دہشت گردی کی جنگ اور قومی بیانیہ

پاکستان کو  پچھلی دو دہائیوں سے جو بڑے سنگین خطرات  درپیش ہیں ان میں ایک بڑا چیلنج انتہا پسندی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دہشت گردی  تھی۔ ایک عمومی سوچ اور فکر یہ بن گئی تھی کہ ریاستی رٹ کے مقابلے میں عسکریت پسند یا دہشت گرد عناصر  بالادست ہوگئے ہیں۔

یہ ہی وجہ ہے کہ ہم نے ملک میں  دہشت گردی  سے بڑی تباہی دیکھی ہے۔ریاست نے ماضی میں اس جنگ پر یا تو کچھ سیاسی سمجھوتے کیے یا وہ واقعی خود کو کمزور محسوس کررہی تھی جو عملی طور پر دہشت گردوں کو طاقت فراہم کرتی تھی۔لیکن پشاور میں آرمی پبلک اسکول میں ہونے والی دہشت گردی نے یقینی طور پر پورے ریاستی نظام کو  جنجھوڑ ڈالا۔ اس واقعہ کے بعد  ریاستی سطح پر اس دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت میں ایک سنجیدہ سوچ اور حکمت عملی  سامنے آئی۔ تاہم آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو دہشت گردی کے خلاف  جنگ میں ہماری سنجیدہ کوششوں  کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ لوگ پاکستان کے اندر بھی ہیں او رپاکستان سے باہر بھی جو ریاست یا حکومت پاکستان پر تنقید کرتے ہیں کہ ہم اس جنگ میں سنجیدہ نہیں۔

پاکستان نے  اس جنگ سے نمٹنے کے لیے بہت سے اہم اقدامات اٹھائے ہیں ان میں بیس نکات پر مشتمل قومی بیانیہ   نیشنل ایکشن پلان، فرقہ وارانہ خاتمہ کے لیے  پیغام پاکستان ، دختران پاکستان ،قومی سیکورٹی پالیسی،  وفاق اور صوبائی سطح پر اس کام کی نگرانی اور شفافیت کے لیے وزیر اعظم اور وزرائے اعلی کی سربراہی می  اپیکس کمیٹیوں کا قیام، سائبر قوانین، نفرت انگیز مواد، عسکریت پسندوں یا مسلح گروپس کا خاتمہ او ران تنظیموں کو کالعدم قرار دینا، سیاسی ومذہبی اور کالعدم تنظیموں کے مالی اعانت کے نظام کا جائزہ، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا قیام، فوجی عدالتوں کا قیام، نفرت انگیز مواد پر مبنی تحریروں، ویڈیوز اور لاوڈ اسپیکرز کے استعمال پر پابندی، کفر کے فتوی کے خلاف ایکشن،دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں، مدارس کی اصلاح جیسے اہم اقدامات شامل ہیں۔

دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ان تمام  اقدامات کے باوجود یہ کہنا کہ ملک میں سب کچھ اچھا ہوگیا ہے، درست نہیں ہوگا۔ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں ہمیں ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی مختلف طرز کی کاروائیوں کا سامنا ہے۔ایک ایسی جنگ جس میں دشمن آپ کے اندر ہی سے ہو او رجسے باہر سے کسی نہ کسی شکل میں سیاسی، انتظامی او رمالی معاونت مل رہی ہو تو یہ جنگ جیتنا آسان نہیں ہوتا۔جو جنگ کئی دہائیوں سے ہماری اپنی غلطیوں سے پھیلی ہو اسے ختم کرنے میں بھی کافی وقت لگے گا۔ خاص طو رپر جو سیاسی مغالطے اس جنگ سے جڑے ہیں ان کو دور کرنا بھی اہم ہے۔

یہ جنگ دو بنیادوں پر لڑی جائے گی۔ اول انتظامی سطح جسے ہماری فوج اور دیگر سیکورٹی اداروں یا انٹیلی جنس ایجنسیوں نے طاقت کے زور پر دہشت گردوں کی کمر توڑی ہے۔ دوسری جانب جو دہشت گردی یا انتہا پسندی کے تناظر میں سیاسی و فکری مغالطے ہیں ان کو سیاسی حکومتوں نے سیاسی، سماجی اور مذہبی شعور کے ساتھ نمٹنا ہے تاکہ ملک کو دونوں سطحوں سے اس جاری جنگ میں کامیابی بھی ملے او رہم امن کا راستہ بھی تلاش کرسکیں۔

