مسئلہ صرف ارنب گوسوامی کا نہیں!

  • تحریر
  • ہفتہ 23 / جنوری / 2021
  • 4430

نہیں  نہیں، آپ کو جواب دینا پڑے گا کہ  ہر دہشت گردی کے پیچھے  پاکستان کیوں ہے ؟   پاکستان پچھلے ساٹھ سال  سے بھارت کے خلاف  یہ کھیل کیوں کھیل رہا ہے‘  ارنب گوسوامی چنگھاڑتے ہوئے  بولا۔ 

یہ ساٹھ سال کا حساب کتاب کسی  اور وقت کرنا، مجھے آپ نے سارک کے فارن  منسٹرز  کی  اسلام آباد کانفرنس پر بات کرنے کے لئے بلایا  ہے۔آپ میزبان اور میں مہمان ہوں،  آپ نے بہت  چیخ لیا، اب خاموشی کے ساتھ میری بات سنو‘۔  ہم نے انڈیا  ناؤ  کے لائیو ٹاک  شو میں  ارنب گوسوامی کو اسی انداز میں جواب دیا۔  ’نہیں  مسٹر خالد، مجھے ساٹھ سال  کا حساب چاہئے‘  وہ جواب میں  ہذیانی انداز میں چلایا۔

سنو، تم میرے منہ میں اپنے الفاظ نہیں ٹھونس سکتے،  مہمان کے طور پر بلایا ہے تو سننے کا حوصلہ بھی رکھو۔ یہ ٹاک شو نہیں  چیخ چنگھاڑ کا  تماشا ہے، اور میں اس تماشے کا  مزید حصہ نہیں بننا چاہتا۔ میں احتجاجاٌ واک کرتا ہوں‘۔ ہم نے اسی  انداز میں ترکی بہ ترکی جواب دیا اور لائیو پروگرام  سے احتجاجاٌ واک کر دیا۔

چند دن بعد اسی بھارتی ٹی وی چینل کے پروڈیوسر کا دوبار فون آیا، ہم نے  اس انداز کے پروگرام میں شرکت سے معذرت کی  جس میں  چیخ  و پکار  کا میچ کھیلا جائے۔  یہ 2016  کی بات ہے۔بعد میں ارنب گوسوامی نے ری پبلک ٹی وی کے نام سے اپنے چینل کا آغاز کیا تو بھی  دو بار شرکت کے لئے اس کے پروڈیوسر نے  رابطہ کیا لیکن ارنب گوسوامی کے ہذیان سے کنارہ کرنا ہی مناسب جانا۔

ارنب گوسوامی کون ہے؟   بھارتی میڈیا کا یہ سینتالیس سالہ اینکر اپنی بدزبانی،  بی جے پی  کی اندھا دھند حمایت، پاکستان کے خلاف زہر اگلنے اور کئی  بدنام زمانہ اسکینڈلز کی وجہ سے مشہور ہے۔ آسام میں پیدا ہونے والا ارنب سوامی ایک سابق آرمی آفیسر کا بیٹا ہے۔ بھارتی ٹاک شوز میں مدتوں سے  پرسکون انداز میں مکالمے کی روایت ترک ہو چکی۔  ریٹنگ کی دوڑ میں ایک سے ایک پروگرام شور شرابے اور بدزبانی  کی حدیں پار کرتا دکھائی دیتا ہے۔  ارنب گوسوامی نے  مقابلے کی اس فضا میں اپنا مقام یوں بنایا کہ اس کی بدزبانی اور ہذ یان دوسروں سے بڑھ کر ہے۔

 بی جے پی کے ساتھ گہرے تعلقات اور اپنے  چینل ری پبلک ٹی وی کے آغاز کے بعد تو اس کا دماغ اور مزاج آسمان پر چلا گیا۔ مگر اس دوران ایک  واقعے نے اس کی قلعی کھلنے کی بنیاد  رکھی، اس کے بعد ریٹنگ کے اسکینڈل سے ایسے ایسے انکشافات سامنے آ ئے کہ  اسے اب اپنی لٹیا  بچانے کے لئے ہر جتن کرنا پڑ رہا ہے۔  ممبئی پولیس  کے پاس  گزشتہ سال ایک مقدمہ درج ہوا کہ ایک آرکیٹیکٹ نے اس بنا پر خود کشی کر لی کہ اس نے  ارنب گوسوامی کے چینل کے لئے اسٹوڈیو ڈیزائن  اور تعمیر کیا مگر  وہ   ادائیگی سے انکاری رہا۔ قرض خواہوں کے تقاضوں  اور ارنب گوسوامی کی جانب سے دھونس  اور انکارسے تنگ آکر  اس نے  خود کشی کر لی۔ خود کشی  نوٹ  میں اسے  خود کشی  کا ذمہ دار  ٹھہرایا گیا۔  سوشل میڈیا پر ہاہا کار مچی  تو ممبئی پولیس  حرکت میں آئی  اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔  مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق  ان ہی دنوں ایک اور اسکینڈل میں بھی  ارنب گوسوامی  مرکزی کردار کے طور پر سامنے آیا۔

