براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیشن کومکمل تحقیقات کا اختیار حاصل ہوگا
- بدھ 27 / جنوری / 2021
- 6880
کابینہ کی منظوری کے بعد قائم ہونے والے ایک رکنی کمیشن کا دائرہ کار وسیع ہوگا۔ یہ نہ صرف براڈ شیٹ تنازع کی تحقیقات کرے گا بلکہ یہ بھی پتہ لگایا جائے گا کہ غیر قانونی اثاثوں کی تلاش میں ریاست کو اتنا بڑا نقصان کیوں ہوا۔
ڈان اخبار کے مطابق اس پیش رفت سے آگاہ ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ انکوائری کمیشن کے ٹرم آف ریفرنس (ٹی او آرز) ابھی طے ہونے باقی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اس کا دائرہ کار اس بات کا بھی احاطہ کرے کہ ان افراد کا کیا ہوگا جن کے نام اثاثہ برآمدگی کمپنی براڈ شیٹ کے کیس میں دسمبر 2018 کے کوانٹم پر ایوارڈ کے فیصلے میں سامنے آئے۔
منگل کے روز کابینہ نے پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ پر مشتمل ایک رکنی انکوائری کمیشن کے قیام کی منظوری دی تھی۔ ممکنہ طور پر آئندہ چند روز میں کمیشن تشکیل پا جائے گا تو اس کے پاس ہائی کورٹ کے طرح توہین پر کارروائی کا اختیار بھی ہوگا۔
اس اختیار کے تحت کسی بھی شخص کی جانب سے کمیشن کے معاملات میں کسی طرح رکاوٹ ڈالنے، مداخلت کرنے یا بدسلوکی کرنے اور کمیشن کے کسی حکم کی خلاف ورزی کرنے، اسے اسکینڈلائز کرنے یا کمیشن یا اس کے رکن کو نفرت انگیزی، تضحیک یا توہین کا نشانہ بنانے پر سزا دی جائے گی۔
کوڈ آف سول پروسیجر 1908 کے تحت کمیشن کے پاس کسی بھی دستاویز کی برآمدگی، حلف نامے پر شواہد کی وصولی، گواہان کی جرح کے لیے کمیشنز جاری کرنے اور کسی بھی عدالت سے کوئی بھی سرکاری ریکارڈ یا نقل پیش کرنے کے لیے حلف پر جانچ پڑتال کے لیے کسی کو طلب کرنے اور اس کی حاضری یقینی بنانے کا اختیار بھی ہوگا۔
ذرائع نے کہا کہ نئے کمیشن کی ذمہ داریوں میں اس بات کی تحقیقات بھی شامل ہوسکتی ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی جانب سے سرے محل، سوئس اکاؤنٹس اور جعلی بینک اکاؤنٹس کے لیے سرکاری پیسے سے کی گئی کوششوں کا کیا ہوا۔
اس ضمن میں جب سپریم کورٹ کے سینئر وکیل محمد اکرم شیخ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے یاد کروایا کہ اسی طرح کے ایک اور کمیشن کی رپورٹس ہوا میں اڑا دی گئی تھیں اور اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا۔ براڈ شیٹ جیسے متعدد ایوارڈز اور فیصلوں کے تناظر میں انہوں نے تجویز دی کہ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ مزید تنازعات میں الجھنے سے بچا جائے۔ اگر کابینہ واقعی حقیقی احتساب کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ صرف پارلیمان پر اعتماد کرے اور پارلیمانی فورم پر ایک متوازن کمیشن قائم کرے۔