار کو پنپنے نہیں دیں گے ان پر طرح طرح کے حیلوں بہانوں سے قدغنیں لگانے کیلئے کوشاں رہیں گے۔ آزادی کی حدود بس وہیں تک قبول کی
جائیں گی۔ جہاں ان کے پر زد نہ پڑتی ہو۔ البتہ اب انٹرنیٹ نے سوشل میڈیا کے ذریعے شعور کو بڑھاوا دینے کا جو نیا امکان پیدا کر دیا ہے اس سے توقع کی جا سکتی ہے کہ دھیرے دھیرے جہالت کی جگہ شعور لیتا چلا جائے گا۔ یوں منافرتوں کے سوداگر اسی تناسب سے کمزور ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اگرچہ سوشل میڈیا بھی ہنوز ہمارے روایتی مذہبی، عسکری اور سماجی جبر کے دباﺅ میں ہے اور جہالت کے پھیلاﺅ کی قوتیں یہاں بھی پوری طاقت کے ساتھ جلوہ افروز ہیں۔ اور شعوری سوالات پر روک لگائے بیٹھی ہیں۔