اپوزیشن نے جسٹس (ر) عظمت سعید کا نام براڈ شیٹ کمیٹی سربراہ کے طور پر مسترد کردیا

  • جمعہ 22 / جنوری / 2021
  • 4240

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے براڈ شیٹ اسکنڈل کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی سربراہی کے لئے سپریم کورٹ کے سابق جج  جسٹس (ر) عظمت سعید کے نام کو مسترد کردیا ہے۔

اس حوالے سے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دیگر لیڈروں کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہا کہ جون 2000 میں براڈ شیٹ معاہدے پر اس وقت کے چیئرمین نیب نے دستخط کیے تھے۔  حکومت پاکستان اب تک 1ہزار کروڑ روپے براڈ شیٹ کو ادا کرچکی ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے استفسار کیا کہ 1 ہزار کروڑ روپے کی ادائیگی کے حوالے سے کوئی جواب دینے والا ہے؟ کیوں پیسے بھیجے؟ کس مقصد کےلیے بھیجے گئے؟ ان کا کہنا تھا کہ براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ  ،قرر ہیونے والے جسٹس عظمت سعید وہ شخص ہیں، جو معاہدے کے وقت پنجاب میں نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل تھے۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہاکہ چیئرمین نیب کے دستخط والے معاہدے میں طارق فواد ملک سمیت 2 گواہ ہیں۔ براڈ شیٹ ایل ایل سی وہ کمپنی ہے، جس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہاکہ چند دن پہلے بننے والی کمپنی سے یک طرفہ معاہدہ دستخط کیا گیا، جسے اب تک 1 ہزار کروڑ روپے کی ادائیگی ہوچکی ہے۔ یہاں سے پیسے انگلینڈ سفارت خانے کے اکاؤنٹ میں بھیجے گئے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ جنہوں نے انگلینڈ پیسے بھیجنےکا فیصلہ کیا وہ کمیشن میں بیٹھے ہیں۔ وزرا اور سرکاری افسروں پر براڈ شیٹ سے حصہ مانگنے کا الزام لگا ہے۔ اُن کا کہنا تھاکہ عظمت سعید  کو کمیشن کا انچارج لگایا گیا جو خود فریق ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ عظمت سعید وہ شخص ہیں جو معاہدے کے وقت پنجاب میں نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل تھے۔ وہ اس معاہدے کا حصہ ہیں۔ کیا ان کی سربراہی میں قائم کمیٹی سے کسی انساف کی توقع کی جاسکتی ہے۔