براڈ شیٹ انکوائری کمیٹی اور احتسابی عمل
- تحریر مظہر چوہدری
- بدھ 27 / جنوری / 2021
- 8300
پاکستان کے سیاسی، صحافتی اور عوامی حلقوں میں ان دنوں سب سے زیادہ زیر بحث موضوع براڈ شیٹ معاہدہ اور اس کی تحقیقات کے لئے بنائی گئی انکوائری کمیٹی ہے۔ملکی سیاسی وصحافتی منظر نامے پر ویسے تو براڈ شیٹ کا معاملہ رواں ماہ کے اوائل میں نیب کی جانب سے غیر ملکی اثاثہ جات ریکوری فرم براڈ شیٹ کو 29ملین ڈالر کی ادائیگی کے بعد آیالیکن یہ معاملہ اس وقت "ٹاک آف دی ٹاؤن"بن گیا جب حکومت نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کے لئے پانچ رکنی کمیٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید کو اس کا سربراہ مقرر کر دیا۔
ایک دن بعدپاکستان مسلم لیگ (ن) نے انکوائری کمیٹی کے سربراہ کے طور پر جسٹس عظمت سعید کی نامزدگی کو مسترد کرتے ہوئے کسی غیر متنازع شخص کو انکوائری کمیٹی کا سربراہ مقرر کرنے کامطالبہ کر دیا۔اس حوالے سے ن لیگ کا موقف یہ ہے کہ ایک تو شوکت خانم ہسپتال کے بورڈ کے رکن ہونے کی وجہ سے جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید فیصلہ کرنے میں غیر جانب دار نہیں رہ سکتے۔ ن لیگ کا دوسرا اہم اعتراض یہ ہے کہ آج سے20سال قبل جب پاکستانی حکومت نے براڈ شیٹ سے معاہدہ کیا تو جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید پنجاب میں ڈپٹٰی پراسیکوٹر ہونے کی حیثیت سے براہ راست اس معاہدے پر دستخط کرنے والوں کے لئے کام کرتے تھے۔ن لیگ کے دوسرے اعتراض کو سمجھنے کے لئے ہمیں تاریخ میں دو دہائیاں پیچھے جانا ہوگاجب ملک کے چوتھے فوجی ڈکٹیٹرنے اقتدار پر قبضہ کرنے کے چند ماہ بعد نواز شریف اور بے نظیر سمیت 200افراد کی پاکستان سے لوٹی ہوئی بیرون ملک دولت کا سراغ لگانے کے لئے دو غیر ملکی کمپنیوں براد شیٹ اور ایسٹ ریکوری سے معاہدہ کیا۔اس احتسابی عمل کے دباؤ اور خوف سے پرویز مشرف کو نواز شریف کو جلا وطنی پر مجبور کرنے اور ق لیگ کی صورت میں کٹھ پتلی جماعت کی حمایت کی صورت میں وقتی فوائد ملنے کے بعد فوجی آمر کے بنائے گئے احتسابی ادارے نے براڈ شیٹ کے ساتھ کیا جانے والا معاہدہ منسوخ کر دیا۔نیب کی جانب سے یک طرفہ طورپر معاہدہ ختم کرنے کے بعد براڈ شیٹ نے احتسابی ادارے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا جس میں کئی ایک مرحلوں کے بعد بالآ اخر ثالثی عدالت کا فیصلہ نیب کے خلاف آیا۔
اب سوال یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ہونے والی اس سبکی کی ذمہ داری احتساب کی لاٹھی سے نواز شریف اور بے نظیر کی سیاست کا قصہ تمام کرنے کی خواہش رکھنے والے پرویز مشرف پر عائد ہوتی ہے یا اس کے بنائے گئے احتسابی ادارے کی سنگین لاپرواہی و غفلت پر؟۔ پرویز مشرف نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے اپنے سخت حریفوں (نواز شریف اور بے نظیر) کے خلاف غیر ملکی کمپنیوں سے ملک و قوم کے خلاف جانے والے معاہدے کیے۔ براڈ شیٹ کے ساتھ کئے گئے معاہدے میں صاف لکھا تھا کہ نیب نہ صرف اپنی ہر ریکوری میں سے 20فیصد براڈ شیٹ کو ادا کرے گا بل کہ محض اثاثوں کی نشان دہی کی صورت میں بھی نیب مذکورہ کمپنی کو 20فیصد ادائیگی کا پابند ہوگا۔ کئی کیسز میں براڈ شیٹ نشان دہی کرتے ہوئے20فیصد ادائیگی کا حق دار بنتا گیا لیکن نیب ریکوری نہ کروا سکنے کی وجہ سے خسارے میں جاتا رہا۔