وقت سے پہلے مرجانے کا شکریہ منٹو!
- تحریر ٹونی عثمان
- سوموار 18 / جنوری / 2021
- 13430
’یہ مت کہو کہ ایک لاکھ ہندو اور ایک لاکھ مسلمان مرے ہیں۔ یہ کہو کہ دو لاکھ انسان مرے ہیں۔‘‘ یہ سطور ہیں سعادت حسن منٹو کے افسانہ ’’سہائے‘‘ کی ۔ ایسی بات وہی لکھ سکتا ہے جو مذہبی حدود سے بالاتر ایک سچا انسان اور مہان فنکار ہو۔
حکومت خواہ سامراج انگریز کی تھی یا آزاد پاکستان کی مگر منٹو کو آزادی سے لکھنے کی اجازت نہ تھی۔ حکومتی اہلکار چاہتے تھے کہ منٹو جھوٹ بولیں مگر منٹو سچ کے سوا اور کچھ لکھ، بول نہیں سکتے تھے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ سچائی جانے بغیر اصلاح ناممکن ہے اور حقیقت سے انحراف کرنے سے ہم کبھی بہتر انسان نہیں بن سکتے۔
ہندوستان کے بٹوارے کے بعد بمبئی چھوڑ کر کراچی سے ہوتے ہوئے جنوری 1948 میں جب وہ لاہور پہنچے تو ان کی حالت بہت خراب تھی۔ وہ چونکہ ایک سچے فنکار تھے اور ہر سچا فنکار نہ صرف انتہائی حساس طبیعت کا مالک ہوتا ہے بلکہ اپنے اردگرد کے حالات سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم اور تقسیم ہند کے دوران ہونے والی قتل و غارت اور بٹوارے کے طریقہ کار نے منٹو کو ذہنی طور پرخاصا درہم برہم کیا تھا۔ بقول ان کے خود پاکستان پہنچنےپر وہ تین مہینے تک عجیب و غریب ذہنی حالت میں مبتلا رہے اور کوشش کے باوجود ہندوستان کو پاکستان سے اور پاکستان کوہندوستان سے علیحدہ نہ کر سکے۔ ذہن میں الجھن پیدا کرنے والے سوالات اٹھتے تھے۔ کیا پاکستان کا ادب علیحدہ ہو گا۔ وہ سب کچھ جو سالم ہندوستان میں لکھا گیا تھا اس کا مالک کون ہو گا۔ کیا ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کے بنیادی مسائل ایک جیسے نہیں ہیں۔
چند مہینوں بعد جب منٹو کی حالت کچھ سنبھلی تو انہوں نے ہلکے پھلکے مضامین لکھنا شروع کر دیئے۔ انہی دنوں منٹو کے پرانے ساتھی احمد ندیم قاسمی ریڈیو پاکستان پشاور سے علیحدہ ہو کر لاہور پہنچے اور ماہنامہ ’’نقوش‘‘ جاری کیا۔ قاسمی صاحب کے اصرار پر منٹو نے ’’نقوش‘‘ کے لئے پاکستان میں اپنا پہلا افسانہ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ لکھا۔ مگر قاسمی صاحب شاید پاکستان کی حکومت کی تنگ نظری سے زیادہ واقف تھے اس لئے انہوں نے اسے ’’نقوش‘‘ میں شائع کرنا مناسب نہ سمجھا اور منٹو کو ایک اور افسانہ لکھنے کو کہا۔ منٹو نے پاکستان میں اپنا دوسرا افسانہ ’’کھول دو‘‘ لکھ کر قاسمی صاحب کے حوالے کر دیا جو انہوں نے ’’نقوش‘‘ میں شائع کر دیا۔ آزاد پاکستان کی حکومت کو ’’کھول دو‘‘ امن عامہ کے مفاد کے منافی نظر آیا لہٰذا ’’نقوش‘‘ کی اشاعت پر چھ مہینے پابندی لگا دی گئی۔ اُدھر ’’جاوید‘‘ کے مدیر عارف عبدالمتین جو کمیونسٹ پارٹی کے سرگرم رکن تھے، کو ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ اتنا پسند آیا کہ انہوں نے اسے ’’جاوید‘‘ کے خاص نمبر مارچ 1949 میں شائع کر دیا۔ آزاد پاکستان کی حکومت کو ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ بھی ہضم نہ ہوا اور مسئلہ پریس ایڈوائزری بورڈ میں زیر بحث رہنے کے بعد عدالت تک پہنچا۔ کورٹ کچہری کے چکروں نے منٹو کی نہ صرف معاشی حالت خراب کی بلکہ نفسیات پر بھی بہت بُرا اثر ڈالا۔ منٹو پر انگریز سرکار نے اُن کے ’’دھؤاں‘‘ اور ’’بو‘‘ جیسے افسانوں کی وجہ سے مقدمے چلائے تھے مگر آزادی کے بعد بھی انہیں آزادی سے ادب تخلیق کرنے اور اسے شائع کروانے کی اجازت نہ تھی، یہ ان کے لئے بہت بڑا دھچکا تھا۔
