قرآن شریف کی عظمت احادیث کی روشنی میں

قرآن مجید کی عظمت اور تاثیرکے لئے صرف یہ حقیقت کافی ہے کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے۔  پیارے نبیؐ پر فرقان نازل ہوا۔  قرآن شریف کے بعد کوئی بھی آسمانی کتاب نازل نہیں ہوگی۔  خدا نے چاہا تو الکتاب المبین قیامت تک ہماری رہنمائی کرتی رہے گی۔ 

قرآن پڑھتے وقت بندہ اپنے رب سے گفتگو کرتا ہے۔  تلاوت کے دوران فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔  شیطان مردود دور بھاگ جاتا ہے۔  گھر میں برکت آتی ہے۔  نماز میں بھی قرآنِ کی تلاوت کی جاتی ہے۔ بلاشبہ قرآن پاک کی برکتیں لامحدود ہیں۔  اس مضمون میں قرآن مجید سے متعلق چند احادیث کو یکجاکرنے کی کوشش کی گئی ہے۔  ہم اللہ کی اس عظیم کتاب کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔  دعا ہے کہ ربِ دوجہاں ہماری اس کوشش سے خوش ہوکر ہمیں نیک اجر عطا فرمائے گا۔  آمین۔

قرآن کی فضیلت بخاری شریف کی اس حدیث سے معلوم پڑتی ہے کہ حضرت عثمانؓ سے روایت ہے کہ رسول ؐ نے فرمایا:’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور دوسروں کو پڑھائے۔‘ قرآن پڑھنے کے لئے ہمیں انعامات سے نوازا جاتا ہے۔  عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول ؐ فرماتے ہیں:’جو شخص قرآن پاک کا ایک حرف پڑھے اس کو دس نیکیوں کے برابر نیکی ملتی ہے۔  خیال رہے کہ ’الم‘ ایک حرف نہیں بلکہ الف، لام اور میم تین حروف ہیں۔  گویا تین نیکیاں مل جاتی ہیں۔‘(بحوالہ صحیح الترمذی شریف)۔

اللہ کی کتاب پڑھنے کے لئے جمع ہونے کی بھی بڑی فضیلت ہے۔  صحیح مسلم شریف میں ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ؐ فرماتے ہیں: ’جب لوگ اللہ کے گھر میں، اس کی کتاب پڑھنے کے لئے یا آپس میں ا س کا مطالعہ کرنے کے لئے جمع ہوتے ہیں، اس پر سلامتی نازل ہوتی ہے، رحم ا ن کو گھیر لیتا ہے اور فرشتے ان کے چاروں طرف ہوتے ہیں اور اللہ اپنی  بارگاہ میں ان کا ذکر کرتا ہے۔‘ قرآن شریف کو اکثر پڑھنے میں فائدہ ہے۔  ابو موسیٰ الشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسولِ پرنورؐ نے فرمایا: ’قرآن پڑھا کرو کیونکہ جس کے ہاتھ میں میری روح ہے،  اس کی قسم، جس طرح رسی چھوٹتے ہی اونٹ بھاگ جاتے ہیں اس سے زیادہ تیز قرآن دور چلا جاتا ہے۔  یعنی قرآن بھلایا جاتا ہے۔‘(بحوالہ صحیح مسلم شریف)

قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال صحیح البخاری اور صحیح مسلم کی اس حدیث سے معلوم پڑتی ہے۔ ابو موسیٰ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے سنگترے کی سی ہے جس کی خوشبو بھی اچھی ہے اور ذائقہ و مزہ بھی اچھا ہے اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اس کھجور کی سی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہے اور مزہ میٹھا ہے۔  اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے خوشبودار پودے کی ہے جس کی بو، مہک تو اچھی ہے مزہ کڑوا ہے۔ اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا ہے اندرائن کی طرح ہے جس کی بو اچھی نہیں اور مزہ بھی اچھا نہیں۔

