لاپتا افراد کے معاملہ میں عدالتوں سمیت سب جوابدہ ہیں: اسلام آباد ہائیکورٹ

  • منگل 19 / جنوری / 2021
  • 4240

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتا فرد کے کیس سے متعلق سماعت کے دوران سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ چھوٹا سا اسلام آباد ہے، ہر مہینے 4، 5 لوگ لاپتا ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالتوں سمیت سارے جواب دہ ہیں۔ کوئی کام نہیں کرتا تو وہ اس عہدے کا اہل نہیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل سنگل رکنی بینچ نے 5 سال سے لاپتا شہری عمر عبداللہ کی بازیابی کے حوالے سے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کیے جانے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر سابق سیکریٹری داخلہ، دفاع، سابق آئی جی اسلام آباد و دیگر حکام عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

کیس کی سماعت کے دوران عدالت عالیہ نے شہری کی عدم بازیابی پر سابق سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) ضمیر حسین، سابق سیکریٹری داخلہ عارف خان، سابق انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد جان محمد کو اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری کردیے۔  جسٹس محسن اختیار کیانی نے ریمارکس دیے کہ 7 دن میں جواب دیں، پھر یہ نہیں کہنا کہ آپ کو سنا نہیں۔ نااہلی دکھانے پر 6، 6 ماہ کے لیے جیل بھیج دیں گے۔

عدالت نے سماعت کے دوران موجودہ سیکریٹریز داخلہ و دفاع کو بھی نوٹس جاری کیے اور ان سے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت عالیہ میں دوران سماعت سابق سیکریٹری داخلہ عارف خان نے کہا کہ 2016 اور 2017 میں سیکرٹری داخلہ تھا۔ مجھے اس کا کچھ معلوم نہیں۔ اس پر عدالت نے وہاں موجود جوائنٹ سیکریٹری سے پوچھا کہ کیا آپ سیکریٹری داخلہ کو بتاتے نہیں کہ لاپتا افراد سے متعلق کیا ہوتا ہے؟

عدالت نے کہا کہ آج سابق کے خلاف تو کل ان حاضر سیکریٹری داخلہ و دفاع کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ اگر آپ نے اس کیس سے متعلق ذمہ داری نہیں لینی تو پھر وزیراعظم اس کے ذمہ دار ہوں گے۔

کیس کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پولیس یا انٹیلی جنس ایجنسیز کام نہیں کرتیں تو کیا ہوگا۔ کوئی دہشت گرد بھی ہے تو اس کے خلاف کارروائی کریں، عدالتوں میں پیش کریں۔ اس کیس کی تو ہسٹری ہے، کیا ہم نے جواب نہیں دینا؟ یہ نظام کیسے چلے گا؟

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اگر یہ چلتا رہا تو ایک دن لوگ عدالتوں سمیت سارے نظام کو آگ لگا دیں گے۔ اگر ادارے قانون سے ماورا کام کریں گے تو لوگ بھی ہتھیار اٹھا لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں سمیت سب جواب دہ ہیں، کوئی کام نہیں کرتا تو وہ اس عہدے کا اہل نہیں۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فائل دیکھی ہے، آئی جی سے لے کر سب نے نااہلی دکھائی۔ اہل خانہ کو کیا کہیں کہ ادارے ناکام ہو گئے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 3 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ و دفاع سے جواب طلب کرلیا۔