پی ٹی آئی کا سینیٹ انتخابات سے متعلق آئینی ترمیم لانے کااعلان
- جمعرات 28 / جنوری / 2021
- 5220
پاکستان تحریک انصاف آئینی اصلاحات کے لیے آئینی پیکج اگلے ہفتے کے شروع میں پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔ وزیراطلاعات و نشریات شبلی فراز نے وزیراعظم کے مشیر بابراعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہماری پارٹی انتخابات کو منصفانہ اور شفاف بنانے کے لیے اقدام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے گزشتہ انتخابات میں ہم نے خیر پختونخوا میں اپنے 20 اراکین اسمبلی کو نکال دیا تھا کیونکہ ان پر شبہ تھا کہ انہوں نے اپنے ووٹ کا غلط استعمال کیا اور ایسے ٹرانزیکشنز ہوئیں جو قابل قبول نہیں تھیں۔ اس کی ماضی اور حال میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہماری یہ کوشش اس مقصد کے حصول کے لیے ہے کہ سینیٹ اور دیگر انتخابات شفاف ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ آنے والے انتخابات بھی شفاف طریقے سے ہوں اور اس کے لیے جو بھی قانونی لوازمات کی ضرورت پڑے وہ کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کا اس بات پر زور ہے کہ ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کریں تاکہ یہ مقصد حاصل ہو سکے۔ اپوزیشن جماعتوں کے پاس بھی ایک موقع ہے کہ وہ اس مقصد کو کامیاب بنائیں۔
بابر اعوان نے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے حکومتی قانونی اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ آئین میں تین ترامیم کا پیکج تیار کیا ہے۔ سارے لوگوں نے ہمیشہ کہا کہ انتخابات شفاف ہونے چاہیے لیکن 1975 میں جو الیکشن ایکٹ بنا اس کے بعد آج تک انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔
بابراعوان کا کہنا تھا کہ ہم احتساب کے لیے پاکستان کی ساری پارلیمانی اور سیاسی جماعتوں کو روڈ میپ دے رہے ہیں کہ اس طرح ہم سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ اور ووٹ کی خرید و فروخت کو روک سکتے ہیں۔ اپوزیشن کی جماعتوں کو جمہوریت سے وابستگی اور کرپشن کے ذریعے سے سینیٹ انتخابات کو خراب کرنے سے بچانے کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔
ترمیم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کے تین حصے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 59 دو میں ایک ترمیم لا رہے ہیں۔ 1973 کے آئین میں اوپن ووٹ کا لفظ استعمال شامل کیا جائے گا۔ اس طرح ووٹنگ چھپی ہوئی نہیں رہے گی۔ دوسرے حصے میں آئین کے آرٹیکل 63، جس میں لکھا ہوا ہے نااہلیت کیا کیا ہوتی ہے اور اس کے ذیلی پیرا سی میں ترمیم ہوگی۔ اس طرح بیرون ملک مقیم پاکستانی دوہری شہریت کے باوجود انتخابات لڑ سکیں گے۔
تیسری ترمیم آئین کے آرٹیکل 226 میں ہے۔ جس میں لکھا گیا کہ وزیراعظم اور فلاں فلاں عہدوں کا انتخاب اوپن ہوگا اور ہم نے اس لائن میں صرف سینیٹ کا لفظ ڈالا ہے جس کا مطلب یہ ہوا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات بھی اوپن ہوں گے۔
واضح رہے کہ 23 دسمبر کو صدر مملکت نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا تھا۔ عدالت عظمیٰ میں دائر ریفرنس میں صدر مملکت نے وزیر اعظم کی تجویز پر سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کی تجویز پر عدالت عظمی کی رائے مانگی ہے۔
ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ آئینی ترمیم کے بغیر الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرنے کی اجازت دی جائے۔