تماشا دکھا کر مداری گیا
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 21 / جنوری / 2021
- 8570
قومی حوالے سے آج کالم تو بنتا تھا فارن فنڈنگ کیس پر اور اس سلسلے میں ہمارے کمزور الیکشن کمیشن نے گزشتہ سات سالوں سے جو وتیرہ اپنائے رکھا ہے اس کا محاکمہ ہونا چا ہئے ۔ اس کے ساتھ ہی براڈ شیٹ کیس نے رہتی کسر نکال دی ہے جس نے سوائے نیوی چیف منصورالحق کی سبمیرین ڈیل کے یا شیرپاؤ والی انجنرنگ کے، کیا حاصل کیا ؟
جب ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوں تو پھر حاصل یہی کچھ ہوتا ہے۔ کرپشن کے نام پر گندا پروپیگنڈہ اچھال کر واحد مقصد سیاست دانوں کی بدنامی ہو تو پھر رزلٹ وہی آنا تھا جو برطانوی عدالت کے فیصلے میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے، ماقبل ریکوڈک کیس سے کیا حاصل ہوا؟ ابھی طیارہ لیز کیس پر جہاں بھر میں ہماری رسوائی کیا کم ہوئی ہے ؟ قومی ایشوز پر چینی مافیا کیسز اٹھالیں یا رانا ثناءاللہ پر پندرہ کلو ہیروئن ڈالنے کا کیس یا اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کیلئے قائم کئے گئے بیسوں کیسز ، جھوٹ سے کراہت آتی ہے او ر سچ پر مشکلات ہی مشکلات ہیں۔ بہتر ہے اپنا سارا غم وغصہ امریکی صدر ٹرمپ پر نکال لیا جائے۔
سب جانتے ہیں کہ زندگی کی طرح اقتدار بھی عارضی چیز ہے بڑے بڑے مقتدر آئے جو خود کو فرعون، سٹالین، مسولینی یا ہٹلر جیسی ذہنیت کا مالک و وارث خیال کرتے تھے۔ اپنے تئیں سمجھتے تھے کہ وہ ناگزیر ہیں ان کا متبادل کوئی نہیں یا لانے والوں کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں۔ مگر جب گئے ہیں تو زبان خلق سے یہ آواز اٹھی ’’خس کم جہاں پاک ‘‘۔ خود پسندی ایک ایسی بیماری ہے جس کا شکار کوئی بھی مریض اپنے تئیں یہ خیال کرتا ہے کہ وہ دنیا میں انوکھا شخص پیدا ہوا ہے۔ اس جیسا کوئی اور نہیں ہے۔ وہ بہت اونچا ہے اس کے ارد گرد والے سب نیچے یا بونے ہیں ۔ اس لئے اس کا یہ حق ہے کہ دوسرے سب لوگ اس سے دبک کر رہیں۔ خود نمائی وخودستائی کی یہ ذہنیت بعض اوقات مواقع نہ ملنے کی وجہ سے دبی رہتی ہے ۔ دنیا میں ہٹلر ایک اکیلا اس بیماری کا شاہکار پیدا نہیں ہوا ہے۔ اگر آپ غور فرمائیں تو آپ کے گردونواح میں بہت سے چھوٹے چھوٹے ہٹلر چلتے پھرتے نظر آئیں گے مگر ان کا بس نہیں چلتا ہے بس چلے تو وہ جرمنی اور اٹلی والے کا ریکارڈ یہاں پاکستان میں بھی توڑ دیں۔
درویش نے کوئی چار برس قبل ایک آرٹیکل لکھا تھا ’’سیاست کے تھری ایڈیٹس‘‘۔ یعنی تین ’’زیادہ سیانے ‘‘۔ جن میں سے ایک تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صاحب تھے جو ابھی رخصت ہو ۓ ہیں اور آج کا کالم انہی کے نام منسوب ہے کہ ’’تماشا دکھا کر مداری گیا ‘‘۔ دوسرے بھائی صاحب ہماری ہمسائیگی میں ہی پائے جاتے ہیں جنہوں نے ہمارے برعکس اپنےملک کیلئے کئی کامیابیاں یا ’’بہتریاں‘‘ بھی کی ہیں لیکن اپنی اپوزیشن یا اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف وتیرہ ان کا بھی ٹرمپ جیسا ہی رہا ہے ۔ خودپسندانہ اور جعلی اکڑ فوُں کی ذہنیت ماشا اللہ تینوں کی ایک جیسی ہے لیکن اس تیسرے کردار یا ڈرامے کا نام ہم ہرگز نہیں لے سکتے۔ کیونکہ پہلے ہی مسائل کیا کم ہیں جو مزید بڑھاوا دیا جائے۔ امید ہے سمجھنے والے اپنی ذہانت سے خود ہی سمجھ جائیں گے کیونکہ ایک خربوزے کو دیکھ کر دوسرے خربوزے کا اندازہ ہو جاتا ہے ۔
