امریکہ کی 50 ریاستوں میں مسلح مظاہروں کا الرٹ جاری

امریکہ میں نومنتخب صدر جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری سے قبل تمام 50 ریاستوں کے علاوہ وفاقی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران ممکنہ مسلح مظاہروں کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

نیشنل گارڈ کے مزید فوجی دستوں کو فوراً واشنگٹن ڈی سی بھیجا گیا ہے اور انہیں چوکنا رہنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ 6 جنوری جیسے خطرناک فسادات ہونے سے بچا جاسکے۔

ایف بی آئی نے متنبہ کیا ہے کہ تمام ریاستوں میں صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے مسلح احتجاجی مظاہرے ہوسکتے ہیں۔ دریں اثنا جو بائیڈن کی ٹیم نے ایک منصوبہ تشکیل دیا ہے جس میں ٹرمپ کی اہم پالیسیوں کو واپس لیا جائے گا۔ بائیڈن صدر کے عہدے پر فائز ہونے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد پچھلی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو ختم کرنے کے لیے صدارتی حکم نامے جاری کریں گے۔

گزشتہ ہفتے بائیڈن نے لوگوں کی امداد کے لیے 1.9 ٹریلین ڈالر کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔  اس پر قانون سازوں کی منظوری درکار ہوگی۔ امیگریشن کے عمل میں اصلاحات کے بِل پر بھی قانون ساز بحث کر سکتے ہیں۔ بدھ کو بائیڈن کی تقریبِ حلف برداری سے قبل واشنگٹن ڈی سی کا اکثر حصہ لاک ڈاؤن میں ہوگا اور یہاں نیشنل گارڈ کے دستوں کی صورت میں ہزاروں جوان تعینات کیے جائیں گے۔  کیپیٹل ہِل سے کئی میل دور بھی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں اور وہاں کنکریٹ اور دھات کی رکاوٹیں نصب ہیں۔

حلف برداری کی تقاریب کے دوران نیشنل مال، جہاں عام طور پر لوگوں کا رش ہوتا ہے، اسے بھی سیکرٹ سروس کی درخواست پر بند کر دیا گیا ہے بائیڈن کی ٹیم نے پہلے ہی کورونا وبا کی وجہ سے امریکیوں سے واشنگٹن ڈی سی سفر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ مقامی حکام نے کہا ہے کہ لوگ یہ تقریب دور سے ہی دیکھیں۔

اتوار کو مظاہروں کے لئے انٹرنیٹ پر ٹرمپ کے حامیوں اور انتہائی دائیں بازوں کے گروہوں نے آن لائن کمیونٹی میں مسلح مظاہروں کی کال دے رکھی ہے۔ تاہم کچھ مسلح گروہوں نے اپنے حامیوں سے ان مظاہروں میں نہ جانے کے لئے بھی کہا ہے۔  کیپیٹل پولیس نے اتوار کو بتایا کہ ورجینیا سے تعلق رکھنے والا ایک مسلح شخص جمعے کو سکیورٹی چیک پوسٹ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

امریکہ بھر میں ریاستیں مسلح مظاہرے سے متعلق کسی واقعے کو ٹالنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔ ان میں مظاہروں کی اجازت نہ دینے سے لے کر ریاستی عمارتوں میں سکیورٹی بڑھانے کے فیصلے شامل ہیں۔  میری لینڈ، نیو میکسیکو اور یوٹاہ کے گورنروں نے ممکنہ مظاہروں سے قبل ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ کیلیفورنیا، پینسلوینیا، مشیگن، ورجینیا، واشنگٹن اور وسکانسن میں نیشنل گارڈ کے فوجی دستے متحرک ہوچکے ہیں۔ ٹیکساس میں ریاستی عمارتوں کو ہفتے سے بدھ تک بند رکھا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن ریاستوں میں صدارتی انتخابات کے دوران جو بائیڈن اور ٹرمپ کے درمیان کڑا مقابلہ ہؤا تھا وہاں پُرتشدد واقعات ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔ ان ریاستوں میں سے ایک مشیگن ہے جہاں ریاستی عمارتوں کے گرد چھ فٹ اونچی دیوار بنائی گئی ہے۔