سکم کی سرحد پر چینی و بھارتی فوجیوں میں جھڑپ، متعدد زخمی

  • سوموار 25 / جنوری / 2021
  • 4700

ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں خونریز تصادم کے چھ ماہ بعد ہندوستانی اور چینی فوجیوں کی متنازع سرحد پر ایک مرتبہ پھر کشیدگی دیکھی گئی ہے۔ شنالی سکم کی سرحد پر ہونے والی جھڑپ میں فریقین کے متعدد فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ریاست سکم کے نکو لا پاس میں گزشتہ ہفتے پیش آیا تھا، میڈیا رپورٹس میں ہندوستانی فوجی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فریقین کے فوجی زخمی ہوئے ہیں۔  شمالی سکم کے علاقے ناکو لا میں دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان تصادم ہوا جس میں کئی فوجی زخمی ہوئے۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صورتحال اب مکمل کنٹرول میں ہے اور دونوں ملکوں کی افواج کے اعلیٰ حکام اعلیٰ سطحی مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس سے قبل بھی دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان  9مئی کو تصادم ہوا تھا جس میں دونوں طرف سے مجموعی طور پر 150 فوجی آپس میں گتھم گتھا ہو گئے تھے اور متعدد فوجی زخمی ہوئے تھے۔

اس واقعے سے چند دن قبل 5 مئی 2020 کو مشرقی لداخ میں دونوں ملکوں کے درمیان خطرناک تصادم میں 250 فوجیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔  ایٹمی طاقت سے لیس دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے فوجی بحران جاری ہے جس میں حالیہ کچھ عرصے میں شدت آئی ہے۔ مغربی ہمالیہ میں گزشتہ سال جون میں دونوں فوجوں کے درمیان ہونے والے غیرمسلح تصادم میں 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ چین نے اپنے فوجی نقصان کی اطلاع نہین دی تھی۔  

اس حادثے کے بعد  فریقین نے معاملات میں بہتری کے لیے مذاکرات شروع کیے تھے اور کہا تھا کہ وہ سرحد پر صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے راہیں تلاش کررہے ہیں۔ بات چیت میں بہت کم پیشرفت ہوئی ہے اوردونوں ملکوں نے شدید سردی کے باوجود علاقے میں بھاری نفری تعینات کر رکھی ہے۔

گزشتہ ماہ ہندوستان کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ تصادم کی روک تھام کے سفارتی اور فوجی مذاکرات  سے 'کوئی معنی خیز نتیجہ' برآمد نہیں ہو سکا۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ اگر حالات بدستور ایسے ہی رہتے ہیں تو فوجی نفری میں کمی نہیں کی جائے گی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ سرحدی صورتحال پر پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں اور فوجی مذاکرات کا ایک اور دور بھی آخری مرحلے میں ہے۔

واضح رہے کہ بھارت اور چین اپنے تقریباً 3500 کلومیٹر طویل سرحد پر اتفاق نہیں کرسکے۔ 1962 میں دونوں کے درمیان جنگ بھی ہوئی تھی۔ تاہم نصف صدی کے دوران گزشتہ موسم گرما سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی انتہائی عروج پر پہنچ گئی تھی۔