امریکا ٹرمپ کی ظالمانہ امیگریشن سوچ کو پلٹ دے گا: جو بائیڈن

  • اتوار 24 / جنوری / 2021
  • 5250

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکا ٹرمپ انتطامیہ کے امیگریشن کے حوالے سے ظالمانہ نقطہ نظر کو پلٹنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ یہ بات انہوں نے میکسیکن ہم منصب کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران کہی۔

میسکین صدر اندرس مینوئیل پیز کے ساتھ بات کرتے ہوئے میں جو بائیڈن نے امیگریشن کے لیے اپنے نئے قانونی راستے اور پناہ کے خواہشمندوں کی درخواست کا عمل بہتر بنانے کا خاکہ پیش کیا۔ وائٹ ہاؤسکے  بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ دور حکومت کی ظالمانہ امیگریشن پالیسیوں کو پلٹنا ترجیحات میں شامل ہے۔ دونوں رہنماؤں نے بے قاعدہ امیگریشن کو کم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

جو بائیڈن کے امیگریشن سے متعلق اصلاحاتی منصوبے میں میکسیکو کا اہم کردار ہے۔ فون پر بات کے بعد میکسیکن صدر نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ یہ گفتگو خوشگوار اور احترام سے بھرپور تھی۔ ہر چیز اس بات کی جانب اشارہ کررہی ہے کہ تعلقات ہمارے لوگوں اور اقوام کے لیے اچھے ہوں گے۔

بہر حال جو بائیڈن کی حلف برداری تقریب ایسے وقت میں ہوئی کہ جب میکسیکو کے سابق وزیر دفاع کے حوالے سے تفیش پر تناؤ موجود تھا۔ یہ تحقیقات اب ختم کردی گئی ہیں۔  یاد رہے کہ جو بائیڈن کے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ کا بنیادی مرکز قانونی اور غیر قانونی امیگریشن روکنا تھا۔

قبل ازیں جوبائیڈن نے ایک ایسے بل کے لیے ابتدائی کوششیں کیں جو امریکا میں مقیم تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ افراد کو شہریت دینے کی راہ ہموار کرے گا۔ حالانکہ کانگریس میں ان کے اتحادیوں نے اعتراف کیا ہے کہ یہ انتہائی مشکل کام ہوگا۔