آٓئین، جمہوریت اور شائستگی کی فتح

کہاوت ہے کہ اس کرہ ارضی پر ایک ایسا ملک ہے جس کی سرحدیں دنیا کے ہر ملک سے ملتی ہیں اس کا نام ہے ریاست ہائے متحدہ امریکا۔ امریکا کی اہمیت محض اس کی دفاعی یا معاشی طاقت نہیں ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اس کی آئینی، جمہوری اور تہذیبی ترقی و استحکام میں سربلندی ہے۔

اندرونی سسٹم کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں اس کا عالمی کردار بھی اس کو سپرپاور بنانے میں کم اہم نہیں ہے۔ہمارے جیسے غریب ممالک کو جتنی امریکی امداد میں دلچسپی رہتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک امریکہ کی آئینی، جمہوری اور تہذیبی اقدار کے حوالے سے بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ انسانی حقوق اور فکری آزادیوں سے بھی مستفید ہو سکتے ہیں ۔

پرامن انتقالِ اقتدار کے حوالے سے امریکہ کی طویل اور درخشاں تاریخ ہے۔ ہمارے یہاں کئی طبقات اس تلاش میں رہتے ہیں کہ کوئی چیز ہاتھ آئے جسے بنیاد بنا کر امریکیوں پر خوب کیچڑ اچھالا جائے۔جمہوریت کی بہتر آبیاری کیلئے اوپن اور وسیع المشرب سوسائٹی کا قیام شرط اول ہے۔ اس پراسس میں بعض اوقات منفی ذہنیت والے لوگ بھی چرب بیانی یا جھوٹے سچے پروپیگنڈے کا سہارا لیتے ہوئے بہتر پوزیشن پر آ جاتے ہیں لیکن سسٹم اگر پائیدار بنیادوں پر استوار ہو تو ایسے کچرے کی ازخود تطہیر کرتا چلا جاتا ہے ۔ہمارے جیسے ممالک میں جمہوری ناکامی کی دیگر وجوہ کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہاں جمہوری تسلسل کو برقرار نہیں رہنے دیا جاتا۔

ابھی 20جنوری کو واشنگٹن میں جو انتقالِ اقتدار ہوا ہے اس پر بہت سے دوست احباب پوچھتے ہیں کہ آپ اس تبدیلی کوکس طرح دیکھتے ہیں؟اور اس کے عالمی سطح پر کیا اثرات ہوں گے۔ بالخصوص پاکستان یا مسلم ورلڈ کے حوالے سے؟۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکہ میں حکومتوں کے بدلنے سے اس کی پائیدار پالیسیاں جوہری طور پر تبدیل نہیں ہوتیں ہاں وقت کے ساتھ اس کی ترجیحات تبدیل ہوتی رہتی ہیں ۔ ریپبلکن کا زیادہ زور اگر نیشنل ایشوز پر ہوتا ہے تو ڈیموکریٹس کا انٹرنیشنل سناریو زیادہ اہم دکھتا ہے۔ اسی لئے وہ ہیومن رائٹس جیسے ایشوز کو نسبتاً بہتر اٹھاتے ہیں۔

تازہ ترین حالات میں امریکی فارن آفس کی ترجیحات یا پالیسیاں کیسی رہیں گی اس پر آنے سے قبل بہتر محسوس ہوتا ہے کہ صدر جوزف بائیڈن کی حلف اٹھانے کے بعد کی گئی افتتاحی تقریر پر طائر انہ نظر ڈالتے ہوئے تھوڑا جائزہ لے لیا جائے۔ کیونکہ ہمارے میڈیا میں اس تقریر کے مندرجات کی بازگشت کوئی بہت زیادہ سنائی نہیں دی ہے۔

 حالانکہ ہماری حکومتی و سیاسی قیادت کیلئے اس میں سیکھنے کے لائق بہت سی باتیں ہیں۔ ہمارا عجیب وتیرہ ہے کہ جو حکومت سنبھالتا ہے وہ بجائے اپنی اعلیٰ کارکردگی یا گڈگورننس کے ٹھوس نقوش چھوڑنے کے، سوتنوں کی طرح سابقوں کو الزام تراشی اور طعنہ زنی میں پورا حکومتی دورانیہ نکال دیتے ہیں۔ بالخصوص اب کے تو حد ہی ہو گئی ہے اپنی تمامتر نااہلیوں، کوتاہیوں اور شرمناک حد تک پہنچتے ہوئے اناڑی پن کو پچھلوں کے کھاتے میں ڈالنے کی گردان کو رس کی صورت گائی جا رہی ہے ۔

