ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت کا اختتام، وائٹ ہاؤس سے فلوریڈا روانہ ہوگئے
- بدھ 20 / جنوری / 2021
- 6300
امریکہ کے 45 ویں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی صدارت کی مدت ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل اپنی اہلیہ کے ہمراہ وائٹ ہاؤس سے فلوریڈا روانہ ہو گئے ہیں۔
بدھ کی صبح صدر کا سرکاری ہیلی کاپٹر میرین ون صدر ٹرمپ اور اُن کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کو لے کر میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز فوجی ہوائی اڈے پہنچا۔ ہوائی اڈے سے صدر ٹرمپ صدارتی طیارے 'ایئر فورس ون' کے ذریعے فلوریڈا میں اپنے ریزورٹ کے لیے روانہ ہو گئے جہاں وہ وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد آئندہ کچھ ہفتوں تک قیام کریں گے۔ جوائنٹ بیس اینڈریوز پر صدر ٹرمپ کے استقبال کے لیے ان کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ، داماد جیرڈ کشنر، صاحبزادے ایرک ٹرمپ، بیرن ٹرمپ اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر بھی موجود تھے۔
ہوائی اڈے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں شامل کئی عہدیدار اور مشیر بھی اُنہیں الودع کہنے کے لیے موجود تھے۔ ہوائی اڈے پہنچنے پر سبکدوش ہونے والے صدر کو توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔ واضح رہے ٹرمپہ نے جو بائیڈن کی تقریب حلف برداریمین شریک ہونے سے انکار کیا ہے۔
اس موقع پر اپنے حامیوں سے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے اس چار سال کے عرصے میں بہت سے اہداف حاصل کیے۔ ہم نے فوج کی تنظیمِ نو کی، ٹیکسوں میں کمی کی اور اصلاحات کیں۔ اُنہوں نے پھر کہا کہ میں نے ساڑھے سات کروڑ ووٹ حاصل کیے جو تاریخ میں کسی صدر نے حاصل نہیں کئے۔
اُن کا کہنا تھا کہ نئی امریکی انتظامیہ کو ایک مضبوط بنیاد ملی ہے جسے مزید مضبوط کرکے وہ امریکہ کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ اُن کے دورِ صدارت کے دوران روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا اور اسٹاک مارکیٹ میں عالمگیر وبا کے باوجود تیزی کا رُحجان رہا۔ ہم نے ویکسین کے معاملے پر معجزہ کیا اور پانچ، دس یا کئی برسوں کے بجائے صرف نو ماہ میں ویکسین تیار کی اور اب یہ امریکی عوام کو لگائی جا رہی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے اہلِ خانہ، دوستوں اور امریکی عوام کا تعاون حاصل تھا جس پر انہوں نے ان سب کا شکریہ بھی ادا کیا۔ اس موقع پر میلانیا ٹرمپ نے بھی حاضرین سے مختصر خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی خاتونِ اول بننا، اُن کے لیے بڑے اعزاز کی بات تھی جس پر وہ امریکی قوم کی شکر گزار ہیں۔
امریکی روایات کے برخلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے صدر جو بائیڈن کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی لیے وہ بائیڈن کی حلف برداری سے صرف چند گھنٹے قبل فلوریڈا روانہ ہو گئے۔
صدر ٹرمپ نے تین نومبر کے انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرتے ہوئے نو منتخب صدر جو بائیڈن کو انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد بھی نہیں دی تھی۔ صدر ٹرمپ کا اصرار رہا تھا کہ تین نومبر کے انتخابات میں ووٹرز فراڈ اور بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی۔ تاہم امریکی عدالتوں نے صدر اور اُن کے حامیوں کے انتخابی دعووں کو مسترد کر دیا تھا۔