آزاد کشمیر میں ریاستی غیر ریاستی کی بحث
ہم نے جب آنکھ کھولی تو پٹھانوں کو بنا کسی اجازت اور پرمٹ کے آزاد کشمیر میں کام اور کاروبار کرتے دیکھا۔ مقامی لوگوں کے رویے پٹھانوں کے ساتھ بڑے ہمدردانہ تھے جس کی وجہ سے ہٹھانوں نے بھی خود کو کبھی آزاد کشمیر میں اجنبی نہ سمجھا۔
پٹھانوں کے ساتھ آزاد کشمیر میں ہمدردی کے عنصر میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب سابق سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا۔ افغان مہاجرین کی تعداد میں فوری اضافہ ہو گیا۔ مقامی لوگوں نے افغانوں کو اسی طرح گلے لگایا اور اہنے گھروں میں پناہ دی جس طرح بھارتی مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آنے والوں کو دی جاتی تھی۔ ہمارے اپنے ذاتی گھر میں بھی ایک طویل عرصہ تک ہٹھان رہے ہیں۔ 1979 میں جب میں ہالینڈ گیا تو افغان جنگ زوروں پر تھی اور آزاد کشمیر میں افغانوں کی آمد پر بھی دن بدن اضافہ ہورہا تھا۔
یورپ جانے کے چار سال بعد میں بھارتی سفارتکار مہاترے کیس میں گرفتار ہو گیا ۔ 22 سال قید رہا۔ بیرون ملک گزرنے والا کل عرصہ 26 بنتا یے۔ جب واپس آیا تو آزاد کشمیر میں ریاستی غیر ریاستی سوچ عروج پر تھی اور میں نے یورپ جاتے وقت افغانوں کے لیے آزاد کشمیر میں جو یمدردیاں اور محبتیں دیکھیں تھیں، وہ اب نفرتوں عداوت اور خوف میں بدل چکی تھیں۔ ایک سیاسی و تحریکی کارکن اور نفسیات دان جس کا بنیادی کام انسانوں اور معاشروں کے مسائل اور رویوں کو سمجھنا ہوتا ہے کی حیثیت سے میں نے آزاد کشمیر میں افغانوں کے ساتھ بدلتے ہوئے رویوں اور ریاستی غیر ریاستی سوچ پیدا ہونے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیق شروع کی۔ میری تحقیق کا نتیجہ یہ ہے کہ آزاد کشمیر جو پہلے ہی پاکستانی افسران کے شکنجے میں تھا جن کا رویہ وائسرائے ہند سے بھی زیادہ جارحانہ و متکبرانہ ہے، اس کی سیاسی اقتصادی اور جغرافیائی ہیت بدلنے کے لیے پاکستان کی فیڈرل ایجنسیوں کو اتنی کھلی چھٹی دے دی گئی کہ وہ آزاد کشمیر کی انتظامیہ کو بائی پاس کر کے مقامی لوگوں کی زندگیوں میں بے جا مداخلت کرتی ہیں۔ اس کے لیے وہ افغانوں کو مقامی لوگوں کی جاسوسی پر مجبور کرتی ہیں۔ افغان اگر تعاون نہ کریں تو انہیں آزاد کشمیر بدری کے نوٹس ملنے شروع ہو جاتے ہیں۔
میں چونکہ خود پردیس میں رہا ہوں جس کی وجہ سے میں اپنے وطن میں آنے والے ہردیسیوں کے ساتھ پہلے سے بھی زیادہ ہمدردی رکھتا تھا۔ یہاں تک کہ جب افغانوں کو آزاد کشمیر بدر کیا جانے لگا تو ہم نے مقامی انتظامیہ سے احتجاج کیا جس نے کہا یہ سب کچھ پاکستانی حکومت کر رہی ہے۔ جس پر میں نے کہا کہ پاکستان ان افغانوں کو یہاں لایا بھی غیر قانونی طور پر اور اب نکالا بھی غیر قانونی طور ہر جارہاہے۔ اس کے لیے کوئی طریقہ کار وضع کیا جائے جو آج تک نہ ہو سکا۔ ہوا صرف یہ ہے کہ من پسند غیر ریاستی باشندوں کو جعلی ریاستی باشندہ سرٹیفکیٹ دلوا کر ان سے ناجائز کام لیے جاتے ہیں جس کی ایک تازہ مثال ڈڈیال جھنڈا کیس ہے۔ اس میں غیر ریاستیوں کو مختلف کاموں کے لیے استعمال کرنے کے علاوہ جھنڈا کیس میں گرفتار برطانوی کشمیری صحافی و محقق راجہ تنویر احمد کے خلاف عدالت میں یہ جھوٹی گواہی دلوانا ہے۔ کہ اس نے پاکستانی جھنڈے کو اپنے ہائوں تلے روندا جبکہ دنیا بھر میں دیکھی جانے والی ویڈیو سے ثابت ہے کہ تنویر نے صرف جھنڈا اتارا ہے، اس کی توہین نہیں کی۔
ریاستی غیر ریاستی بحث کی دوسری وجہ آزاد کشمیر کا اپنا وہ سیاسی بکاؤ مال ہے جو اقتدار کی خاطر غیر ریاستی سیاست در آمد کرنے کی دوڑ میں سب سیکورٹی رسک بن گیا ہے۔ غیر ریاستی سیاست مسئلہ کشمیر پر بہت منفی اثرات مرتب کررہی ہے۔ یہ ایک مضحکہ خیز سوچ ہے کہ جموں کشمیر میں ہندوستان اور پاکستان کی سیاسی جماعتیں قائم کر کے ان کی ذریعے جموں کشمیر آزاد کرائیں گے ۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا زندہ رہنا ضروری ہے ورنہ بھارت کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔ ہمیں آر پار غیر ریاستی سیاست کی حوصلہ شکنی کر کے ریاستی بیانیہ پروان چڑھانا چاہئے۔ تاکہ دنیا ہماری حمایت کرے۔
جہاں تک ازاد کشمیر میں افغان مہاجرین کا تعلق ہے انہیں بھی غور کرنا ہو گا کہ انہوں نے مقامی لوگوں کی ہمدردیاں کیوں کھوئی ہیں ۔ میں ذاتی طور پر ہر اس شخص کے شہری حقوق کا حامی ہوں جو کسی خطے میں پیدا ہوتا ہے لیکن جموں کشمیر کے مستقبل کا چونکہ ابھی فیصلہ ہونا باقی یے، اس لیے غیر ریاستی کو ریاستی سرٹیفکیٹ جاری کرنا درست نہیں۔ پاکستانی اداروں کو بھی آزاد کشمیر میں بے جا مداخلت کر کے نفرتیں پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور آزاد کشمیر انتظامیہ کو بھی اپنی کمر سیدھی کر کے کسی بھی غیر ریاستی ادارے اور فرد کو مقامی لوگوں کی زندگیوں میں مداخلت کرنے اور انہیں یراساں کرنے سے روکنا ہو گا۔
عوام آزاد کشمیر کی انتظامیہ کے اس موقف پر برہم ہیں کہ فیڈرل ایجنسیاں ہمارے کنٹرول میں نہیں۔ جو انتظامیہ عوام کی جان و مال اور حقوق کی ذمہ دار نہیں، اس کا اپنا وجود بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