یہ الہامی کتاب اللہ کی سخاوت کی مثال ہے کیونکہ نہ صرف قرآن کو روانی سے پڑھنے والے کوانعام ملتا ہے بلکہ قرآن کو مشکل سے پڑھنے والے کے لئے بھی انعام مختص ہے۔  صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے مطابق حضرت  عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’جو روانی سے قرآن کی تلاوت کرتا ہے وہ فرشتوں کی صحبت میں ہوگا اور جو اٹک اٹک کر یعنی مشکل سے قرآن پڑھتا ہے اس کے لئے دوگنا ثواب ہے‘۔حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ سیدنا محمد ؐ نے ارشاد فرمایا کہ (گناہوں کی وجہ سے) دلوں کو بھی ایسے زنگ لگ جاتا ہے جیسے پانی کی وجہ سے لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے۔  صحابہ کرام ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ ؐ اس کا علاج کیا ہے؟، تو آپ ؐ نے فرمایا، دو چیزوں سے اس کا علاج ممکن ہے: ’ایک موت کو کثرت سے یاد کرنا کیونکہ اس سے دل نرم ہوتا ہے اور دوسرا قرآنِ مجید کی کثرت سے تلاوت کرنا۔اس سے دل روشن ہوتا ہے‘۔(نحوالہ بیہقی شریف)۔

قرآن شریف کی تلاوت کے وقت آسمان کے دروازے دعا کے لئے کھول دئے جاتے ہیں۔ حضرت انسؓ جب قرآن مجید کی مکمل تلاوت فرما لیتے تو اس وقت سارے گھر والوں کو جمع کرکے دعامانگا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اس موقع پر دعا قبول ہوتی ہے۔اس کے علاوہ قرآنِ کریم سے وفا کرنے سے دنیا میں عزت اور بڑائی ملتی ہے، پریشانیاں دور رہتی ہیں۔  قرآن مجید بندے کو قبر کے عذاب سے بچاتا ہے۔  رات کو سونے سے پہلے سورۃ الملک پڑھنے سے قبر کے عذاب سے حفاظت ملتی ہے۔  سورۃالملک اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرے گی یہاں تک کہ اس کی بخشش ہوجائے جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ؐ نے فرمایا: قرآن کی ایک سورۃ جو تیس آیات پر محیط ہے، اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہوجائے اور وہ  ’تبارک الذی بیدہِ الملک‘ ہے۔  (بحوالہ سنن ابو داؤد شریف)

نبی ؐ قرآنِ مجید نہایت خوش الحانی، خوش آواز اور ترنم سے پڑھتے تھے۔  قرآن پڑھنے میں کوئی شخص بھی آپ ؐ سے زیادہ خوش آواز نہیں تھا۔  جبیر بن مطعمؓ سے روایت ہے: ’میں نے رسول ؐ کو نمازِ مغرب میں سورۃ الطور کی تلاوت کرتے سنا۔  میں نے آپ ؐ سے زیادہ خوبصورت آواز اور قرأت کسی کی نہیں سنی۔‘  (بحوالہ صحیح مسلم اور صحیح بخاری شریف)قرآنِ کریم کو خوش الحانی اور خوبصورت آواز سے پرھنا نبی کریم ؐ کی سنت ہے۔البراء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا:  ’قرآنِ کریم کو اپنی آوازوں سے زینت بخشو۔  یعنی خوبصورت بناؤ۔‘ ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسولِ خداؐ نے فرمایا:’جو قرآن کی تلاوت کو اپنی قرأت میں خوبصورت نہیں بناتا، وہ ہم میں سے نہیں۔‘  (بحوالہ صحیح البخاری شریف)

قرآن شریف سفارش کرسکتا ہے اور جنت میں لے جاسکتا ہے یا جہنم میں لے جاسکتا ہے۔  جابرؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ نے فرمایا:’قرآن وہ سفارشی ہے جس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔  جو اسے اپنے سامنے رکھے گا وہ اسے جنت میں لے جائے گا اور جو اسے اپنی پیٹھ پیچھے رکھے گا وہ اسے جہنم میں لے جائے گا۔‘  (بحوالہ صحیح ابن حبان)ابو امامہ الباحلی ؓ فرماتے ہیں: ’میں نے رسولِ خداؐ کو کہتے ہوئے سنا ہے:’قرآن کی تلاوت کیا کرو کیونکہ قیامت کے دن قرآن صاحبِ قرآن کی شفاعت کرے گا۔‘ (بحوالہ صحیح مسلم شریف)