ن لیگ کے خیال میں پوری دنیا میں ہونے والی اس جگ ہنسائی کی ذمہ داری دو دہائیاں قبل والی حکومت پر عائد ہوتی ہے اور اس حکومت کے دور میں ڈپٹی پراسیکوٹر کی حیثیت سے کام کرنے والے عظمت سعید براہ راست اس معاہدے پر دستخط کرنے والوں کے لئے کام کرتے تھے۔ ن لیگ کا موقف ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید کو انکوائری کمیٹی کا سربراہ بنانے سے اس معاملے کے اصل ذمہ داروں کا تعین نہیں ہو سکے گا۔اس کے مقابلے میں حکومت کا موقف یہ ہے کہ ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تحقیق کے نتیجے میں کس کا نام آتا ہے اور یہ کہ ن لیگ کو ہمیشہ اپنی پسند کے ججز درکار ہوتے ہیں۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دنیا کے تمام ممالک میں ریاستی و حکومتی سطح پرایسے ادارے سرگرم عمل ہوتے ہیں جن کا مقصد حکومتی وسیاسی اورسماجی و انتظامی سطح پر کرپشن کی روک تھام کے لئے تسلسل سے ٹھوس اقدامات کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔جن ممالک میں احتسابی ادارے بنا کسی حکومتی و ریاستی دباؤ کے کرپشن کے سدباب کے لئے کوششیں کرتے ہیں وہاں کرپشن کی شرح بتدریج کم ہوتی جاتی ہے لیکن جہاں احتسابی اداروں کومحض سیاسی مخالفوں کوکمزور کرنے کے لئے استعمال کیا جائے وہاں کرپشن میں کمی کی بجائے الٹا اضافہ ہوتا جاتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے یہاں بلا امتیاز احتساب کبھی ہوا ہی نہیں۔ مخصوص مفادات کے حصول کے لئے ہونے والے احتسابی عمل سے سیاسی مخالفین کو ڈرا دھمکا کروقتی طور پر اقتدار پر اپنی گرفت تو مضبوط کی جا سکتی ہے لیکن ایسے امتیازی احتساب سے ریاستی و حکومتی اور انتظامی و سماجی سطح پر کرپشن میں قابل ذکر حد تک کمی لانا کسی بھی طرح ممکن نہیں ہوتا۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کرپشن میں کمی یا اس کے سدباب کے لئے احتسابی عمل کا جاری رہنا ناگزیر ہوتا ہے لیکن یہ عمل اسی صورت بہتر نتائج دے سکتا ہے جب احتسابی ادارے یک طرفہ احتساب کی بجائے سب کا احتساب کرنے میں نہ صرف آزاد و خود مختار ہوں بل کہ سب کا احتساب کرتے ہوئے نظر بھی آئیں۔
المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں حکومتی و سیاسی جماعتوں سمیت کوئی بھی ادارہ خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے کی بجائے دوسروں کے احتساب کا متمنی ہے۔اگرچہ ن لیگ کی مرکزی قیادت موجودہ حکومت کے آنے سے پہلے ہی نیب کے زیر عتاب تھی لیکن حکومت کے اقتدار سنبھالتے ہی شریف خاندان سمیت ن لیگ کے اہم رہنماؤں کے خلاف نیب کی کاروائیوں میں بہت تیزی آ گئی۔ احتسابی عمل کو جامع بنانے کے لئے پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے پہنچانے کے لئے احتسابی اداروں کو ڈرامائی انداز میں حرکت میں لایا گیا۔احتسابی عمل کوشفا ف ثابت کرنے کے لئے حکمران جماعت کے ایک دو رہنماؤں کے خلاف بھی نیب کو حرکت میں لایا گیا لیکن احتسابی عمل پر دوہرے معیارکی لگی چھاپ اترنہ سکی۔سیاسی جماعتوں کے واویلے کے باوجود احتساب ادارے حکومتی منصوبوں میں سامنے آنے والی کرپشن پر کوئی قابل ذکر کاروائی نہ کر سکے۔
سیاسی جماعتوں کے بقول ایک طرف فارن فنڈنگ، مالم جبہ اور ہیلی کاپٹر کیسز میں ہونے والی بدعنوانیوں کا حساب نہیں لیا گیاتو دوسری طرف بلین ٹری سونامی اور بی آر ٹی منصوبوں میں ہونے والی مبینہ کرپشن کو دانستہ نظر انداز کیا گیا۔ علاوہ ازیں پاور سیکٹر، ادویات کی درآمد اور آٹا چینی سکینڈلز میں وزیراعظم عمران خان صاحب کے قریبی ساتھی ملوث پائے گئے لیکن کسی کے خلاف عملی طور پر کچھ نہیں ہو سکا۔