نئے دور کا آغاز ہوچکا، تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں: وزیراعظم

  • بدھ 20 / جنوری / 2021
  • 4110

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان مشکلات سے نکل رہا ہے۔ نیا  انصاف کا دور شروع ہورہا ہے۔

جنوبی وزیرستان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا یہاں ہمیشہ لوگوں نے اپنی آزادی کے لیے جنگ لڑی اور انگریزوں کے خلاف محسود علاقوں نے سب سے زیادہ جنگ لڑی۔ جب کشمیر میں ظلم ہو رہا تھا، یہاں سے لوگ گئے اور انہوں نے جان کی قربانی دی۔ یہ علاقے پاکستان کے دیگر علاقوں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ قبائلی علاقے اور بلوچستان کے علاقے بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔

یہاں ترقیاتی کاموں کے لیے بہت زیادہ پیسوں کی ضرورت ہے کیونکہ علاقے بڑا ہے اور مسائل زیادہ ہیں۔ تعلیم کے مسائل ہیں، ہسپتال بنانے ہیں اور ایک ہسپتال 2016 سے زیرتعمیر تھا جو اب مکمل ہوا ہے۔ ان علاقوں میں کوئی بھی آپ سے وعدہ کرے کہ میں آپ کے مسئلے حل کردوں گا تو وہ آپ سے سچ نہیں بولتا۔ آپ کے حالات مشکل ہیں۔

اگر ایک علاقہ 70 سال سے پیچھے رہ گیا ہے تو یہ امید نہ لگانا کہ دو سال میں ایک دم انقلاب آئے گا، میں آپ سے سچ بولوں گا اور میں کوئی ایسا وعدہ نہیں کروں گا جو پورا نہ کرسکوں۔ لوگ مجھے کہتے ہیں کدھر گیا نیا پاکستان اور مدینے کی ریاست کہاں گئی۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ اسلام کی تاریخ پڑھیں مدینہ ریاست بننے میں وقت لگا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں جدوجہد ہورہی ہے۔ پاکستان میں اس انقلاب کی شروعات تو ہوچکی ہیں۔ جب ایک معاشرے کے بڑے بڑے ڈاکو سب اکٹھے ہوجاتے ہیں اور حکومت کہتی ہے میں نے این آر او نہیں دینا تو مسائل پیدا ہوتے ہین لیکن اس سے ریاست نیچے جاتی ہے۔  وزیراعظم نے کہا کہ جب ایک ملک کے اندر بڑے بڑے ڈاکو ملک کی سربراہی کرتے ہیں تو وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا اور خوش حال نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم مشکل حالات سے نکل رہے ہیں۔ آج پاکستان پر تاریخی قرضے چڑھے ہوئے ہیں اور ہم اس سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملک کو صحیح راستے پر لے کر آرہے ہیں۔ قانون کی بالادستی کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرتا جہاں طاقت ور کے لیے ایک قانون اور کمزور کے لیے دوسرا قانون ہو۔ ہمارے لیے ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے۔ لیکن اصلاحات تکلیف دہ ہوتی ہیں۔