حکومت ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو نہیں مانتی
- جمعہ 29 / جنوری / 2021
- 3910
پاکستان کی وفاقی حکومت نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی بدعنوانی کی رپورٹ کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار پرانے ہیں۔
حکومتی وزرا نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ جس ڈیٹا کی بنیاد پر یہ مرتب کی گئی وہ 2017، 2018 اور 2019 میں اکٹھا کیا گیا تھا۔ وزیرِ اعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ تاثرات پر مبنی تحقیق ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں اُس وقت کا ڈیٹا شامل کیا ہے جب اُن کی حکومت نہیں تھی۔
بدعنوانی پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے 'ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل' نے جمعرات کو جاری اپنی رپورٹ میں قرار دیا تھا کہ پاکستان میں بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے اور ملک میں ہر سطح پر رشوت ستانی موجود ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دنیا کے 180 ممالک میں بدعنوانی کے تاثر کے بارے میں سالانہ فہرست جاری کی۔ جس کے مطابق پاکستان انڈیکس میں چار درجہ تنزلی کے بعد 120 سے 124 ویں نمبر پر آگیا ہے۔
رپورٹ میں ایک سو اسی ممالک میں بدعنوانی سے متعلق تاثر کا احاطہ کیا گیا ہے اور اس اعتبار سے کل ایک سو اسی پوانٹس رکھے گئے ہیں۔ کسی بھی ملک میں کرپشن کو جانچنے کا کلیہ یہ رکھا گیا ہے کہ جس قدر کرپشن کے تاثر کے پوائنٹس زیادہ ہوں گے، اس ملک میں اس قدر زیادہ کرپشن خیال کی جائے گی۔ اس طرح پاکستان میں کرپشن کے تاثر کی درجہ بندی میں تنزلی آئی ہے اور کرپشن انڈیکس میں چار پوائنٹ کا اضافہ ہوا ہے۔
حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کا عزم لے کر 2018 میں برسرِ اقتدار آئی تھی۔ تاہم اس کے دو سالہ دور میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی درجہ بندی میں پاکستان کی مجموعی طور پر سات درجے تنزلی ہوئی ہے۔ سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو پارلیمنٹ میں زیرِ بحث لانے کے لیے جمعے کو قومی اسمبلی میں تحریکِ التوا جمع کرا دی ہے۔
تحریکِ التوا میں کہا گیا ہے کہ 2018 کے بعد پاکستان کے کرپٹ ملک ہونے کے تاثر میں سات درجے اضافہ ہو چکا ہے جس سے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ حزبِ اختلاف کی جماعتیں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی بدعنوانی میں اضافے سے متعلق رپورٹ پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔
پاکستان میں بدعنوانی کے تدارک کے لیے قائم ادارے قومی احتساب بیورو (نیب) نے بھی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں نیب کی گزشتہ دو سال کی غیر معمولی کوششوں کو سراہا ہے۔ نیب نے ملک سے بدعنوانی کے خاتمے پر یقین رکھتا ہے تاکہ لوٹی گئی رقم وصول کی جاسکے جب کہ نیب مقدمات میں سزا کی شرح 68.8 ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان چیپٹر کے چیئرمین سہیل مظفر کہتے ہیں کہ نیب کے غیر معمولی اقدامات کے باوجود ملک میں بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک بیان میں اُن کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برس میں نیب نے کرپشن کے 365 ارب روپے جب کہ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے 300 سو ارب روپے برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس کے باوجود بدعنوانی میں پاکستان کا درجہ بندی خراب ہوئی ہے۔