کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست اب ختم ہو جائے گی؟

بدھ کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک آخری بار ایئر فورس ون طیارے میں سفر کیا۔ اور صدارتی طیارے میں فلوریڈا میں اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے تھے۔

انہوں نے اپنے حامیوں کی ایک چھوٹی سی محفل میں وعدہ کیا تھا کہ وہ ’کسی بھی کردار‘ میں واپسی کر سکتے ہیں۔ لیکن ٹرمپ کی سیاسی تحریک جو انہوں نے 2016 میں کامیابی سے شروع تھی اس کا مستقبل غیر واضح ہے۔

دو ماہ قبل نومبر میں وہ اپنی شکست کے بعد بھی امریکی سیاست میں ایک طاقتور قوت بننے کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہیں رپبلکنز کی حمایت حاصل تھی۔ جماعت کے سیاستدان انہیں پسند کرتے تھے یا ان سے ڈرتے تھے۔ عوامی رائے شماری کے نتائج میں بتایا جاتا تھا کہ تقریباً نصف امریکہ انہیں مثبت سمجھتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ دو ماہ بغیر ثبوت انتخابی دھاندلی کے الزامات لگانے میں گزارے، الیکشن میں کڑے مقابلے والی ریاستوں میں جماعت کے اہلکاروں سے جھگڑے کیے، جارجیا کے انتخابات میں دو موجودہ رپبلکن رہنماؤں کے حق میں ناکام مہم چلائی اور اپنے حامیوں کے ہجوم کو تشدد پر اکسایا جنہوں نے امریکی کیپیٹل ہِل کے مقام پر حملہ کردیا۔  ٹرمپ کا مواخذہ دوسری مرتبہ امریکی ایوان نمائندگان نے منظور کیا اور اگر سینیٹ میں ان کے خلاف الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو ان کے سرکاری عہدہ رکھنے پر تاحیات پابندی لگ جائے گی۔

سیاست میں اپنے پانچ سالہ کریئر کے دوران ٹرمپ ایسی مشکل گھڑیوں سے باآسانی نکل گئے جو اکثر رہنماؤں کو ڈبو سکتی تھیں۔ فریڈی کروگر سے بھی زیادہ ان کے بارے میں یہ کہا گیا کہ ’اس کی سیاست تو اب ختم ہے‘۔ لیکن اس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ کو ڈبویا نہیں جاسکتا۔ وہ کشتیوں کی دنیا میں آب دوز ہیں۔  لیکن اب ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

اب ان کی صدارتی قوت اور سوشل میڈیا پر طاقت چھین لی گئی ہے۔ انہیں قانونی اور مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ کیا اب بھی وہ ایک کامیاب سیاسی واپسی کر سکتے ہیں؟ فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ  میں ان کی واپسی کیا ویسی ہی ہوگی جیسے فرانسیسی رہنما نپولین کو سینٹ ہیلینا جزیرے پر قید کیا گیا تھا؟ یا ایسے بھی ہوسکتا ہے کہ ٹرمپ کی حمایت کرنے والے کروڑوں لوگ اب کسی اور رہنما سے امید لگائیں گے؟

امریکی کیپیٹل ہِل پر ہنگاموں کے بعد عوامی رائے شماری کے نتائج میں ان کے بارے میں مثبت رائے مکمل صدارتی دور کی نسبت سب سے کم ہوگئی تھی۔ اس سے لگتا ہے جیسے ان کا سیاسی مستقبل ہمیشہ کے لیے کمزور پڑ چکا ہے۔  لیکن اگر اس کا جائزہ لیا جائے تو ابھی بھی سابق صدر ٹرمپ کی ساکھ اتنی کمزور نہیں ہوئی۔ سفید فام ڈیموکریٹ افراد، آزاد خیال لوگ اور اعتدال پسند رپبلکنز ان کے خلاف ہیں لیکن مجموعی طور پر رپبلکن جماعت میں انہیں ابھی بھی حمایت حاصل ہے۔

