فنا فی اِلانتشار

اِسلام جو امن کا دین ہے، وہ نہ تو ہم نے  پڑھا اور نہ ہی سیکھا  اور نہ ہی اُس پر عمل پیرا ہوئے۔ تو مذہب کے باب میں ہم نے کیا سیکھا ؟  آپس کا لڑائی جھگڑا، گالی گلوچ ہاتھا پائی ، جوتم پیزار ، الزامات تراشیاں،  پگڑیاں  اُچھالنا ، کوڑے کے ڈھیروں میں گھسیٹنا،  ایک دوسرے پر کُوڑا ڈالنا،  ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچا ،  غیبت اور پہتان کی بانسریاں بجانا ،  سانپ بن کر رات بھر دولت کی دیگوں میں  رام نام جپنا،  پرایا مال اپنا کا وظیفہ کرنا،  ٹاک شوز اور پریس کانفرنسوں میں،  اسمبلیوں میں شرم و حیا  کے فقدان کے طعنے دینا اور اپنی اپنی شان میں قصیدے پڑھنا۔

 تقریروں اور سیاسی خطبوں میں  عام لوگوں کے دکھوں پر  ٹسوے بہانا ، لفظی بین کرنا اور  عملاً کچھ نہ کرنا ۔ ایسا کرتے ہوئے اُن کو کبھی یہ یاد نہیں رہتا  کہ اُن کے ہادی، پیشوا اور پٰیغبرِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا تھا کہ تُم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص جواب دہ ۔ لیکن اس پیغام کو نظر انداز کر کے  اہلِ مال و زر  اپنے ڈالروں کے ذخیرے پر یوں بیٹھتے ہیں ، جیسے کُڑک مُرغی انڈوں پر بیٹھتی ہے  اور اس طرح اپنے مال کی حفاظت کتے ہیں کہ  کسی کو اپنے سونے کے ذخائر کی ہوا تک نہیں لگنے دیتے ۔ جب کہ آسامنوں سے واشگاف کہلوایا گیا ہے کہ:

جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اُس کو خُدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے  اُن کو عذابِ الیم کے دن کی خبر سنا دو۔ (التوبہ ۴۳)

مگر مذہب اِس عہد میں باتوں کے سوا ہے ہی کیا؟ لوگوں کی حالت یہ ہے کہ کہ وہ مساجد میں بیٹھے ہوں یا یونیورسٹیوں میں ،  نہ خُود آگاہ ہیں نہ خُدا آگاہ۔  وہ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ اُن کی اوقات کیا ہے۔  اور وہ کس کام اور منصب کے اہل ہیں  اور اُنہیں کس قابل ہونا چاہیئے۔ اس لیے خُود سے بیگانہ  لوگوں کے اسلام  کو قبول کرنے کا عمل  اور اقرار  بے بضاعت ہوتا ہے اور وہ اِس لیے  کہ اسلام اُن کو قبول نہیں کرتا۔  ایسے لوگ دین سے وابستہ ہو کر بھی  نا وابستہ رہتے ہیں ۔  وہ خطبات اور تقریروں کے ڈھیلے ڈھالے  رسے پر  چلتے ہوئے مسلسل لڑکھڑاتے  رہتے ہیں  اور پل میں تولہ ہوتے ہیں اور اگلے پال ماشہ۔  ایسے لوگوں کی مذہب سے وابستگی بے معنی ہوتی ہے وہ مذہب میں رہیں یا نہ رہیں  اُن کا ہونا یا نہ ہونا یکساں ہوتا ہے۔  ہر شخص جانتا ہے کہ ہر بچہ  دینِ فطرت پر پیدا ہوتا ہے  مگر کلمہ پڑھ کر پیدا نہیں ہوتا بلکہ اُس کے کان میں اذان کہہ کر اُسے اسلام میں داخل کرلیا جاتا ہے  لیکن یہ کافی نہیں ہوتا:

خرد نے کہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل

دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ دین کو پوری لگن ے سمجھے  اور یہ سمجھنا آیات کا رٹنا اور احادیث کو زبانی یاد کر کے  بیان کرنا نہیں  کیونکہ  ایمان ایک وجودی اور  اور باطنی کیفیت ہے  جس میں فرد تغیر کے مراحل سے گزر کر مٹّی سے کندن بن جاتا ہے۔ مولانا روم نے فرمایا ہے:

بوسہ زن  بر آستانِ کاملے

کیمیا پیدا کُن از مُشتے گِلے

مٹی کی مٹھی کو کیمیا بنانے کے لیے کسی کامل کے آستاں پر بوسہ دینا ہوتا ہے اور وہ کامل ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور بوسہ زنی زبانی قول نہیں عملی اقدامات کا نظام ہے۔  لیکن موجودہ  معاشرتی صورتِ حال میں کوئی فرد جو خُود کو نہیں جانتا  مذہب سے رشتہ استوار کر ہی نہیں سکتا۔  یہ اُس کے بس کی بات ہی نہیں۔ چنانچہ جو لوگ  یہاں  مذہب،  مدینے کی ریاست  اور قرآن اور شریعت  مطابق قوانین کی بات کرتے ہیں، وہ حقیقت میں اسلام کے باطنی ہجے کرنا جانتے ہی نہیں۔ چنانچہ ایسے سیکنڈ ہینڈ مسلمانوں ایک دوسرے سے اخوت کا رشتہ نہیں ہوتا  بلکہ ان کا سماجی رشتہ فریب، دھوکے  اور منافقت کا ہوتا ہے  اور منافقت صرف فکری اور عملی انتشار کو جنم دیتی ہے ،  جس میں ایک بہتر سالہ بوڑھی قوم اپنے جنم دن سے ہی مبتلا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ملک جسے پاکستان کہتے ہیں ، بہتر برس میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہی نہیں ہوسکا۔ اور وہ اس لیے کہ اس دو قومی نظریے پر استوار مُلک میں کئی قومیں آباد ہیں  جن کا اپنا اپنا پاکستان ہے۔ 

ایک قوم کے لیے یہ ملک فوجستان ہے، دوسری قوم کے لیے فاقستان ہے،  تیسری قوم کے لیے شریفستان  ہے اور چوتھی  قوم کے لیے بی بی استھان ہے،  پانچویں قوم کے لیے حلوستان ہے  اور جو خطِ غُربت سے نیچے رہ رہے ہیں اُن کے لیے گورستان ہے ۔  اور اس ارضی سچائی کے باوجود ایسے سادہ لوح لوگ بھی موجود ہیں  جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر بشارتیں سناتے رہتے ہیں کہ  نظریہ  پاکستان کی دستاویز پر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہرِ تصدیق درج ہے ۔  اگر ایسا ہے تو  اُس دستاویز میں بنگلہ یش کا بھی ذکر رہا ہوگا  جسے یہ مکتبی طوطے پڑھ نہیں پائے  اور مُلک کی حالت یہ ہے کہ  معاشرتی خلفشار  اور سیاسی انتشار نے پوری قوم کو حنوط کر کے  مصری عجائب گھر میں پڑی حنوط شادہ لاشوں میں تبدیل کردیا ہے  اور لاش کا کیا ہے۔ وہ دوسری لاش کو کہاں دیکھ سکتی ہے ۔ اس صورتِ حال میں انتشار کا عذاب طاری ہے  اور اسے کہتے ہیں کہ ایک قوم فنا فی الانتشار ہے۔ اسی لیے اقبال کہ رہے ہیں:

وطن کی فکر کر ناداں مُصیبت آ چکی کب کی

تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

مگر یہ بربادی جعلساز حکمران طبقوں اور جعلی جمہوریت کے  علمبرداروں کی  ہے، پاکستان کے غریب عوام کی نہیں۔  اب بہتر خاندانوں کی ایلیٹ جمہوریت ختم ہوئی، بہتر فرقوں کا ٹُکڑ ا ٹُکڑا اسلام  نابود ہوا،  بہتر حوروں کے عشاق علماء  رد کر دیے گئے  بہتر دانشوروں کا علمی سرمایہ غارت ہوا  اور بہتر گروہوں میں پاکستانی قوم کو ہوش آ گئی ۔ بہتر بڑھاپے کا عدد ہے۔ ریٹائرمنٹ کا نمبر ۔  اب پاکستان کو خلقِ جدید کی ضرورت ہے۔ مبارک ہو کہ ایک نئی پاکستانی قوم کا  ظہور ہونے کو ہے۔  کیونکہ آسمانوں سے نوید سنائی دے رہی ہے کہ:

اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ  جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں، اُن پر احسان کریں  اور اُن کو پیشوا بنائیں۔  (القصص۔۵)