جمہوریت کی پسپائی
- تحریر
- ہفتہ 16 / جنوری / 2021
- 3320
’وہ تاریخی لمحہ جب ہم جمہوریت کی ایک مثال تھے ہمارے ہاتھ سے پھسل چکا۔ اب ہمیں ایک بار پھر اپنی ساکھ بنانی ہوگی، دیکھا جائے تو شاید یہ کشٹ اٹھانا بنتا بھی ہے‘۔ امریکہ میں گزشتہ ہفتے کانگریس کے ایوان میں بلوائیوں کی ہنگامہ آرائی پر پر یہ تبصرہ پروفیسر ٹموتھی سنائیدر کا تھا جو ایک امریکی یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد ہیں۔
گزشتہ ہفتے کانگرس پر صدر ٹرمپ کے حامیوں نے دھاوا بولا تو اپنے پرائے سب پر سکتہ سا طاری ہو گیا۔ امریکہ جو جمہوریت کا بانی مبانی بھی شمار ہوتا ہے اور دنیا بھر میں جمہوریت کا سب سے بڑا چیمپئین بھی ہے، اسی ملک کا اپنا صدر انتخابات کے نتائج ماننے سے منکر ہے۔ اس انہونی پر ایک اور معروف تاریخ دان جیفری وارڈ نے بے ساختہ اپنی بے یقینی کا اظہار کچھ یوں کیا: ’کاش میں اس واقعے کی کوئی مدلل توجیح پیش کر سکتا، مگر سچی بات یہ ہے کہ اس طرح کا واقعہ پہلے کبھی ہوا ہی نہیں۔ اگر میں نے یہ سب خود نہ دیکھا ہوتا اور آپ مجھے بتاتے کہ امریکی صدر نے خود اپنے حامیوں کو مشتعل کیا ہے تو میں بے اختیار جواب دیتا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں‘۔ یہ اور اس سے ملتے جلتے تبصرے اور تجزئے ابھی تک جاری ہیں۔ ایوان نمائندگان نے تاریخ میں پہلی بار ایک موجودہ صدر کے دوسری بار مواخذے کی تحریک منظور کی۔ صدر ٹرمپ اب چار دنوں کے صدر ہیں مگران کے آخری دنوں میں اٹھا یہ طوفان ان کے جانے کے بعد بھی اپنا اثر دکھائے گا۔
جمہوری نظام کی بنیاد آزادانہ اور شفاف انتخابات پر استوار ہے۔ انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنا بھی اس نظام کی روایت او ر ڈسپلن کا لازمی جزو ہے مگر اس جمہوریت کی ساکھ کیا ہے جس کا اپنا صدر دو ماہ بعد بھی انتخابات کو آزادانہ تسلیم کرنے پر آمادہ ہے نہ شفاف؟ وہ بار بار انتخاب چرائے جانے کا الزام لگا رہا ہے۔ عین اس روز جب نائب صدر اپنی آئینی ذمہ داری کے طور پر کانگرس میں ان نتائج کی توثیق کے عمل میں شامل ہونے کو تھا، اس کے صدر نے آخری وقت تک اسے اس عمل سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ اسی پر بس نہیں کی، بلکہ اپنے حامیوں کو اشتعال بھی دلایا۔
اس واقعے نے ٹرمپ کو تیزی سے تنہا کر دیا۔ ان کی اپنی پارٹی کے کئی لیڈرز اس کے دفاع میں روایتی طور پر خم ٹھونک کر کھڑے نہیں ہوئے۔ ٹوئٹر نے بھی ان کا اکاؤنٹ بند کر دیا جو ان کا بنیادی میڈیم تھا۔ بار بار سوال اٹھایا گیا کہ یہ کیسے ممکن ہوا کہ ایک ثقہ بند جمہوری نظام کے پیچیدہ عمل کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ جیسا شخص منتخب ہو گیا جو اس نظام کا منہ چڑا رہا ہے۔ کیا جمہوریت ناکام ہو رہی ہے؟ یہ سوال کئی سالوں سے ماہرین کے سامنے رہا ہے مگر اب ایک نئی شدت سے اس پر بحث چھڑ گئی ہے۔‘جمہوریت کی پسپائی‘
ٌ کتاب کے مصنف جوشوا کرلانزک کے خیال میں انٹرنیشنل سسٹم میں بنیادی تبدیلیوں کا امکان نظر نہیں آتا۔ ایسے میں غیرجمہوری عناصر کے ساتھ کئی دیگر عوامل کی موجودگی میں نظام کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
