جوبائیڈن انتظامیہ افغان امن عمل کو آگے بڑھائے: شاہ محمود
- جمعہ 22 / جنوری / 2021
- 4460
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکا کے نئے صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ افغان امن عمل کو برقرار رکھا جائے. الجزیرہ کوایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ نئی امریکی حکومت کو معلوم ہونا کہ افغانستان میں یہی ایک موقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس عمل کو آگے بڑھائیں کیونکہ طویل عرصے بعد ہم درست سمت کی طرف گامزن ہیں۔ 'ہمیں تشویش ہے کہ کشیدگی سے ماحول خراب ہوسکتا ہے جبکہ پاکستان نے بہت کچھ کیا ہے۔ ہم نے امن عمل کے لیے ساز گار ماحول بنانے میں کردار ادا کیا ہے'۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں امن عمل کو خراب کرنے والے لوگ موجود ہیں جنہیں جنگی حالات سے مالی فائدہ پہنچا ہے ۔ وہ لوگ نہیں چاہتے کہ امن عمل کامیاب ہو۔
انہوں نے کہا کہ پرامن، مستحکم اور خوش حال افغانستان کے ہمارے نکتہ نظر سے اتفاق نہ کرنے والے بیرونی عناصر سے بھی خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ افغانستان کی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن عمل کی کامیابی کو یقینی بنائے۔ 'یہ ان کا ملک ہے اور ان کا مستقبل ہے'۔ خیال رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان گزشتہ برس فروری میں امن معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان نے بنیادی کردار ادا کیا تھا اور دوحہ میں تاریخی معاہدہ طے پایا تھا۔
افغانستان میں اس وقت امریکا کے 2 ہزار 500 فوجی موجود ہیں۔ یاد رہے کہ امریکا کے نئے صدر جوبائیڈن کے نامزد سیکریٹری اسٹیٹ انتھونی بلنکن نے رواں ہفتے عندیہ دیا تھا کہ افغانستان میں کشیدگی میں اضافے کی صورت میں فوج کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ 'اگر دہشت گردی میں اضافہ ہوا تو اس سے نمٹنے کے لیے ایک تعداد کو برقرار رکھ سکتے ہیں، ہمیں حقیقی معنوں میں معاہدہ کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے'۔
شاہ محمود قریشی نے انٹرویو میں کہا کہ جوبائیڈن انتظامیہ کو معاہدے کی حمایت کرنی چاہیے جو مشترکہ مفاد میں ہے۔ نئی انتظامیہ کے ساتھ ہمارا رویہ، سوچ، مقاصد اور مشترکہ وژن بڑی حد تک یکسو ہے اور اعتماد سازی کےلئے کام کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا کو یہاں آکر مسابقت اور سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان ضرورت پڑے تو ثالثی کی جائے۔ پاکستان پہلے بھی دونوں ملکوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرچکا ہے۔