اس کے بالمقابل آپ امریکی منظرنامہ سامنے لائیے ٹرمپ نے پیہم جس نوع کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے رکھا بلکہ اس سے بھی کئی قدم آگے بڑھ کر پائیدار جمہوری سسٹم پر وار کرتے ہوئے اسے تہہ و بالا کر دینا چاہا مگر آفرین ہے نومنتخب امریکی قیادت پر اپنی پوری تقریر میں اس شخص کا ایک مرتبہ بھی نام تک نہیں لیا۔ اگر غلط اقدامات پر تنقید بھی کی ہے تو ایک شائستگی اور متانت کے ساتھ:

’آج میں نے وہی حلف پڑھا ہے جو پہلی بار جارج واشنگٹن نےپڑھا تھا یہ کہ آئین کی حفاظت کروں گا، جمہوریت کا دفاع کروں گا اور ہمیشہ انصاف پر کاربند رہوں گا۔ یہ کسی امیدوار کی فتح یا شکست نہیں ہے یہ جمہوریت کی فتح ہے۔ ہم نے اپنی قوم کیلئے بہت کچھ کرنا ہے اقتدار کی پرامن منتقلی کے ساتھ ہم نے تعمیر وترقی کے نئے سفر کا آغاز کرنا ہے۔ زخموں کو بھرنا ہے کورونا سے لڑنا ہے۔ سیاسی انتہا پسندی اور سفید فارم بالادستی کے تصورات کو توڑنا ہے۔ غصے ، ناراضگی، نفرت، بیماری ، بیروزگاری اور مایوسی کے خلاف قومی اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہے۔

سیاست بھڑکتی آگ جیسی نہیں ہے جو اپنے راستے کی ہر چیز کو بھسم کردے۔ ہمیں ایسی غیر مہذب جنگ کو ختم کرنا ہو گا جو نیلے کو سرخ کے خلاف، دیہاتی کو شہری ک خلاف، قدامت پسندی کو لبرل اپروچ کے خلاف کھڑے کرتی ہے ۔1863میں اسی جگہ ابراہم لنکن نے قومی اتحاد کے حوالے سے جو کچھ کہا تھا، آج میں بھی پوری روح کے ساتھ وہی کچھ کہہ رہا ہوں مارٹن لوتھر کنگ نے بھی یہاں اپنا یہی خواب بیان کیا تھا۔

تقسیم کی قوتیں نئی نہیں ہیں لیکن جس طرح ہم نے پہلے قومی اتفاق و اتحاد کے جذبے سے ان پر قابو پایا تھا، اسی طرح اب بھی کامیاب رہیں گے۔ سیاست میں آگ بگولا ہونے کی نہیں تھوڑی رواداری و عاجزی کی ضرورت ہے۔ بائبل میں ہے کہ اگر رات روتے ہوئے گزر جائے تب ہی خوشی کی صبح طلوع ہوتی ہے۔ آج ہمیں تقسیم کی نہیں ایک دوسرے کے احترام کی ضرورت ہے ۔اندھیروں کی نہیں روشنی کی وقار اور شائستگی کی ضرورت ہے۔ یہ نئی امیدوں کی کہانی ہے۔ 108برس قبل خواتین کو اپنے حق ووٹ کیلئے مارچ کرنا پڑا تھا، آج ایک خاتون یہاں امریکی نائب صدر کی حیثیت سے موجود ہیں اور میں تمام امریکیوں کا صدر ہوں۔ جنہوں نے مجھے ووٹ دیا ان کا بھی اور جنہوں نے مجھے ووٹ نہیں دیا، ان کا بھی صدر ہوں‘۔

عرض ِمدعا یہ ہے کہ اس کو کہتے ہیں قیادت قومی قیادت۔ اس کے بالمقابل ہم پاکستان میں جب اپنے سیاسی مخالفین کیلئے ہر روز چور چور کے نفرت انگیز الفاظ اور رویے دیکھتے ہیں میں چھوڑوں گا نہیں۔ میں یہ کردوں گا، میں وہ کردوں گا تو انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ یہ کیسی قیادت ہے جس میں شائستگی نام کی کوئی چیز سرے سے موجود نہیں ہے ۔ پاپولر سیاسی قیادت بننے کے پیچھے ایک پوری تاریخ ہوتی ہے۔ کسی بھی پاپولر سیاست دان کے پیچھے لاکھوں کروڑوں عوام کی محبتیں ہوتی ہیں اور جب آپ انہی مقبول سیاست دانوں کے خلاف یوں منافرت پھیلاتے ہیں تو سوچیں آپ کتنے اہل وطن کی دل آزاری کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے میں قومی ایکتا یا اتفاق و اتحاد کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے۔

(جاری ہے)