آزاد کشمیر کی ریاستی و غیر ریاستی بحث کا دوسرا پہلو
چند دن قبل میں نے ایک مضمون بعنوان ریاستی غیر ریاستی بحث لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ شروع شروع میں پٹھان کمیونٹی کو آزاد کشمیر میں اس قدر عزت و احترام سے دیکھا جاتا تھا اور اس پر اتنا زیادہ اعتماد تھا کہ پٹھان بغیر کسی پرمٹ کے کام اور کاروبار کرتے تھے۔
افغان جنگ جب شروع ہوئی تو افغان مہاجرین کی آمد تیزہو گئی اور آزاد کشمیر کے لوگوں نے اکثر پٹھان خاندانوں کو اپنے گھروں میں پناہ دی مگر آہستہ آہستہ کچھ افغان مہاجرین کو کچھ غیر ریاستی سرکاری ادارے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرناشروع ہو گئے۔ پھر ایک ایسا وقت آیا کہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات خراب ہوئے اور کئی دہائیوں سے آباد کامیاب تجارت کرنے والے افغانوں کو راتوں رات نکل جانے کا حکم دیا گیا۔ ہم نے اس اخراج کو زیادتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مہمان پٹھان کمیونٹی کے کچھ لوگ کسی غیر قانونی عمل میں ملوث ہیں تو اس کی سزا اجتماعی طور پر پوری پٹھان کمیونٹی کو نہیں ملنی چائیے۔ اگر کسی کو کسی جائز بنیاد پر نکالنا بھی ہے تو ان کو نکلنے کے لیے مناسب وقت دینا چائیے کیونکہ چار دہائیوں سے بسنے والے افغانوں کے یہاں وسیع پیمانے پر کاروبار ہیں اور یہاں پر پیدا ہونے والے بچے کسی دوسرے گھر کو نہیں جانتے۔ یعنی آزاد کشمیر ہی ان کاپہلا گھر ہے۔ جس چیزکی آزاد کشمیر کے اکثر لوگوں نے مخالفت کی اور آج بھی کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہونے تک کسی غیر ریاستی کو ریاستی باشندہ سرٹیفکیٹ نہیں ملنا چائیے۔
غیر ریاستی باشندوں کے خلاف پیدا ہونے والی سوچ کی ایک وجہ تو انہیں ریاستی باشندہ بنانے کی سازش دوسرا ان کو کچھ ادارے اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر کے مقامی لوگوں کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے افرا تفری کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود اصول کا تقاضا ہے کہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا جائے کہ ریاستی وحدت اور تشخص کو کسی مہمان کمیونٹی نے نہیں بلکہ خود آزاد کشمیر میں ٹوٹی نلکے کی سیاست کرنے والے لیڈروں اور ان کے حامیوں نے غیر ریاستی جماعتیں بنا کر کیا۔ یا انہوں نے جنہوں نے ایکٹ74 اور الحاق کی شق مسلط کر کے ریاستی تشخص کے حامیوں کو پیدائشی اور جمہوری حقوق سے محروم کیا۔ اصل مجرم یہ مفاد اور موقع پرست سیاسی ٹولہ ہے جس نے کراچی معاہدہ کیا۔ آزاد کشمیر جس نے بھارتی مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے عالمی سطح پر بھارت کے خلاف خود اپنا مقدمہ پیش کرنا تھا اسے لوکل اتھارٹی میں تبدیل کر کے مسئلہ کشمیر کو علاقائی جھگڑا میں تبدیل کروایا۔
گلگت بلتستان کی طرف آج بھی انہیں رخ کرنے کی جرات نہیں۔ ایک حملہ آور اور قابض کو مستغیث و مدعی اور دوسرے کو اپنا وکیل مان لیا۔ اس سارے گھناؤنے کھیل میں لٹے پٹے بے گھر مہمان افغانوں یا کسی اور غیر ریاستی کا نہیں بلکہ خود ساختہ ریاستی لیڈروں اور مفاد پرست و موقع پرست مقامی سیاسی ٹولے کا کردار ہے اس لیے اگر کوئی عدنان بہزاد نامی یا اس طرح کا کوئی اور شخص ریاستی باشندوں کے خلاف کسی سازش میں ملوث ہے تو اسے انفرادی طور پر سزا ملنی چائیے لیکن پوری کمیونٹی کو اجتماعی طور پر مجرم قرار دینا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ بے شمار کشمیری بیرون ملک آباد ہیں۔ اگر کسی ایک کشمیری کے جرم کی پوری کشمیری کمیونٹی کو سزاملنی شروع ہو گئی تو پھر کسی کشمیری کی کسی بھی ملک سے ملک بدری کی مخالفت کا جواز ختم ہو جائے گا۔