عوامی رائے شماری کی کمپنی ایپسوس میں امریکی عوامی امور کے صدر کلیفرڈ یونگ کا کہنا ہے کہ  جسے  یہ لگتا ہے کہ وہ سیاسی طور پر اپنی مقبولیت یا گونج کھو چکے ہیں،  وہ غلط ہے۔ ابھی بھی ان کے بہت سارے حمایتی ہیں۔ ٹرمپ کے کئی حامی ان کی اس رائے پر یقین کرتے ہیں کہ انتخاب کے دوران کئی ریاستوں میں ڈیموکریٹس اور رپبلکنز نے دھاندلی کی۔ انہوں نے قدامت پسند میڈیا میں ایسی خبریں دیکھی ہیں جس میں دعویٰ کیا گیا کہ کیپیٹل ہِل پر ہونے والے حملہ بائیں بازو کے اینٹیفا (اینٹی فاشسٹ) گروہ نے کروایا اور وہ ان شواہد کو مسترد کرتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے دائیں بازو ملیشیا گروہ اور ٹرمپ کے حمایت یافتہ کارکنان تھے۔

گیری کیفر ریاست مغربی ورجینیا کے شہر بیکلے سے تعلق رکھنے والے 67 سالہ سابق ڈیموکریٹ  نے 2016 اور 2020 میں ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ سابق صدر الیکشن کے بارے میں سوالات اٹھانے کے بارے میں بالکل درست تھے۔ انہیں شک ہے کہ کیپیٹل پر حملے میں بائیں بازو کے کارکنان شامل تھے اور وہ اب بھی مکمل طور پر سابق صدر کی حمایت کرتے ہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ چار سال بعد دوبارہ انتخاب لڑیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے رپبلکن اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کرنے والے ایک باہر کے شخص کے طور پر انتخاب لڑا۔ ان کی اپنی پارٹی کے رہنما اور صدارتی نامزدگی کے لیے اُن کے مخالفین اس گروہ کا حصہ تھے جس کا وہ مذاق اڑاتے ہوئے ڈیموکریٹس کی طرح ’کیچڑ‘ قرار دیتے تھے۔  اپنی جیت کے ساتھ وہ رپبلکن اسٹیبلشمنٹ بن گئے اور ٹرمپ کے سخت ترین مخالفین بھی بالآخر ان کی مرضی کے سامنے جھک گئے۔

رپبلکن لابیسٹ اور سینیٹ کی مہم کی حکمتِ عملی بنانے والے لیام ڈونووان کہتے ہیں کہ وہ اس لیے جھکے کیونکہ پارٹی کی رکنیت انہیں وہاں لے گئی۔ ٹرمپ نے پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں مثلاً رپبلکن نیشنل کمیٹی کی سربراہ رونا میک ڈینیئل کا تقرر کیا۔ اور ریاستی اور مقامی سطح پر رپبلکن پارٹی کے حکام ٹرمپ کے سچے ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔  ڈونووان کہتے ہیں کہ پارٹی کے ریاستی رہنما کارکن ہیں، اشرافیہ نہیں۔ سخت گیر رپبلکن ٹرمپ کے سخت گیر حامی ہیں۔  مگر ٹرمپ کی صدارت کے آخری ہفتوں میں دراڑیں نظر آنی شروع ہوگئی تھیں۔

ٹرمپ کے حامی مشتعل ہجوم کی جانب سے چھ جنوری کو کیپیٹل پر حملے سے پہلے اس وقت سینیٹ میں اکثریتی رہنما رپبلکن پارٹی کے مچ میکونل نے خبردار کیا تھا کہ 2020 کے صدارتی انتخاب پر عوامی اعتماد کو ختم کرنے کی صدر کی کوششوں نے امریکی جمہوریت کو ’موت کے راستے‘ پر ڈال دیا ہے۔  تشدد کے بعد ان کے قریبی ساتھیوں نے یہ عندیہ دیا کہ وہ ایوانِ نمائندگان میں بغاوت پر اکسانے پر صدر کے مواخذے کی کوششوں پر ’خوش‘ تھے۔ اس ووٹ میں رپبلکن قیادت کے ایک رکن سمیت 10 رپبلکنز نے ووٹ دیا۔

