مِلّت کے گُناہوں کا گوشوارہ
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 25 / جنوری / 2021
- 16600
خُدا اپنے دولت مند، غُنڈہ صفت اور بے انصاف بندوں پر بہت مہربان ہے۔ اُنہیں بن مانگے دیتا ہے، چھپر پھاڑ کے دیتا ہے، فالودے اور پاپڑ والوں کے بنک کھاتوں میں غیبی ذرائع سے ڈال کر دیتا ہے۔
اُن کو شادیوں پر کروڑوں روپے اور ڈالر لُٹانے کی توفیق دیتا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ ہوائی فائرنگ کی خصوصی مراعات بھی دیتا ہے۔ لیکن غریب آدمی کا پُرسان، حال کوئی نہیں البتہ طفل تسلیاں اور دلاسے دینے کے لیے بہتر میڈیا سیل موجود ہیں جو دن رات ٹی وی چینلوں ، یو ٹیوپ کے نجی چینلوں پر بھنگڑا ناچتے ہیں۔ اور اُمت کو اس پانچویں عالمی جنگ کے مورچوں پر مصروف رکھتے ہیں جو موبائل، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر سے لڑی جا رہی ہے۔ اس جنگ کا ہر سپاہی بزعمِ خویش محمد بن قاسم اور طارق بن زیاد سے کم نہیں۔ اور اب تو خیر سے مفتی قوی کا فرقہ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے اور حریم شاہ کے پجاریوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب حریم شاہ ملکہ سبا بلقیس ہونے کا اعلان کر دے گی۔
یہ سب کچھ سب کو نظر آ رہا ہے مگر کرسی کے اندھے سیاست دانوں اور حُکمرانوں کو کچھ نظر نہیں آتا۔ ریڑھی والا، خوانچے والا، دیہاڑی دار مزدور، بے روز گار، تعلیم سے محروم بچے اور گیس کی عدم فراہمی پر بچوں کے لیے کھانا نہ پکا سکنے کی اذیت میں مبتلا عورتیں یہ سب کچھ دیکھ رہی ہیں۔ یہ خُدا کی خاص مہربانی ہے کہ اِس بنیادی ضروریاتِ سے زندگی سے محروم طبقے کی آنکھیں سلامت ہیں اور اپنی اذیتیں اور خُدا کا فرستادہ عذاب بقائمی ہوش و حواس سہ رہی ہیں۔ یہ دوزخ کا وہ منظر نامہ ہے جو مرنے سے پہلے پیش آتا ہے تاکہ لوگوں کو اندازہ ہو سکے کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا۔ غالب کہہ رہے ہیں:
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
اور ہم پاکستانی مسلمانوں کو سچ مچ اس کا کوئی پتہ نہیں کہ مرنے کے بعد ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔ اور وہ اس لیے کہ جو لاشیں ، کم سن بچوں اور بچیوں کی لاشیں، جو بے رحمانہ جنسی تشدد کے بعد کوڑوں کے ڈھیروں اور گندے پانی کے جوہڑوں میں پھینک دی جاتی ہیں، ہماری معاشرت کے اخلاقی خدو خال متعین کر چکی ہیں۔ اب موت اور دہشت گردی ہمارے معاشروں میں اس قدر سستی ہو چکی ہے کہ ہر آنگن میں اجل کا پیڑ اگا ہوا ہے، ہر گلی کے موڑ پر ملک الموت کھڑا ہے اور ہر ادارے میں تشدد کے ہرکارے انسانوں کے گلے کاٹنے کے لیے دندناتے پھرتے ہیں۔
دو روز پہلے ملتان کے ایک ڈاکٹر نے جو نفسیاتی امراض کا معالج تھا، اپنی ڈاکٹر بیٹی کو قتل کر کے خود کُشی کر لی۔ وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ڈاکٹر اب دوسری شادی کرنا چاہتا تھا اور اپنی بیٹی سے، جس کے نام اس نے اپنی ساری جائیداد کر رکھی تھی، کچھ واپس لے کر اپنی اُس بیوی کے نام کرنا چاہتا تھا، جس سے وہ شادی کا خواہش مند تھا۔ اب جب کہ وہ خاندان ہی ختم ہوگیا ہے ، ہمارے معاشرتی تعلقات پر سوالیہ نشان کی طرح معلق ہو کر رہ گیا ہے۔ رشتہ داریوں کے کانٹنے بڑے نوکیلے ہوتے ہیں، جو بھاری بوٹوں اور مضبوط جوتوں میں بھی چبھ جاتے ہیں۔ مجھے علامہ اقبال کی نظم خفتگانِ خاک سے استفسار یاد آ رہی ہے جو اس موضوع پر ایک ہمہ جہت نظم ہے۔ اقبال دنیا کے جھمیلوں سے تنگ آ کر قبرستان میں جا بیٹھتے ہیں اور قبروں میں مدفوں لوگوں سے سوال کرتے ہیں:
رشتہ و پیوند یاں کے جان کا آزار ہیں
اُس گلستاں میں بھی کیا ایسے نوکیلے خار ہیں