ہمارے یہاں بہت سے لوگ ہیں جو اپنی گندگی کو کمتر یا ہلکا ثابت کرنے کے چکر میں دوسروں کی طرف ایک نہیں پانچوں انگلیاں اٹھاتے ہوئے گویا ہوتے ہیں کہ بھائی صاحب اسٹبلشمنٹ کا رول ہر جگہ ایسے ہی ہوتا ہے۔ آپ پینٹاگون کو نہیں دیکھتے وہ کیا کچھ کرتی پھر رہی ہے جب پوچھا جائے کہ ان کا کوئی ایک اقدام واضح فرمائیں جو ماورائے آئین ہو تو پھر ادھر ادھر کی الزامات تراشیاں شروع کر دیں گے۔ چھ جنوری کو امریکہ میں جو کچھ ہوا وہ بلاشبہ قابل افسوس ہے لیکن یہ امر ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہئے کہ اس میں امریکی اسٹبلشمنٹ کا رول بہرصورت قابل ستائش قرار دیا جائے گا اور یہی امریکی جمہوری نظام کی عظمت ہے۔ لال بجھکڑیا ڈرامے باز امریکہ جیسی عظیم الشان جمہوریت میں بھی داخل ہو سکتے ہیں لیکن یہ امریکی آئینی جمہوری اور سیاسی سسٹم کی مضبوطی و پائیداری پر استوار بنیادیں ہیں جو ازخود ایسے ڈرامے کو اگل دیتی ہیں۔ کوئی غیر ذمہ دار مسخرہ ان بنیادوں کو پامال نہیں کر سکتا ۔
ان چار برسوں میں بلاشبہ ایک زیادہ سیانے شخص نے امریکی عظمت کو داغدار کیا اس کی جمہوری پہچان پر چوٹیں لگائیں دوستیاں کم اور دشمنیاں زیادہ بڑھائیں۔ اپنے لاابالی پن سے امریکی صدر کو ایک مسخرے اور جوکر کے طور پر پیش کیا اگرچہ کئی مثبت اقدامات بھی اٹھائے۔ لیکن اس کی نسل پسندانہ سوچ اور عالمی ذمہ داریوں سے دستبرداری نے امریکی وقار کو جتنا بھی نقصان پہنچایا وہ سب قابل اصلاح و مرمت ہے ۔
نومبر کے انتخابی پراسس پر اس نے جو بھی کالک پھینکی خود وقت اور امریکی عوام نے اسے صاف کر دیا۔ اس کے بعد اگر اس میں کچھ بھی انسانی بڑائی ہوتی تو وہ اعلیٰ امریکی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے نہ صرف اپنے حریف نومنتخب صدر جوبائیڈن کو مبارکباد پیش کرتا بلکہ بھاری طبیعت کے ساتھ بھی اس کی تقریب حلف برداری میں شریک ہوتا۔ یوں150سال بعد ناپسندیدہ حرکت نہ ہوتی۔ جمی کارٹر جیسے زبردست صدر نے بوجوہ اپنی اگلی ٹرم نہ ملنے کے باوجود بھیگی آنکھوں کے ساتھ نو منتخب صدر ریگن کو مسکراتے ہوئے مبارکباد پیش کی تھی لیکن یہ جگرا پیدا ہونے کیلئے جمی کارٹر جیسا بلند ذہن و شعور اور اعلیٰ ظرف بھی ضروری ہے ۔ اس تلخ نوائی کے ساتھ یہ بے انصافی ہو گی اگر صدر ٹرمپ کی بیوی، بیٹی اور داماد جیرڈکشنر کی اعلیٰ کارکردگی پر حرف ستائش نہ بولا جائے جنہیں دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ ٹرمپ کی فیملی ہیں۔
درویش کا گمان ہے کہ ایک عرصے تک صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اگلی ایک ٹرم کیلئے جلتے بھنتے رہیں گے لیکن وہ آئندہ کیلئے اپنی تمامتر چمک کے باوجود ریپبلکن سے نامزدگی حاصل کرنے سے قاصر رہیں گے۔ بہتر ہو کہ وہ اپنے کئی اقدامات بشمول 6جنوری والے واقعہ پر قوم سے معافی مانگتے ہوئے قومی یکجہتی کیلئے ہر نوع کی منافرت سے قطع تعلقی کا اعلان کریں۔ اور امریکی صدر جوبائیڈن نہ صرف ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے خلاف بلکہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مخالفت میں آواز بلند کرتے ہوئے غلط پالیسیوں کی تطہیر کریں۔ جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے یقیناً نائب امریکی صدر کملا دیوی ہیرس کو دوہری مبارکباد پیش کریں گے۔ نومنتخب ڈیموکریٹس گورنمنٹ حسب روایت نہ صرف امریکی عوام کیلئے بلکہ دنیا بھر کے مظلوم عوام کیلئے نئی امیدوں کے ساتھ نئی صبح کا آغاز کرے گی اور امریکہ عالمی امن، انسانی حقوق ، جمہوریت، حریت فکر اور آزادی اظہار کیلئے اپنی عالمی ذمہ داریوں سے انحراف نہیں کرے گا۔