نئی امریکی حکومت جان لے پاکستان بدل چکا ہے اور بھارت سیکولر نہیں رہا: شاہ محمود قریشی

  • اتوار 24 / جنوری / 2021
  • 6040

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری تحریک عدم اعتماد لانے کا کہہ کر آئینی طور پر عمران خان کو وزیراعظم تسلیم کرلیا ہے۔ اس لیے انہیں سلیکٹڈ وزیراعظم نہ کہا جائے۔

ملتان میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ایک غیر فطری اتحاد ہے۔ یہ اتحاد دیرپا نہیں ہاگا۔ وقتی طور پر کچھ مصلحتوں کے تحت یکجا ہیں یہ بکھر جائیں گے۔ اس کا آغاز ہوچکا ہے۔ 31 جنوری کو لانگ مارچ پر اتفاق کیا لیکن اب بلاول بھٹو کہہ رہے ہیں کہ ہمیں تحریک عدم اعتماد لانی چاہیے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی سوچ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی تفریق پوری قوم کے سامنے ہے۔

پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نئی حکومت سے رابطہ کریں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکا کی موجودہ سوچ اور ہماری بہت سے پالیسیوں میں اتفاق ہے۔  میرا پیغام ہے کہ امریکا میں ڈیموکریٹس 4 سال بعد حکومت میں آئے ہیں۔ ان 4 سالوں میں دنیا، خطہ اور پاکستان تبدیل ہوا ہے۔ اب انہیں بدلے ہوئے پاکستان کے ساتھ  رابطہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان 4 سالوں میں بھارت بھی تبدیل ہوا ہے۔ سیکیولر اور نام نہاد  شائننگ انڈیا کہیں دکھائی نہین دیتا۔ بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ یہ وہ سیکولر انڈیا نہیں ہے بلکہ ہندو توا کی نئی شکل۔ آر ایس ایس کی سوچ کاعملی مظاہرہ دیکھنے میں رہا ہے۔ اس صورت حال میں بائیڈن حکومت کو برصغیر کے بارے میں اپنی حکمت عملی بدلے ہوئے بھارت اور نئے پاکستان کے تناظر میں طے کرنا ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی موجودہ پالیسیز سے کشمیری نالاں اور لا تعلق ہیں اور اقلیتیں خود کو غیر محفوظ تصور کررہی ہیں۔  اس لیے ہمارے سفارتکار بھارت کے یوم جمہوریہ کی تقریبات میں شرکت نہیں کریں گے۔

عوام کی مشکلات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج مہنگائی کا ہے جس کا ہم سامنا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ میں نے مختلف سیلز پوائنٹس کا جائزہ لیا جہاں آٹا وافر مقدار میں موجود ہے اور لوگوں کو مناسب قیمت میں مل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے چینی کی قیمتیں کم کی تھیں لیکن مافیا نے چینی کی قیمتیں بڑھا دیں۔ حکومت نے اس کا بھی تدارک کیا اور چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا۔ ٹیکس میں رعایت دی گئی تا کہ چینی مناسب قیمت پر دستیاب ہو۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت حکومت کو گیس کی قیمتوں کے بڑے چینلجز کا سامنا ہے۔