اس کے علاوہ قرآن جنت کی منزلیں طے کرتا ہے۔سیدنا عبد اللہ بن عمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’صاحب قرآن سے کہا جائے گا، پڑھتے جاؤ اور چڑھتے جاؤ اور عمدگی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں عمدگی سے پڑھتے تھے، تمہاری منزل وہاں ہے جہاں تم آخری آیت پڑھ کر قرأت ختم کرو گے‘۔ (بحوالہ سنن ابو داؤد، سنن الترمذی اور سنن ابن ماجہ)۔ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ؐ نے فرمایا: ’قرآن قیامت کے دن پیش ہوگا پس کہے گا،  اے میرے رب! اسے (یعنی صاحب قرآن کو) جوڑاپہنا تو اسے کرامت (یعنی عزت و شرافت) کا جوڑاپہنایا جائے گا۔  پھر وہ کہے گا، اے میرے رب! اسے اور دے تو اسے کرامت کا تاج پہنایا جائے گا۔  وہ پھر کہے گا،  اے میرے رب! اس سے راضی و خوش ہوجا تو وہ اس سے راضی وخوش ہوجائے گا۔  اس سے کہا جائے گا پڑھتا جا اور چڑھتا جا تیرے لئے ہر آیت کے ساتھ ایک نیکی کا اضافہ کیا جاتا رہے گا‘۔ (بحوالہ حسن الترمذی اور الحاکم)۔

ایک اور حدیث کے مطابق روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لئے شفاعت کریں گے۔  روزہ کہے گا اے میرے رب! میں نے اس کو کھانے پینے اور دوسری خواہشات سے روکے رکھا، پس تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔  ادھر قرآن کہے گا،  میں نے اس کو رات کو سونے نہیں دیا پس تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما سو ان کی سفارش قبول کر لی جائے گی‘۔ نیزرات دن قرآن کی تلاوت کرنے والے سے حسد کرناصحیح البخاری کی اس حدیث سے جائز ہے۔  حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ’حضورؐ نے فرمایا ’حسد تو بس دو آدمیوں سے ہی کرنا جائز ہے۔ پہلا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن (پڑھنا  و سمجھنا) سکھایا تو وہ رات اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت کرتا ہے اس کا پڑوسی اسے قرآن پڑھتے ہوئے سنتا ہے تو کہہ اٹھتا ہے کہ کاش مجھے بھی اس کی مثل قرآن عطا کیا جاتا تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا جس طرح یہ کرتا ہے اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال بخشا ہے اور وہ اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں صرف کرتا ہے۔  دوسرا شخص اسے دیکھ کر کہتا ہے، کاش مجھے بھی اتنامال ملتا جتنا اسے ملا ہے تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا جس طرح یہ کرتا ہے‘۔

جو صاحبِ قرآن ہوتے ہیں وہ اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’بے شک مومنوں میں اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں۔  کہا گیا یا رسول اللہ ؐ وہ کون ہیں؟  آپ ؐ نے فرمایا: قرآن پڑھنے والے، وہی اللہ والے اور اس کے خواص ہیں۔‘ (بحوالہ صحیح النسائی اور صحیح ابن ماجہ)۔ قرآن اللہ تعالی تک پہنچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔  حضرت جبیر بن نصیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ؐ نے فرمایا’بیشک تم قرآن سے بڑھ کر افضل کسی اور چیز کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف ہرگز نہیں لوٹو گے‘۔الترمذی شریف میں درج ہے کہ حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ؐ نے فرمایا:’اللہ تعالیٰ بندے کی کوئی چیز اتنے غور و محبت سے نہیں سنتا جتنے غور سے اس کی دو رکعت نماز سنتا ہے۔  بندہ جب تک نماز میں رہتا ہے نیکی اس بندے کے سر پر سایہ فگن رہتی ہے  اور بندے کسی عمل سے اتنا قرب ِ الٰہی نہیں پا سکتے جتنا قرب کلامِ الٰہی یعنی قرآن کے ذریعہ سے پاسکتے ہیں‘۔