چین کے عروج، مغربی جمہوری ممالک میں سست رو معاشی کارکردگی اور پے در پے معاشی بحرانوں کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک میں جمہوریت کو مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری طرف ہنگری اور چیک ریپبلک میں سیاسی آزادیوں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، ہنڈرس، تھائی لینڈ اور فجی میں فوجی انقلاب برپا ہوئے۔ مجموعی طور پر آزاد جمہوریتوں کی تعداد کم ہو رہی ہے یا کئی ممالک میں جمہوریت ہانپ رہی ہے، ایسے ممالک میں روس، کینیا، نائجیریا اور ارجن ٹائن شامل ہیں۔
پولیٹیکل سائنس کے معروف ماہر اور مصنف فرانسس فوکویاما کی رائے بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اپنے ایک حالیہ آرٹیکل میں انہوں نے اس نکتے کو اٹھایا ہے کہ سیاست میں دائیں اور بائیں بازو کی روایتی تقسیم اب شناخت میں بدل رہی ہے۔ یورپ، امریکہ اور کئی دیگر ممالک میں پاپولر سیاست کا ظہور اسی تبدیلی کا اظہار ہے۔ ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ نے بھی سماجی انتشار کو بڑھاوا دیا ہے۔ ان کے علاوہ کچھ دوررس تبدیلیاں بھی واقع ہو رہی ہیں۔ نیو لبرل اکنامک پالیسیوں کی طرف جھکاؤ بڑھ رہا ہے، افغانستان اور عراق کو جنگوں میں جھونکنے اور جمہوریت کھڑی کرنے میں ناکامی اور بالعموم جمہوری نظام سے عوام کی توقعات میں کمی ہو ئی ہے۔
گزشتہ ایک ڈیڑھ سال میں کئی ممالک میں بڑے پیمانے پر پاپولر عوامی مظاہرے ہوئے۔ چلی، ہانگ کانگ، لبنان، جنوبی افریقہ، اتھیوپیا، سوڈان اور ملائشیاء سمیت بہت سے ممالک میں معاشی اور عوامی مسائل کے بوجھ تلے پسے عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ کم و بیش ہر جگہ مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن، بے انصافی اور اقتدار پر اشرافیہ کی آہنی گرفت کے خلاف عوامی غیض و غضب کا اظہار سڑکوں پر ہوا۔ تمام تر مظاہروں کے باوجود کچھ ممالک میں لیپا پوتی کی حد تک کچھ چہرے بدلے، کچھ اقدامات بھی اٹھانے کے وعدے ہوئے لیکن عملاٌ عوام کے شب وروز میں جوہری تبدیلی نہیں آ سکی۔ جمہوریت کے نظام کو بیشتر ترقی یافتہ اور پسماندہ ممالک میں مقتدر اشرافیہ نے کچھ اس انداز سے قابو کر رکھا ہے کہ جمہوریت کی اصل روح یعنی آزادانہ انتخابات، سیاسی اور اظہار رائے کی آزادیاں، قانون کی بالا دستی اور سیاسی نظام میں سب کے لئے ہمہ گیر شرکت کے مواقع کی نوبت دکھاوے کی حد تک تو ہے، عملی طور پر بہت کم ہے یا بالکل مفقود ہے۔
پاکستان، بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں بھی جمہوری نظام کو چیلنجز در پیش ہیں۔ پاکستان میں سیاسی بے چینی اور ہر چند سال بعد رونما ہونے والا سیاسی عدم استحکام اس امر کا اظہار ہے کہ جمہوری نظا م اپنی جڑیں مضبوط نہیں کر سکا۔ مخالفین کو دیوار سے لگانے اور اقتدار پر اپنے تصرف پر اصرار سے وہ رویے جنم ہی نہیں لے پائے جو جمہوری مزاج کا خاصہ ہیں۔امریکہ کی جمہوریت کو لگنے والے داغ کتنی برساتوں میں دھلیں گے؟ دھلیں گے بھی یا کچھ نئے داغوں کا باعث بن جائیں گے؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر دنیا بھر میں اب تک کے آثار جمہوریت کے لئے کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