سرمایہ داری کی آماجگاہ
- تحریر غزالی فاروق
- ہفتہ 16 / جنوری / 2021
- 5210
4 نومبر 2020 کو پنجاب بھر کے کسان لاہور میں حکومت کی زرعی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے لئے اکٹھے ہوئے۔ اس احتجاج نے اس وقت خونی رنگ اختیار کرلیا جب 5 نومبر کو انتظامیہ نے ان کے خلاف لاٹھی چارج کیا اور کسانوں پر آنسو گیس کے گولے فائر کیے جس کے نتیجے میں ایک کسان رہنما زخمی ہو گئے جو بعد میں ہسپتال میں انتقال کرگئے۔
کسانوں کا بنیادی مطالبہ گندم اور گنّے کی امدادی قیمت میں اضافہ تھا۔ کیونکہ مہنگے بیج، کیڑے مار ادویات، کیمیائی کھاد اوربجلی کے باعث پیداواری لاگت بہت زیادہ ہو چکی ہے اور وہ نقصان اٹھا رہے ہیں۔ بھارت میں بھی اس وقت کسانوں کی جانب سے حکومت کے خلاف احتجاج جاری ہے۔بھارت کی کابینہ نے 5جون 2020کو شعبہ زراعت سے متعلق تین نئے قوانین نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس پر بھارتی کسانوں کی جانب سے حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ مظاہرین نے دار الحکومت نئی دہلی کے مختلف راستوں کو اپنے دھرنے کے ذریعے بند کر دیا۔ کسانوں کے نمائندگان کا یہ کہنا ہے کہ یہ قوانین کسانوں کے استحصال کی قیمت ادا کر کے سرمایہ دار طبقہ کو نوازنے پر مبنی ہیں۔اس مسٔلہ پر کسانوں کے نمائندگان اور حکومتی عہدہ داران کے مابین بات چیت کے سات ادوار منعقد ہو چکے ہیں جن میں سے آخری دور 4جنوری 2021کو منعقد ہوا لیکن ابھی تک صلح کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے اور ایک ڈیڈ لاک کی سی کیفیت موجود ہے۔
یہاں یہ جاننا سود مند ہو گا کہ بھارت نے 1965میں زرعی اجناس کی قیمتوں کے تعین کے لئے ایک کمیشن قائم کیا تھا ۔ ان تین نئے قوانین کے متعارف ہونے سے پہلے تک یہ کمیشن ہر سال میں دو بار 23 قسم کی اجناس کی کم سے کم قیمتیں متعین کرتا تھا ۔ حکومت ان مقرر کردہ قیمتوں پر کسانوں سے اس صورت میں ان کی اجناس خرید لیتی تھی اگر منڈی میں ان اجناس کی قیمتیں ان کی پیداوار ی لاگت سے گر جاتیںیہ قانون اس لئے متعارف کرایا گیا تھا کہ کسان نقصان کے ڈر سے پیداواری لاگت کو گھٹانے پر مجبور نہ ہوں جس سے ملک کی مجموعی پیداوار میں کمی واقع ہو گی۔
لیکن 27ستمبر 2020سے لاگو کیے گئے تین نئے قوانین میں سے پہلے قانون سے متعلق کسان برادری کے تحفظات یہ ہیں کہ چونکہ کسانوں کو حکومت کی جانب سے ان کی اجناس کو ایم ایس پی پر خرید لینے کی کوئی قانونی ضمانت موجود نہیں ہے تو اب جبکہ حکومت نے کسانوں کو اجازت بھی دے دی ہے کہ وہ نجی کمپنیوں کو براہ راست اپنی اجناس فروخت کر سکتے ہیں تو جن کسانوں کی اجناس فروخت نہ ہو سکیں گی تو ان کے سلسلہ میں حکومت یہ کہہ کر بہت آسانی سے پہلو تہی کر سکے گی کہ اگر وہ کسان اجازت ہوتے ہوئے بھی اپنی اجناس منڈی میں یا منڈی سے باہر فروخت نہیں کر پائے تو اس میں اب حکومت آخر کیا کرے۔ یوں کسان مکمل طور پر نجی کمپنیوں کے مرہون منت ہو کر رہ جائیں گے اور اپنی فصل کی فروخت نہ ہونے کی صورت میں اسے پیدا واری لاگت سے بھی کئی گنا کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔
جہاں تک دوسرے قانون کا تعلق ہے تو اسے کانٹریکٹ فارمنگ یا کارپوریٹ فارمنگ بھی کہا جاتا ہے۔ کسانوں کے مطابق اس کے تحت نجی کمپنیوں کے لئے یہ بہت سہل ہو گا کہ وہ اجناس کو اپنی پسند کے مطابق نہ ہونے پر یا معاہدے میں طے کئے گئے کڑے معیار پر پورا پورا نہ اترنے کا جواز پیش کر کے بآسانی معاہدے سے باہر نکل سکیں گے۔ یا پھر زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ وہ معاہدے میں طے شدہ قیمت سے کئی گنا کم قیمت ادا کرنے کی پیشکش کریں گے جس سے کسان کی پیداواری لاگت بھی پوری نہ ہوتی ہو۔ یوں کسان کارپوریٹ سیکٹر کے ہاتھوں ہمیشہ استحصال کا شکار ہو تے رہیں گے ۔