اس ہفتے کے آغاز میں مچ میکونل نے اس ہنگامہ آرائی پر اپنا سب سے زیادہ براہِ راست تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مشتعل ہجوم کو ٹرمپ اور دیگر طاقتور افراد نے ’جھوٹ سنائے‘ اور ’اشتعال دلایا‘ تھا۔  میکونل کے اقدامات اس بات کا واضح ترین اشارہ ہیں کہ کم از کم کچھ رپبلکنز پارٹی اور ٹرمپ کے درمیان لکیر کھینچنا چاہ رہے ہیں۔

دیگر افراد مثلاً ایوانِ نمائندگان کے 138 رپبلکنز جنہوں نے کیپیٹل ہل پر ہنگامہ آرائی کے بعد پینسلوینیا میں صدارتی انتخاب کو چیلنج کرنے کا ووٹ دیا تھا یا وہ 197 رپبلکن افراد جنہوں نے ٹرمپ کے مواخذے کے خلاف ووٹ دیا تھا، وہ اب بھی سابق صدر کے ساتھ کھڑے ہیں۔

فلوریڈا سے رپبلکن کانگریس رکن اور ٹرمپ کے وفادار حامی میٹ گیٹز نے جمعرات کو ٹویٹ کی کہ صدر ٹرمپ اب بھی رپبلکن پارٹی اور سب سے پہلے امریکہ تحریک کے رہنما ہیں۔  ڈونووان کہتے ہیں کہ ایوانِ نمائندگان میں موجود رپبلکنز سینیٹ کے مقابلے میں پارٹی کی بنیادی حمایت کی زیادہ بہتر عکاسی کرتے ہیں، کیونکہ سینیٹ کے برعکس انہیں ہر دو سال میں منتخب ہونا ہوتا ہے۔ اگر میکونل اور رپبلکن پارٹی کی اعلیٰ قیادت ٹرمپ سے بالکل دوری اختیار کر لینا چاہتی ہے تو اس سے پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گی۔

کئی دہائیوں سے رپبلکن پارٹی سماجی قدامت پسندوں اور کاروباری مفادات کا ایک سنگم رہی ہے۔ کاروباری مفادات پارٹی کی جانب سے کم ٹیکس اور کم ضوابط کی پارٹی پالیسی کو پسند کرتے رہے۔ اور اسقاطِ حمل پر پابندی، مذہبی آزادی کے اقدامات، اسلحہ رکھنے کے حقوق اور دیگر اہم سماجی مسائل پر قدامت پسندوں کی حمایت کو برداشت کرتے رہے۔  ٹرمپ کی صدارت اور ان کی جانب سے رپبلکن اتحاد کو امیگریشن مخالف اور تجارت مخالف پالیسیوں کے ذریعے وسعت دیتے ہوئے مزدور سفید فام طبقے کے لیے اپنے دروازے کھولنے کی کوشش نے اس اتحاد پر دباؤ ڈالاہے۔

2018 میں مضافاتی علاقوں میں رہنے والے افراد جو رپبلکن حامی کاروبار میں کام کرتے اور انہیں چلاتے ہیں، ڈیموکریٹس کی جانب جھکاؤ رکھنے لگے تھے۔  پھر کیپیٹل ہل پر ہنگامہ آرائی کے بعد تو جیسے بند ہی ٹوٹ گیا۔ بڑی کمپنیوں بشمول والمارٹ، جے پی مورگن چیز، اے ٹی اینڈ ٹی، کوم کاسٹ اور ایمازون نے اعلان کیا کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے صدارتی انتخاب کو چیلنج کرنے کی حمایت کرنے والے رپبلکن سیاستدانوں کی حمایت ختم کر رہے ہیں اور اپنے سیاسی عطیات کو معطل کر رہے ہیں۔  ڈونووان کہتے ہیں کہ جب سیاسی پانی میں اتھل پتھل ختم ہونے پر بڑے کاروبار ایک مرتبہ پھر عطیات کے اپنے معمول کے رجحان کی جانب واپس آ سکتے ہیں