ٹی وی میڈیا  کے اشتہاری  بزنس کا دارومدار ریٹنگ پر ہوتا ہے۔ بھارت میں  بارک (بی اے آر سی) ریٹنگ جانچنے کی ایک معروف کمپنی ہے جس کے خلاف مقدمہ درج ہوا کہ ریٹنگ میں گڑ بڑ کرکے من پسند چینلز کو  کئی سو کروڑ روپے  کا فائدہ پہنچایا گیا۔ اس ریٹنگ گھوٹالے میں ممبئی پولیس  نے جب  ریٹنگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو  پارتھ داس گپتا کے موبائل فون کا  ڈیٹا   کنگھالا تو ارنب گوسوامی اور اس  کے درمیان واٹس اپ چیٹ میں ہوش ربا انکشافات سامنے آئے۔ واٹس اپ چیٹ ہسٹری میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ ارنب گوسوامی اور  بی جے پی  حکومت کے درمیان  مضبوط  گٹھ جوڑ  ہے جس کی بنا  پر اسے   اہم قومی سلامتی  امور کے ممکنہ فیصلوں تک  رسائی  حاصل تھی۔ اس نے بالا کوٹ میں بھارتی ائیرفورس کی اسٹرائیک سے تین روز قبل گپتا کو  اشارتاٌ بتا دیا کہ  کچھ بہت بڑا ہونے والا ہے۔چیٹ ہسٹری میں اسے  پلوامہ واقعے کا بھی قبل از وقت علم ثابت ہوا۔  اور یہ بھی کہ اس واقعے کا اس نے اپنے ٹی وی چینل کے لئے خوب فائدہ اٹھایا،  ریٹنگ حاصل کی اور بی جے پی  نے بھی  اس کا سیاسی فائدہ اٹھایا۔ چیٹ ہسٹری میں کشمیر  کے بارے میں  ٌ کچھ بڑا ہونے ٌ  کی بھی پیشگی اطلاع ثابت ہوئی۔

بھارتی پریس  اور اپوزیشن نے  بھی  اب ان انکشاف پر سوالات اٹھانا شروع کر دئے  ہیں کہ ایک ٹی وی  اینکر کے پاس کیونکر  قومی سلامتی کے رازوں  کی رسائی تھی؟                 پلوامہ حملے  اور بالا کوٹ  پر ائیر اسٹرائیک  کا واضح ثبوت سامنے آنے سے  پاکستان کا موقف  سچ ثابت ہوا  کہ کشمیر  اور بھارت میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں ایک پلاننگ کے مطابق پاکستان کو ملوث  کیا  جاتا ہے۔  ارنب گوسوامی  کی اتفاقیہ سامنے آنے والی چیٹ ہسٹری نے   یورپی یونین  پر کام کرنے والی ایک تنظیم  ڈس انفو لیب کی جانب  سے بے نقاب کئے گئے   بھارتی آشیرباد سے جعلی  خبروں اور جھوٹے پروپیگنڈے  کے سلسلے  کی مزید تصدیق کر دی۔ان پے در پے انکشافات سے ہمارے ہاں ان احباب کو بھی  حقیقت  کو تسلیم کر لینی  چاہئے جو  بھارتی حکومت اور اس کے  سیکیورٹی ادارے کی  پاکستان دشمنی پر  مبنی بیانئے   پر یقین کر تے ہوئے اپنے ہی ملک اور  اداروں پر تنقید کے نشتر برسا کر اپنے تئیں غیر جانبداری کا فریضہ نبھانے کے مشن پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ 

 بھارت کی پاکستان دشمنی  کے طویل سلسلے میں  ارنب گوسوامی  صرف ایک شرمناک کردار ہے،   اصل مسئلہ  بھارت کی ازلی پاکستان دشمنی  ہے۔ کشمیر،  افغانستان  اور بلوچستان میں اس دشمنی کے تانے بانے  بکھرے ہوئے ہیں۔ کلبھوشن یادیو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔  قابل غور نکتہ یہ ہے   بھارتی اپوزیشن اور میڈیا  نے صرف ارنب گوسوامی کی  ان خفیہ فیصلوں تک رسائی پر تو اعتراض اٹھایا ہے مگر ان فیصلوں کی  غرض و غایت پر نہیں،  یوں پاکستان دشمنی  میں بی جے پی کے  جارحانہ اقدامامات  پر انگلی نہیں اٹھائی کہ  پاکستان دشمنی  میں سب  ساجھے دار ہیں۔