ایک اور حدیث میں حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ؓ نے فرمایا:’جو شخص ان پانچ وقت کی فرض نمازوں کی حفاظت کرے وہ غافلین میں نہیں لکھاجائے گا  اور جس شخص نے رات کو ایک سو آیات تلاوت کی وہ  (اللہ تعالیٰ کے) فرمانبردار بندوں میں لکھا جائے گا‘۔

ان تمام فضائل کے علاوہ ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ فرشتے صاحب قرآن کی تلاوت کی قرأت کرتے ہیں۔ اُسید بن حضیر سے مروی ہے کہ ایک رات وہ اپنے کھجوروں کے کھلیان میں سورۃ البقرۃ پڑھ رہے تھے اور ان کا گھوڑا ان کے بغل میں بندھا ہوا تھا۔  ان کا بیٹا یحیٰ ان کے قریب سویا ہوا تھا، جب انہوں نے تلاوت کی تو ان کا گھوڑا کود پھاند مچانے لگا، پھر جب وہ خاموش ہوئے تو گھوڑا بھی ساکت ہوگیا، دوبارہ انہوں نے پڑھنا شروع کیا پھر وہ کود پھاند مچانے لگا۔  اس طرح تین بار ہوا تو اسید ؓ ڈرے کہ کہیں ان کا بیٹا یحیٰ گھوڑے کے پاؤں سے روندا نہ جائے، انہوں نے تلاوت ترک کردی اور گھوڑے کے پاس جا کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کہ وہ کیوں اچھل کود مچا رہا ہے۔ انہوں نے اس کے اوپر ایک بدلی کی طرح دیکھا جس میں چراغ کی طرح کچھ چیزیں تھیں۔  وہ بدلی آسمان کی طرف چڑھنے لگی، یہاں تک کہ وہ اسے دیکھ نہ پائے۔  صبح اسیدؓ نبیؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے اوپر بیتا حادثہ کہہ سنایا تو نبیؐ نے فرمایا: ’وہ فرشتے تھے جو تلاوتِ قرآن کو سن رہے تھے اور اگر تم صبح تک پڑھتے رہتے تو فرشتے صبح تک سنتے رہتے، جاگنے پر لوگ ان کو دیکھتے اور وہ لوگوں سے پوشیدہ نہ ہوتے‘۔ (بحوالہ صحیح البخاری اور صحیح مسلم شریف)۔

ایک اور حدیث کے مطابق ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول ؐ نے فرمایا:’جو بھی قرآن کی تلاوت کرتا ہے، حفظ کرتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے تو قیامت کے دن اس کے والدین کے سر پر نور کا تاج ہوگا جس کی روشنی سورج سے بھی تیز ہوگی۔ اور اس کے والدین ایسے لباس میں ملبوس ہوں گے جو اس پوری دنیا سے بھی زیادہ قیمتی ہوگا۔  وہ پوچھیں گے: ’ہمیں یہ لباس کیوں پہنایا گیا؟‘ ان سے کہا جائے گا کیونکہ تمہاری اولاد نے قرآن حفظ کیا۔‘(بحوالہ حسن الحاکم)

اللہ سے دعاہے کہ وہ ہمیں توفیق دے کہ ہم دنیا اور آخرت میں قرآن کی برکتوں سے فیض اٹھاتے رہیں۔ ہم جب قرآنِ پاک کی طرف قدم بڑھائیں تو وہ ہمیں صحیح راستہ دکھائے اور ہر مصیبت سے ہماری حفاطت فرمائے۔ ہم اپنے قرآن سے مضبوط رشتہ بنائے رکھیں اور قیامت کے دن قرآن ہماری شفاعت کرے۔آمین۔