رشتوں ناتوں کا آزار دوزخ کے عذاب سے کم نہیں ہوتا لیکن میڈیا اس جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کرتا رہا ہے۔ میاں بیوی کی لڑائی وہ موضوع ہے جس پر شاعروں نے خوب طبع آزمائی کی اور خیر سے سوشل میڈیا اس جنگ کو وبا کی طرح پھیلا رہا ہے۔ ایسے لگتا ہے ہر گھر ایک جنگی مورچہ جہاں کچن، بیڈ روم اور ٹی وی لاؤنج میں مسلسل فائرنگ ہوتی رہتی ہے۔ تاہم یہ خانگی جنگجو جب تھک جاتے ہیں تو امن کا وقفہ بجبر و اکراہ قبول کرنا پڑتا ہے اور کچن اور کھانے کی میز پر پلیٹیں دوبارہ ایک دوسری کے خلاف صف آرا ہو جاتی ہیں۔ یہ جنگ آدم و حوا کی اولاد میں ہمیشہ سے جاری ہے۔ اور پرانے دانش مندوں نے اس کی تعبیر یہ کی تھی کہ دو برتن بھی ایک دوسرے کے قریب پڑے ہوں تو آپس میں ٹکرا جاتے ہیں ۔
وہ لوگ بڑے سادہ دل تھے جو آدمی اور برتن کا فرق روا نہیں رکھتے تھے۔ لیکن یہ زمانہ نیا ہے جس میں مرد اور عورت دونوں نئی تعلیمات سے آراستہ ہیں اور دونوں اپنی جنگ نئے ہتھیاروں سے لڑنے کی تربیت پاتے رہتے ہیں۔ لیکن کبھی کسی نے صدقِ دل سے اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی فیصلہ کن قرار داد کا ڈرافٹ تیار کر کے اُس پر عمل کرنے کا پروگرام نہیں بنایا۔ یہ سب کچھ میرے ذہن میں اس لیے کلبلا رہا ہے کہ معاشرتی ابتری کا ذمہ دار خاندانی اکائی کو سمجھتا ہوں ۔ ایک گھر میں اگر کوالی فائیڈ ماں باپ ہوں اور وہ بچوں کی پرورش کے علم میں مہارت رکھتے ہوں تو گھروں میں ایسے انسان نما جانور نہیں پلتے جو کبھی کبھی ملا قوی اور کبھی حریم شاہ بنتے ہوں۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات سے من حیث المعاشرت نا بلد ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ناظرہ قرآن خوانی اور مسجد میں ملا کا وعظ سننا اسلام ہے جب کہ اسلام ایک بہت کٹھن اور مشکل نصاب ہے۔ اقبال نے کہا تھا:
چوں می گویم مسلمانم بلززم
کہ دانم مشکلاتِ لا الہ را
لا الہ انتہائی کٹھن راستہ ہے۔ یہ وہ پل ہے جو بال سے باریک اور تلوار سے تیز ہے جس پر چلنے کی توفیق عام مسلمانوں کے پاس ہے ہی نہیں۔ اور اگر ہمیں ایک اعلیٰ معیار کا انسانی معاشرہ تعمیر کرنا ہے، جس اسلام کا حتمی ہدف ہے تو ہمیں اپنے کرتوتوں کا گواشوارہ بنانا ہوگا کہ ہم کون ہیں، کیا ہیں اور اسلام کی کھال اوڑھ کر کن درندوں کی صفات سے متصف ہیں۔ اس وقت ہمارا سیاسی منظر نامہ جس دوزخ کا نقشہ پیش کر رہا ہے وہ یہ کہہ رہا ہے کہ وہ اسلام جو امن کا دین تھا، اُس تک ہماری رسائی ہے ہی نہیں۔ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ نظریہ پاکستان اور اسلام کا دوہرا قتل ہے اور ہم سب اس دوہرے قتل کے مجرم ہیں۔ اور اگر ہم نے اس صورتِ حال کا ادراک کر کے اپنے آپ کو اور اپنی خاندانی اکائیوں کو بدلنے کی راہ اختیار نہ کی تو ہم نہ مسلمان بن کر جی سکیں گے اور نہ ہی پاکستانی رہیں گے۔
فی الوقت ہم اپنے ریاستِ مدینہ کے نعروں کے باوجود ایک گمراہ اور بھٹکی ہوئی اُمت ہیں ۔ ہمارے حکمران نہ جانے کس مدینے کی ریاست کی بات کرتے ہیں۔ مدینے کی ریاست کے حکمران بننا ٹوٹے ہوئے حجرے میں قیام کرنا اور پھٹے ہوئے بوریے پر سونا ہے ۔ مسلمان ہونا عجز و انکسار اختیار کرنا ہے اور ان پروٹوکول کی عیاشیوں اور غیر ضروری تکلفات میں قومی دولت ضائع کرنا غیر اسلامی رویے ہیں۔ حکمرانوں نے ہمیشہ امت کر گمراہ کرنے کے لیے اسلام کے مقدس نام کو استعمال کیا ہے، اسلام کا استحصال کیا ہے اور اپنے مفادات کے لیے پوری امت کو اپنی بے راہ روی کے جرم میں شریک کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اب دارالحرب بن کر رہ گیا ہے۔
ہم نے من حیث القوم جو بویا تھا وہ کاٹ رہے ہیں اور تبدیلی کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ۔ ایسے میں مجبور آدمی خدا کے سوا کس کے درازے پر دستک دینے کے سوا کیا کر سکتا ہے مگر ہمیں وہ زبان کسی صادق اور امین نے سکھائی ہی نہیں۔ اور اب ہمارا ترانہ صرف یہی ہے کہ:
اے بادِ صبا کملی والے ﷺ سے جا کہیو پیغام مرا
قبضے سے اُمّت بے چاری کے دیں بھی گیا دنیا بھی گئی