ملک میں انتخابات کی وجہ سے طویل المدتی منصوبہ بندی نہیں ہوئی: وزیراعظم
- جمعرات 28 / جنوری / 2021
- 4460
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی قوم طویل مدتی منصوبے کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے ملک میں 5 سال کے بعد انتخابات ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں ہوئی۔
وزیراعظم عمران خان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے ایک بہت بڑا المیہ ہوا کہ جمہوریت کی وجہ سے 5 سال بعد جو انتخابات ہوتے تھے، ان انتخابات کی وجہ سے طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں ہوئی'۔
انہوں نے کہا کہ ڈیم طویل مدتی منصوبہ بندی سے بنتے ہیں اور جو بھی ملک ترقی کرتا ہے طویل مدتی منصوبہ بندی سے کرتا ہے۔ چین کو آج ہم دیکھ رہے ہیں دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معاشی طاقت اور سپر پاور ہے تو ان کی ترقی کا ماڈل طویل مدتی ہے۔ جب ہم چین میں گئے تو انہوں نے بتایا کہ اگلے 10 سال اور 20 میں کیا کریں گے۔ طویل منصوبہ بندی کے بغیر کوئی بھی قوم آگے نہیں بڑھ سکتی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں 5 سال کی مدت ہوتی ہے۔ کوشش ہوتی ہے 5 سال کے درمیان جو بھی چیز مکمل ہوجائے تاکہ عوام کو دکھائیں اور پھر اربوں روپے اشتہاروں پر خرچ کریں اور پھر اس کے اوپر الیکشن لڑیں۔ اس سے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے کئی معاہدے کیے ہیں جس میں دنیا کے مقابلے میں بڑی مہنگی بجلی حاصل کی۔ یہ سب اس لیے ہوا کہ مختصر مدتی منصوبہ تھی، اس میں کرپشن بھی تھی اور مختصر مدتی سوچ بھی تھی کہ اگلے الیکشن کا سوچیں اور اس کی بنیاد پر ہم الیکشن جیت کر آگے چلیں۔
عمران خان نے کہا کہ ہم نے 50 سال بعد دو بڑے ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا اور غالباً مہمند ڈیم جلد بنے گا جس کے پشاور پر مثبت اثرات پڑیں گے اورپانی کے مسائل بھی حل ہوں گے۔ دونوں منصوبوں میں صاف بجلی ہے جو اہمیت رکھتی ہے۔ دوسری بات پانی کا ذخیرہ ہے کیونکہ آگے جا کر پاکستان کو پانی کے مسائل آئیں گے اور اس کا اثر زراعت پر پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خود دار قوم بننا ہے جو اپنے پیر پر کھڑی ہو۔ جس کو خود اعتماد ہو، اپنے مستقبل پر اعتماد کرتی ہو، کسی پر انحصار نہیں کرتی، کسی سے قرضے یا بھیک نہیں مانگتی تب دنیا اس کی عزت کرتی ہے۔ یاد رکھیں عزت تو اس انسان کی ہوتی ہے جو خود دار ہوتا ہے۔ تجربہ کریں غریب سے غریب آدمی ہوگا جس میں غیرت اورخود داری ہوگی اس کی عزت کریں گے لیکن امیر سے امیر جھکا ہوگا تو دنیا میں اس کی کوئی عزت نہیں کرتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کا نظام ٹھیک کرنا ہے، تھوڑا وقت لگتا ہے۔ لوگوں کو فکر نہیں کرنی چاہیے کہ ابھی تبدیلی نہیں آئی، مائنڈ سیٹ تبدیل ہونے میں وقت لگتا ہے۔