تیسر ے قانون کے بارے میں بھارتی حکومت یہ تاثر پیش کر رہی ہے کہ اس نے کسانوں کو ذخیرہ اندوزی کی اجازت دے کر ان کا فائدہ کیا ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ کسان عمومی طور پر مالی اعتبار سے ذخیرہ اندوزی کے قابل نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ اس کے لئے وسائل رکھتا ہے۔ اسے اپنی فصل کی فوری فروخت کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ وہ اپنے گھر کا چولہا پانی چلا سکے۔ یہ قانون بھی بقیہ دونوں قوانین کی طرح کارپوریٹ سیکٹر کو نوازنے پر مبنی ہے۔ کیونکہ اس قانون کے تحت جو طبقہ حقیقت میں ذخیرہ اندوزی کر ے گا، وہ سرمایہ دار ہی ہوں گے۔
بھارت میں حزب اختلاف کانگرس پارٹی بھی بی جے پی کی ان نئی زرعی پالیسیوں کو سرمایہ دار طبقے کی پولیسیوں کا نام دیتے ہوئے ان کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے۔ جہاں تک کسان طبقے کی بات ہے تو یہ پالیسیاں یقیناً ان کے لئے زندگی اور موت کا مسٔلہ ہیں ۔ لیکن کانگرس جماعت کا اس معاملہ میں حکومت پر تنقید کرنا بالکل بے بنیاد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جمہوریت کا خاصہ ہے کہ اس میں قانون سازی کا اختیار استعمال کرتے ہوئے ایسے قوانین وضع کیے جاتے ہیں جن سے ایک مخصوص سرمایہ دار طبقے کو فائدہ پہنچتا ہے ۔ ایسا صرف بھارت کی جمہوریت کے ساتھ نہیں بلکہ ہر جمہوریت میں ایسا ہی ہے۔ امریکہ میں اس کی حالیہ مثال ٹرمپ کا اپنے دور صدارت میں تیل کے شعبے سے منسلک سرمایہ دار وں کے حق میں مختلف صدارتی اقدامات اٹھانا اور قانون سازی کرنا ہے۔ جبکہ اوباما اور ان کے نائب صدر جو بائیڈن کا اپنے دور میں ٹیکنالوجی کمپنیوں سے منسلک سرمایہ دار طبقے کو خوش کرنا ہے۔ یہ سب عوام کے مفادات کو مکمل طور پر بالائے طاق رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ اسی لئے جمہوریت جہاں بھی اپنی اصلی شکل میں نافذ ہوتی ہے ، وہ عوامی استحصال پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام کے لئے ایک بہترین آماجگاہ ثابت ہوتی ہے۔
اسلام نے شعبہ زراعت سے متعلق تفصیلی احکام دیئے ہیں۔ اسلام میں پیداوار کے لیے استعمال ہونے والی اشیا پر ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا جس کے نتیجے میں بیج، کیمیائی کھاد اور کیڑے مار ادویات سستی ہوجاتی ہیں۔ پھر اسلام توانائی کے شعبے کو عوام کی مشترکہ ملکیت قرار دیتا ہے نہ کہ سرمایہ داری کی طرح چند لوگوں کی ملکیت یا پھر اشتراکیت کی طرح ریاستی ملکیت ۔اس وجہ سے پیٹرول اور بجلی کسان کو مناسب قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں اور وہ بہت کم قیمت پر اپنا ٹیوب ویل چلاسکتا ہے۔ جب پیداواری لاگت کم ہوجاتی ہے تو کسان کو اپنی فروخت میں نقصان کا ڈر نہیں رہتا۔ جہاں تک ایسی اشیا کی ذخیرہ اندوزی ہے جن سے عوام کی بنیادی ضروریات متاثر ہوتی ہوں تو اسلام یہاں بھی قدغن لگا کر سرمایہ داروں کے استحصال سے کسان اور عوام کا بھرپور تحفظ کرتا ہے۔
برصغیر میں انگریزوں کی آمد سے قبل مغلیہ دورحکومت میں ریاستی سطح پر عمومی طور پر اسلام کے احکامات کا ہی نفاذ تھا ۔تبھی صرف اس خطے کی پیداوار پوری دنیا کی پیداوار کا 25فیصد تھی۔ صرف حکمران ہی نہیں بلکہ عوام بھی مالی طور پر بہت خوشحال تھے ۔ لیکن جب انگریز نے آ کر اپنے بنائے ہوئے قوانین کا نفاذ کیا تو لوگ بھوک سے مرنا شروع ہو گئے۔اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے، ہر اس جگہ پر جہاں سرمایہ دارانہ نظام اپنی اصل شکل میں نافذ ہے۔