برطانیہ کے زیر قبضہ ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع لدھیانہ میں 11 مئی 1912 کو پیدا ہونے والے سعادت حسن منٹو میٹرک کے امتحان میں دو مرتبہ فیل ہونے کے بعد تیسری کوشش میں بڑی مشکل سے میٹرک تیسری پوزیشن پر پاس کر سکے۔ مگر انہیں جدید ادب تخلیق کرنے کے لئے کسی ڈگری کی ضرورت نہ تھی۔ وہ جنرل پرویز مشرف کی بی اے پاس اسمبلی کے لئے تو نااہل ہوتے مگر انہیں بین الاقوامی شہرت یافتہ قلم کار بننے سے کوئی نہ روک سکا۔ آج ان کی وفات کے 62 سال اور 4 مہینے بعد بھی ان کی تحریروں کو مختلف زاویوں سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کا کام جاری ہے۔ منٹو نے خود جتنا لکھا شاید اس سے زیادہ ان کے بارے میں لکھا جا چکا ہے۔
منٹو کوترقی پسند سے لے کر رجعت پسند اور فحاش تک کہا گیا مگر وہ فضول باتوں سے بالاتر ہو کر لکھتے رہے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ جو ادب وہ تخلیق کر رہے ہیں وہ جدید ادب ہے اور وہ اپنے نام کے ساتھ ’’ترقی پسند‘‘ یا ’’کامریڈ‘‘ کی مہر لگائے بغیر بھی بہت بڑے ترقی پسند ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ’’نیا ادارہ‘‘ کے مالک اور ’’سویرا‘‘ کے مدیر نذیر احمد چوہدری بعض دوسرے ’’ترقی پسندوں‘‘ کے ساتھ مل کر منٹو کو رجعت پسند قرار دے چکے تھے۔ منٹو شاید کبھی کسی کمیونسٹ پارٹی کے باقاعدہ رکن نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے کبھی سیکولرازم کا نعرہ لگانے کی ضرورت محسوس کی۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اُن کی تحریریں جو جغرافیائی، نسلی اور مذہبی حدود سے بہت بالا ہیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ انسانیت پرست اور سچے سوشلسٹ ہیں۔
صحافی اور محقق فاروق سلہریا نے منٹو کی پچاسویں برسی کے سلسلے میں جنوری 2005 میں ’’منٹو ترقی پسند، یہ کیا بیہودگی ہے‘‘ کے عنوان سے ہفت روزہ ’’مزدور جدوجہد‘‘ کے لئے ایک مضمون لکھا جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ترقی پسندی کوئی عارضی چیز نہیں بلکہ یہ ایک متواتر عمل ہے اور منٹو کا ترقی پسند بن جانا کوئی اتفاقی حادثہ نہ تھا۔ حکومت منٹو کو کمیونسٹ سمجھتی تھی، لوگ انہیں افسانہ نگار کے حیثیت سے جانتے تھے جبکہ عدالتیں انہیں فحش نگار قرار دینے پرتلی ہوئی تھیں۔ سلہریا صاحب اپنے مضمون کے آخر میں لکھتے ہیں کہ ایک بار سی آئی ڈی کا ایک آدمی پوچھ گچھ کے لئے منٹو کے گھر پہنچا اور پوچھا کہ کمیونسٹ پارٹی کے دفتر سے ایک کتاب ملی ہے جس میں ان کا نام ہے۔ لہٰذا بتایا جائے کہ اُن کا اس سے کیا تعلق ہے۔ منٹو جو بُرے سے بُرے حالات میں بھی مذاق کرنے سے باز نہیں آتے تھے، نے جواب میں پوچھا ’’کتاب سے یا کمیونسٹ پارٹی سے؟‘‘ سی آئی ڈی کا آدمی بولا ’’کمیونسٹ پارٹی سے‘‘۔ منٹو نے جواب دیا ’’تعلق تو ہے مگر ناجائز‘‘‘
سی آئی ڈی کے آدمی نے پوچھا ’’کیوں‘‘ منٹو نے جواب میں کہا ’’اس لئے کہ تمہاری حکومت یہی سمجھتی ہے ورنہ تم پوچھ گچھ کرنے کیوں آتے‘‘
