پاکستان امریکہ سے شراکت داری پر مبنی تعلقات چاہتا ہے: معید یوسف
- ہفتہ 23 / جنوری / 2021
- 5080
پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کا کہنا ہے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو افغانستان کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے وقت آگیا ہے کہ دونوں ملک اپنے تعلقات کو باہمی مفادات اور تعاون کی بنیاد پر آگے بڑھائیں۔ یہ ایک نئے آغاز کا وقت ہے۔
جمعرات کو واشنگٹن ڈی سی کے تھینک ٹینک، ولسن سینٹر میں آن لائن گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن، افغانستان کے علاوہ کئی دیگر اہم امور میں آپس میں تعاون کر سکتے ہیں۔ پاکستان اب امداد کی بجائے امریکہ کے ساتھ سرمایہ کاری پر مبنی شراکت داری چاہتا ہے۔ ماضی میں پاکستان امریکہ تعلقات کو صرف افغانستان کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا جس کی وجہ سے تعلقات میں مشکل صورت حال پیدا ہوئی۔
پاکستان کے قومی سلامتی مشیر نے یہ بات ایک ایسے وقت کہی جب امریکہ میں جو بائیڈن انتظامیہ کے لیے بھی افغانستان میں قیام امن کا حصول واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کا اہم پہلو ہے۔ بین الافغان مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں ایک ایسا سیاسی تصفیہ ممکن ہو سکے جو پائیدار امن کا پیش خیمہ ثابت ہو تاکہ افغانستان سے غیر ملکی فورسز کے انخلا کا عمل امریکہ طالبان معاہدے کے ذریعے ممکن ہو۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ کے دوران بھی پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں افغانستان کی اہمیت رہے گی۔
معید یوسف کا کہنا ہے کہ اگرچہ افغانستان کا معاملہ اہم رہا ہے لیکن افغان امن عمل میں پیش رفت ہو چکی ہے اور پاکستان کی کوششوں سے بین الافغان مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔ امریکہ نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے۔ ان کے بقول اب افغان امن عمل افغانوں کی قیادت اور سرپرستی میں جاری ہے۔ پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر نے واضح کیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کے باوجود امریکی سرمایہ کار کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر سکتی ہیں جس کا دائرہ افغانستان تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
دونوں ممالک میں مصنوعات بنانے کے مخصوص زون بنائے جا سکتے ہیں، جہاں سے برآمدات کو ٹیکسوں کی چھوٹ حاصل ہو۔ افغانستان کے حوالے سے معید یوسف نے کہا کہ پاکستان اپنے مغربی ہمسایہ ملک میں امن اور استحکام چاہتا ہے کیونکہ یہ اسلام آباد کے مفاد میں ہے۔ افغانستان میں امن اور خطوں کے درمیان تجارتی اور اقتصادی راہ داریاں بنانے میں مددگار ثابت ہو گا۔
معید یوسف نے کہا کہ صدر بائیڈن کے دور صدارت کے آغاز میں امریکہ اور پاکستان کو ایک ایسا موقع میسر ہے کہ وہ ماضی کے مقابلے میں دوطرفہ تعلقات کو بہتر انداز میں استوار کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ بدقسمتی ہو گی اگر پاکستان امریکہ تعلقات کا محور صرف افغانستان ہی رہے۔