جو بائیڈن نے امریکہ کے 46 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا
- بدھ 20 / جنوری / 2021
- 5960
جو بائیڈن نے بدھ کو امریکہ کے 46ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ ہیرس امریکہ کی پہلی خاتون نائب صدر بن گئی ہیں۔ صدر بننا بائڈن کے طویل سیاسی کیریر کا نقطہ عروج ہے۔ کاملا ہیرس امریکہ کی نائب صدر بننے والی پہلی خاتون ہیں۔
صدر اور نائب صدرکی حلف برداری کی تقریب کورونا وائرس سے بچاؤ کی وجہ سے امریکی آن لائن یعنی ورچول رکھی گئی تھی۔ اس موقع پر دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں سیکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر ہائی الرٹ تھا کیونکہ دو ہفتے قبل سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے کانگریس کی عمارت پر ایک ایسے وقت میں حملہ کیا تھا، جب کانگریس کے اراکین جو بائیڈن کی تین نومبر 2020 کے انتخابات میں کامیابی کی توثیق کر رہے تھے۔
ٹرمپ روایات کے برعکس نئے صدر بائیڈن کی افتتاحی تقریب میں شریک نہیں ہوئے اور بدھ کی صبح اپنا دور اقتدار ختم ہونے سے کچھ گھنٹے قبل ہی وائٹ ہاوس سے فلوریڈا کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔ سابقہ نائب صدر مائیک پینس افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے۔ سابق صدر ٹرمپ نے جو بائیڈن کی الیکشن میں کامیابی کو تسلیم نہیں کیا اور ان کا کہنا ہے کہ الیکشن میں بڑے پیمانے پر گڑبڑ ہوئی تھی۔ تاہم وہ عدالتوں میں اپنا دعویٰ ثابت نہیں کر سکے۔
امریکی صدر کی تقریبِ حلف برداری کے موقع پر کیپٹل کمپلیکس اور واشنگٹن یادگار کے درمیان نیشنل مال عموماً لوگوں سے بھرا ہوتا ہے۔ لیکن اس بار کورونا وائرس کی وجہ سے لگ بھگ ایک ہزار مہمانوں کو ہی تقریب میں مدعو کیا گیا تھا۔ تقریب کے دعوت نامے حاصل کرنے والوں میں بیشتر کانگریس کے ارکان اور دیگر نمایاں شخصیات تھیں۔
تقریب میں بائیڈن کی اہلیہ جل بائیڈن، نائب صدر کاملا ہیرس کے شوہر ڈگلس ایمہوف، سابق صدر باراک اوباما، ان کی اہلیہ مشیل اوباما، سابق صدر جارج ڈبلیو بش اور ان کی اہلیہ لارا بش، سابق صدر بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ و سابق وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے شرکت کی۔
ڈیموکریٹ جو بائیڈن کی صدرارت کا ٓغاز ان کے طویل سیاسی کیرئر کا نقطہ عروج ہے۔ وہ سابق صدر باراک اوباما کے دور میں آٹھ سال تک امریکہ کے نائب صدر رہے۔ اس سے قبل انہوں نے کئی سال بطور سینیٹر امریکی کانگرس میں قانون ساز رہے۔ حالیہ دنوں میں کورونا بحران اور سیاسی کشمکش کے تناظر میں بائیڈن نے امریکی عوام سے سے کہا تھا کہ ان کی ترجیحات میں امریکہ کی روح کو بحال کرنا، ملک کو اکٹھا کرتا ہے اورایک روشن مستقبل کا راستہ تشکیل دینا ہے۔
ڈیموکریٹک حکام کے مطابق جو بائیڈن ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کو بدلنے کا اعلان کریں گے۔ باِئیڈن کے ٹرانزیشن آفیشلز کے مطابق صدر بننے کے پہلے دن بدھ کے روز جو بائیڈن امریکہ میں رہنے والے 11 ملین "ان ڈاکومینٹڈ امیگرینٹس" کو آٹھ سال میں امریکی شہری بننے کا موقع فراہم کرنے اور مہاجرین اور پناہ گزینوں کے لیے پروگراموں کی بحالی اور ان کی توسیع کے بل کی تجویز دیں گے.
حلف اٹھانے کے بعد جو بائیڈن نے امریکی صدر کے باضابطہ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اپنی پہلی ٹویٹ میں عہد کیا ہے کہ وہ ’امریکی خاندانوں کی مشکلات آسان کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں گے’۔ حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب میں جو بائیڈن نے کہا کہ وہ اس خانہ جنگی کا خاتمہ چاہتے ہیں ’جو لال اور نیلے کو ایک دوسرے سے لڑواتی ہے۔‘
رپبلکن پارٹی کے ڈونلڈ ٹرمپ کے چار سال کا دور اقتدار کافی ہنگامہ خیز رہا اور انتخاب میں واضح شکست کے باوجود انہوں نے مسلسل اسے ماننے انکار کیا اور کہا کہ ان کے خلاف سازش ہوئی ہے۔ وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد اپنے الوادعی کلمات میں سابق صدر ٹرمپ نے آنے والی انتظامیہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا لیکن بائیڈن اور کملا ہیرس کا نام لینے سے اجتناب کیا۔ 1869 کے بعد وہ پہلے صدر ہیں جس نے نو منتخب صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت نہیں کی۔ تقریب سے قبل وہ فلوریڈا روانہ ہو گئے جہاں وہ رہائش اختیار کریں گے۔