پی ڈی ایم کا الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج: فارن فنڈنگ کیس کے فوری فیصلے کا مطالبہ

  • منگل 19 / جنوری / 2021
  • 4260

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے زیرِ اہتمام حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کے فوری فیصلے کے مطالبے کے لیے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کیا گیا۔

منگل کو اسلام آباد کی شارع دستور پر واقع الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرے میں پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن، مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، بلوچ رہنما سردار اختر مینگل، آفتاب شیرپاؤ، امیر حیدر خان ہوتی، پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سات سال سے زیرِ التوا ہے۔  اُنہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کو اسرائیل اور بھارت سے فنڈنگ ملتی رہی اور یہی وجہ ہے کہ عمران خان اس معاملے میں نااہلی سے ڈرتے ہیں۔ لہذٰا اس فیصلے میں تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کمیشن کو اُن کی آئینی ذمہ داری یاد دلانے آئے ہیں۔  عمران خان اپنے جرم کا اعتراف کر چکے ہیں۔ لہذٰا اب فیصلے کا نہیں بلکہ سزا دینے کا وقت ہے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ چوں کہ عمران خان کی پارٹی کو بھارت سے فنڈنگ ملتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے بھارت میں انتخابات سے قبل نریندر مودی کی کامیابی کی دعا کی تھی۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سات برسوں میں فیصلہ نہیں ہوسکا جب کہ نواز شریف اور اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف مقدمات کی تیزی سے سماعت کی جاتی ہے۔ عمران خان نے 30 مرتبہ کوشش کی کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ رکوایا جائے یا اسے سرد خانے میں ڈال دیا جائے۔

پی ڈی ایم کے قائد اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان مکمل طور پر بے بس ہے۔ ان کے بقول کمیشن نہ تو منصفانہ الیکشن کرا سکا اور نہ ہی بھارت اور اسرائیل سے فنڈز لینے والی سیاسی جماعت کے خلاف فیصلہ دے سکا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ عمران خان دوسروں کے احتساب کا تو مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن اپنی جماعت کے خلاف سات سال سے زیرِ التوا کیس کو مزید طول دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ تحریک انصاف کو ملنے والی فنڈنگ میں کئی اکاؤنٹس کو چھپایا گیا۔  ہمیں کہا جاتا ہے کہ اداروں پر تنقید نہ کریں۔ ادارے آسمان سے نہیں اُترے۔ اداروں کے جرائم کی وجہ سے پاکستان ٹوٹا اور پاکستان مسائل سے دوچار ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آج چین، ایران اور دیگر دوست ممالک بھی پاکستان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن کے بقول الیکشن کمیشن مصلحت کا شکار ہے اور اگر الیکشن کمیشن نے انصاف کے تقاضے پورے نہ کیے تو ہم آئندہ الیکشن میں اس پر اعتبار نہیں کریں گے۔ احتجاجی مظاہرے سے پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف، عوامی نیشنل پارٹی کے امیر حیدر خان ہوتی، آفتاب شیر پاؤ اور اختر مینگل نے بھی خطاب کیا۔