ہمیں اپنے ریاستی اداروں اور سیاسی نظام پر بھروسہ کرنا ہوگا کہ اب صورتحال ماضی سے نہ صرف بہت بہتر ہے  اور ہم نے اس جنگ میں کئی اہم کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔آج دہشت گردی کے واقعات میں ماضی کے مقابلے میں  کمی آئی ہے۔مثال کے طور پرریاست پاکستان اور حکومت کے بقول پچھلے دس برسوں میں دہشت گردوں کے خود کش حملوں میں 97 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔2009میں 87 خود کش حملے ہوئے جبکہ اس کے برعکس2013میں 46، 2018میں 14اور2020میں یہ واقعات تین تک محدود ہوگئے ہیں۔جبکہ 2013میں پاکستان میں تقریبا ہر ماہ نوے واقعات دہشت گردی کے ہوتے تھے۔اسی طرح اگر ہم دیکھیں تو2008میں فاٹا اور سوات میں 32فیصد علاقے پر عسکریت پسندوں کا قبضہ تھا جہاں اب صورتحا ل معمول کے مطابق ہے اور ریاستی رٹ وہاں بالادست نظر آتی ہے۔

 دہشت گردی سے نمٹنے میں جہاں ہمیں داخلی مسائل درپیش ہیں وہیں ہمیں علاقائی اور خارجی سطح پر بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ کچھ ممالک بالخصوص بھارت کی مداخلت کے معاملات بھی سرفہرست ہے۔ بھارت اپنی سیاسی و سفارتی ڈپلومیسی کے محاذ پر مسلسل  دنیا میں اس بیانیہ کو پھیلارہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی  کے خلاف سنجیدہ نہیں او ر اس کے تمام تر اقدامات آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔بلوچستان کے حالات کے بگاڑ میں جہاں داخلی مسائل ہیں وہیں بھارت کی مداخلت کے شواہد بھی موجود ہیں جسے ہم نے  دنیا  کے سامنے بطور ثبوت پیش کیا ہے۔بلوچستان میں  علیحدگی پسند عناصر  کے بھارت سے تعلقات ہیں۔ داعش جیسی تنظیموں کی سرپرستی میں بھی بھارت سرفہرست نظر آتا ہے۔

کراچی بھی  لسانی سیاست کے نام پر دہشت گردی کا مرکز بن گیا تھا۔ کراچی اب ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر ہے اور اب وہاں جو مجرمانہ سرگرمیاں ہیں ان کی تعداد میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ وگرنہ اغوا برائے تاوان، قتل وغارت جیسے واقعات معمول کا حصہ بن گئے تھے۔اس ساری صورتحال میں ہمیں اپنی فوج سمیت تمام سیکورٹی اداروں، انٹیلی جنس ایجنسیوں سے جڑے اداروں، پولیس اور دیگر اداروں سمیت عام شہریوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے جنہوں نے  ہم سب کے تحفظ کی جنگ لڑی ہے۔  ہمیں کافی حد تک پرامن پاکستان نظر آتا ہے اس میں ان لوگوں کو خراج تحسین پیش  کرنا اہم ہے۔ہمیں اداروں پر ضرور تنقید کرنی چاہیے کیونکہ اصلاح کا عمل ہمیشہ موجود رہتا ہے،لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے ایسے اقدام کو بھی سراہا جانا چاہیے جو ان کا حق بنتا ہے۔

اب ہمیں اسی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی جنگ میں جہاں دیگر چیلنجز کا سامنا ہے وہیں ہمیں اب ففتھ جنریشن وار کا خطرہ بھی لاحق ہے۔اس سے نمٹنے کے لیے ہمیں سیاسی و عسکری سطح پر خود کو منظم کرنا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں بطور ریاست، حکومت او رمعاشرہ شدت پسندی، انتہا پسندی یا دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت خود کو بھی منظم کرنا ہے۔ معاشرے کے تمام طبقات کو بھی اس قومی بیانیہ یعنی پرامن او رمحفوظ پاکستان کا حصہ بنانا ہوگا۔