منٹو کو زیادہ تر افسانہ نگار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے مگر انہوں نے مختلف اصناف میں لکھا۔ دسمبر 1951 سے لے کر اپریل 1954 کے عرصہ میں انہوں نے ’’چچا سام کے نام‘‘ سے 9 خطوط تحریر کئے۔ یہ سارے خط جہاں ایک طرف طنز و مزاح سے بھرپور تفریح مہیا کرتے ہیں وہیں یہ ’’چچا‘‘ امریکہ اور ’’بھتیجا‘‘ پاکستان کے درمیان جھوٹی دوستی کے متعلق ایک اہم سیاسی دستاویز بھی ہیں ۔ ان خطوط کے ذریعے پتہ چلتا ہے کہ منٹو نہ صرف مقامی اور بین الاقوامی سیاسی حالات سے اچھی طرح باخبر تھے بلکہ وقت سے بہت آگے سوچتے تھے۔ پہلے خط کا آغاز میں ہندوستان کے مضحکہ خیز بٹوارے کی عکاسی کرتے ہوئے شناخت کے متعلق ایک دلچسپ سوچ کے عمل کو یوں شروع کرتے ہیں۔
’’میرا نام سعادت حسن منٹو ہے، اور میں ایک ایسی جگہ پیدا ہوا تھا جو اب ہندوستان میں ہے۔ میری ماں وہاں دفن ہے، میرا باپ وہاں دفن ہے، میرا پہلا بچہ بھی اسی زمین میں سو رہا ہے لیکن اب وہ میرا وطن نہیں۔ میرا وطن اب پاکستان ہے جو میں نے انگریزوں کے غلام ہونے کی حیثیت میں پانچ چھ مرتبہ دیکھا تھا۔‘‘
منٹو نے پاکستانی کمیونسٹوں اور سوویت یونین کا بھی مذاق اڑایا اس لئے امریکہ کو خیال آیا کہ منٹو سرد ثقافتی جنگ میں اس کا اہلکار بن سکتا ہے۔ لہٰذا لاہور میں امریکی قونصلیٹ نے منٹو سے رابطہ کیا۔ مگر منٹو بکاؤ نہیں تھے اور ان کے لئے اظہار رائے کی آزادی سب سے اہم تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ اچھا ادب تخلیق کرنے کے لئے ہمیشہ ایماندار ہونا ضروری ہے۔ اپنے چوتھے خط میں انہوں نے پاکستان میں اسلامی بنیاد پرستی کے عروج کی پیشن گوئی کی اور افغانستان میں ملاؤں کو امریکہ کی طرف سے مسلح کرنے سے دو دہائیاں قبل یہ لکھا:
’’ہندوستان لاکھ ٹاپا کرے آپ پاکستان سے فوجی امداد کا معاہدہ ضرور کریں گے اس لئے کہ آپ کو اس دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت کے استحکام کی بہت زیادہ فکر ہے اور کیوں نہ ہو اس لئے کہ یہاں کا ملا روس کے کمیونزم کا بہترین توڑ ہے۔‘‘
منٹو ہر لحاظ سے وقت سے بہت آگے تھے انہیں اپنی موت کا بھی علم تھا۔ اسی لئے انہوں نے موت سے ٹھیک پانچ مہینے پہلے 18 اگست 1954 کو اپنی قبر کے لئے یہ کتبہ لکھا:
’’یہاں سعادت حسن منٹو دفن ہے۔ اس کے سینے میں فن افسانہ نگاری کے سارے اسرارورموز دفن ہیں۔ وہ اب بھی منوں مٹی کے نیچے سوچ رہا ہے کہ وہ بڑا افسانہ نگار ہے یا خدا!‘‘
یہ کتبہ ان کی قبر پر کبھی بھی نہیں لگایا گیا۔ منٹو پر تحقیق کے سلسلے میں جب دسمبر 2004 میں میں اُن کی بڑی بیٹی نگہت پٹیل سے لاہور میں ملا تو انہوں نے بتایا کہ ان کی پھوپھی یعنی منٹو کی ہمشیرہ نے یہ کتبہ قبر پر لگانا مناسب نہیں سمجھا تھا۔
یہ مضمون لکھنے کا مقصد منٹو کوان کی ایک سو پانچویں سالگرہ کے موقع پر یاد کرنا ہے مگر سمجھ نہیں آ رہا کہ انہیں پیدا ہونے کی مبارکباد دی جائے یا محض 42 سال کی عمر میں 1955 میں مر جانے پر اُن کا شکریہ ادا کیا جائے۔ کیوں کہ اگر وہ تب نہ مرتے توآزاد پاکستان کی آزاد فوج انہیں اُس طرح مارتی جس طرح کمیونسٹ رہنماؤں حسن ناصر اور نذیر عباسی کو قتل کیا گیا۔ یا پھر ایک ہجوم اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے صوفی مینشن میں واقع ان کے گھر میں داخل ہو کر انہیں قتل کرکے، اُن کی لاش کو ہال روڈ سے گھسیٹ کر مال روڈ تک لے آتا۔ تاکہ دیکھنے والوں کو عبرت حاصل ہوتی کہ وہ کبھی قلمکار بننے کی کوشش نہ کریں۔ اور سارا معاشرہ منٹو کے قتل کی مذمت کرنے کی بجائے اس بحث میں مصروف ہوتا کہ منٹو کی کون سی تحریر اُن کے قتل کا سبب بنی ہے۔
واہ! 70 سالوں میں کیا معاشرہ تعمیر کیا گیا ہے۔
(یہ مضمون پہلی بار 2017 میں کاروان میں شائع ہو چکا ہے۔ سعادت حسن منٹو کی 66 ویں برسی کے موقع پر اسے دوبارہ شائع کیا جارہا ہے)