سپریم کورٹ نے ڈینیئل پرل کیس کے مرکزی ملزم عمر شیخ کو رہا کردیا

  • جمعرات 28 / جنوری / 2021
  • 5680

سپریم کورٹ نے ڈینیئل پرل قتل کیس میں سندھ ہائی کورٹ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے مرکزی ملزم احمد عمر شیخ ک رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ سندھ حکومت عمر شیخ کی موت کی سزا بحال کروانا چاہتی تھی۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ نے عدالت عالیہ کے فیصلے کے خلاف صوبائی حکومت کی درخواست پر ایک کے مقابلے 2 کی اکثریت سے مختصر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے ملزم کی رہائی کا حکم دیا ہے۔  بینچ کے ایک رکن نے اس کی مخالفت کی۔

عدالت نے ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان اگر کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو انہیں فوری رہا کیا جائے۔ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ملزم کی پیروی کرنے والے وکیل محمود شیخ نے کہا کہ 'عدالت نے کہا کہ ایسا کوئی جرم نہیں جو اس نے اس کیس میں کیا ہو'۔

فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے ڈینیئل پرل کے اہلِ خانہ نے وکیل کے توسط سے ایک بیان میں کہا کہ 'آج کا فیصلہ انصاف کے ساتھ مذاق ہے۔ ان قاتلوں کی رہائی نے پاکستانی عوام اور صحافیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے'۔ دوسری جانب جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے ایک اور بینچ نے ملزمان کی رہائی روکنے کی اپیلوں پر سماعت کی۔

سماعت میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ احمد عمر شیخ کے کالعدم تنظیموں سے روابط ہیں۔ سندھ حکومت نے حساس معلومات سربمہر لفافے میں عدالت کو دیں۔ ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ شواہد موجود ہیں لیکن انہیں عدالت میں ثابت کرنا ممکن نہیں ہے۔  جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ جو مواد سپریم کورٹ کو دیا وہ پہلے کسی فورم پر پیش نہیں ہوا۔ جو معلومات کبھی ریکارڈ پر نہیں آئیں ان کا جائزہ کیسے لیں؟

انہوں نے استفسار کیا کہ ریاست کے پاس معلومات تھیں تو احمد عمر شیخ کے خلاف ملک دشمنی کا کیس کیوں نہیں چلایا؟  دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے کہا کہ حکومت نے احمد عمر شیخ کو کبھی دشمن ایجنٹ قرار نہیں دیا۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور یہ جنگ کب ختم ہوگی کوئی نہیں جانتا۔

جسٹس منیب اختر کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ شاید آئندہ نسلوں تک چلے۔ ریاست کا اپنے شہریوں کو ملک دشمن قرار دینا بھی خطرناک ہے۔ جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ریاست کے خلاف جنگ کرنے والا ملک دشمن ہوتا ہے۔

اس سے قبل بدھ کے روز ہونے والی سماعت میں ملزم عمر شیخ نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ اس نے امریکی صحافی کے قتل میں 'معمولی سا کردار' ادا کیا تھا۔ عمر شیخ کا 2019 میں تحریر کردہ ایک خط کہ جس میں اس نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ کے رپورٹر کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا، وہ سپریم کورٹ میں 2 ہفتے قبل جمع کروایا گیا تھا۔ تاہم ان کے وکیل نے بدھ کے روز اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ خط ان کے مؤکل نے ہی لکھا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ کے نام تحریر کردہ اس 3 صفحات پر مشتمل خط میں برطانیہ میں پیدا ہونے والے ملزم نے کہیں بھی یہ وضاحت نہیں کی تھی کہ ڈینیئل پرل قتل کیس میں اس کا معمولی کردار کیا تھا۔ یاد رہے کہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کراچی میں مذہبی انتہا پسندی پر تحقیق کررہے تھے۔ انہیں جنوری 2002 میں اغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

2002 میں امریکی قونصل خانے کو بھجوائی گئی ڈینیئل پرل کے قتل کی گرافک ویڈیو کے بعد عمر شیخ اور دیگر ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

ملزمان نے 2002 میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی۔ سندھ ہائی کورٹ نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کی  سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور کرلی تھیں جبکہ عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔ جو کہ وہ پہلے ہی پوری کرچکے تھے۔

سندھ ہائی کورٹ کے ملزمان کی رہائی کے حکم کے خلاف حکومت سندھ اور صحافی کے اہلِ خانہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