داعش کی مالی معاونت کے الزام میں این ای ڈی یونیورسٹی کا طالبعلم گرفتار

  • سوموار 18 / جنوری / 2021
  • 4790

پولیس کے کاؤنٹر ٹیرارزم ڈپارٹمنٹ نے دہشت گرد تنظیم داعش کو مالی معاونت فراہم کرنے والے این ای ڈی یونیورسٹی کے ایک طالبعلم کو گرفتار کیا ہے۔

کراچی میں سی ٹی ڈی کے عہدیدار راجہ عمر خطاب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاہد حامد نے بتایا کہ کاؤنٹر ٹیراریزم ڈپارٹمنٹ کو اطلاع ملی تھی کہ کچھ افراد کراچی میں پیسہ جمع کرکے بٹ کوائن میں منتقل کرکے شام میں داعش کو بھیج رہے تھے۔

تفتیش میں پتہ چلا کہ حافظ محمد عمر بن خالد نامی شخص اس میں ملوث تھا۔ سی ٹی ڈی نے پہلے اس کو 24 گھنٹے کے لیے حراست میں رکھا، پھر ہم نے اس کو رہا کر کے فون کی فارنزک کروائی اور اس فارنزک کی مدد سے پتہ چلا کہ رقم کس طرح اور کہاں منتقل ہو رہی تھی۔ پھر اس کو دوبارہ اس کیس میں گرفتار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں بات دو تین چیزیں اہم ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ مقامی لوگ شام کے جہادیوں کے اہلخانہ کو پیسے بھیج رہے تھے۔ پیسے بھیجنے کا طریقہ کار بٹ کوائن بنایا گیا جو آن لائن رقم کی منتقلی کے حوالے سے ایک محفوظ کرنسی ہے۔ عام کرنسی کے مقابلے میں جتنی بھی کرپٹو کرنسی ہیں ان کی نگرانی نہیں کی جاتی تو بین الاقومی مجرم اسے استعمال کرتے ہیں۔

اس موقع پر راجہ عمر خطاب نے کہا کہ جہادی خاندانوں نے وہاں اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ بنائے ہوئے ہیں جن کی مدد سے وہ لوگوں سے پیسوں کی اپیل کرتے ہیں۔ جو لوگ پیسے بھیجنے میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جا کر ان سے رابطہ کرتے ہیں۔

راجہ عمر خطاب نے دعویٰ کیا کہ پچھلے ایک سال میں گرفتار ملزم 10لاکھ سے زیادہ رقم بھجوا چکا ہے۔ جو لوگ محمد عمر بن خالد کو پیسے دیتے تھے اب  ان کی کھوج لگا سکتے ہیں۔