کارپوریٹ عطیات ویسے تو رپبلکن پارٹی کی فنڈنگ کا صرف ایک حصہ ہیں مگر جس رفتار اور جس شدت سے یہ تبدیلی آئی، اس نے قدامت پسندوں کو حیران کر دیا ہے۔ اور تازہ ترین اقدامات پارٹی قیادت کی جانب سے مزید کوششوں کو فروغ دیں گے کہ وہ ٹرمپ کی پالیسیوں اور ان کے اندازِ سیاست کی مخالفت کریں کیونکہ وہ ڈالرز کو توجہ دیتے ہیں اور یہ کہ ڈالرز کہاں سے آتے ہیں۔

اگر رپبلکن پارٹی کا کارپوریٹ ونگ ٹرمپ ازم سے راستے جدا کرنے پر غور کر رہا ہے تو سماجی قدامت پسند بھی شاید زیادہ پیچھے نہ ہوں۔ دو طلاقوں، کئی معاشقوں اور غصیلی طبعیت والے شخص کے لیے ایونجلیکل مسیحیوں کی جانب سے سخت حمایت ہمیشہ متضاد نظر آتی تھی، مگر مذہبی قدامت پسند پھر بھی 2020 میں ٹرمپ کے ساتھ اس وقت جڑے رہے جب اعتدال پسند مضافاتی شہری ان سے دور ہو گئے۔   اب ٹرمپ اقتدار میں نہیں رہے ہیں، اس لیے کچھ ایونجلیکل مسیحی شاید ٹرمپ اور اُن کے سیاسی ایجنڈے کے لیے اپنی حمایت کے بارے میں دوبارہ سوچ رہے ہوں۔

اس بات کا امکان موجود ہے کہ اپنے احتجاج اور وعدوں کے باوجود ٹرمپ سیاسی منظر نامے سے غائب ہوجائیں۔ نئی سیاسی جماعتوں، نئے میڈیا ہاؤسز اور نئی صدارتی مہم کی باتیں تھم سکتی ہیں۔  یا شاید سینیٹ میں کم از کم 17 رپبلکنز 50 ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے سابق صدر پر بغاوت کی وجہ سے مواخذے کا مقدمہ چلا سکتے ہیں اور انہیں ہمیشہ کے لیے عوامی عہدہ رکھنے سے روک سکتے ہیں۔ ایسا کچھ ناممکن نہیں ہے۔

اگر وہ مواخذے سے بچ بھی گئے تو ٹرمپ کے سامنے کچھ بہت بڑے قانونی چیلنجز ہوں گے۔ نیویارک کے تفتیشی اہلکار ان کی جانب سے پورن سٹار سٹورمی ڈینیئلز کو رقم کی ادائیگی کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ریاست جارجیا ان کی جانب سے نومبر کے انتخاب کے بعد ریاستی سیکریٹری بریڈ رافینسپرگر پر ’ووٹ تلاش‘ کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے والی فون کال کی جانچ کر رہی ہے۔ اور وفاقی تفتیش کار شاید کیپیٹل پر حملے سے قبل ان کے الفاظ اور اقدامات کا جائزہ لیں۔

اس کے علاوہ وہ اپنے کاروبار میں بھی بہت مصروف ہوں گے کیونکہ کورونا وائرس کی وبا اور برانڈ کی بدنامی کی وجہ سے اس کے منافع میں کمی ہو رہی ہے۔ ٹرمپ کی کمپنی کو اگلے چند سالوں میں کروڑوں ڈالر کا قرض واپس کرنا ہے اور اس کے سب سے قابلِ اعتماد قرض خواہ ڈوئچے بینک نے حال ہی میں ان کو اپنے کلائنٹس سے خارج کر دیا ہے۔  دوسرے لفظوں میں کہیں تو سیاسی حیاتِ نو اگلے چند دنوں میں کم ترجیح ہو سکتی ہے۔ اس مقام پر ٹرمپ بطور شخص ٹرمپ ازم بطور تحریک سے الگ ہوچکے ہوں گے۔