ٓئین، جمہوریت اور شائستگی کی فتح(2)

کہا جاتا ہے کہ امریکی حکومتوں کے بدلنے یا آنے جانے سے امریکا کی جو مستقل پالیسیاں ہیں ان میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ مثال کے طور پر اسرائیل یا سعودی عرب کے ساتھ امریکیوں کے جو قریبی یا تاریخی تعلقات ہیں یہ تو ہو سکتا ہے ان میں تھوڑی کمی بیشی ہو جائے، کسی حکومت میں گرمجوشی بہت زیادہ ہو اور کسی دوسری حکومت میں اتنی زیادہ گرمجوشی نہ ہو لیکن سرد مہری یا خرابی کبھی نہیں آتی۔

صدر اوباما کی ڈیموکریٹس گورنمنٹ نے اپنے صدارتی دورانیے کا آغاز ہی دورہ سعودی عرب اور مصر سے کیا تھا۔ اسی طرح صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن حکومت آئی تو انہوں نے بھی اپنے غیر ملکی دورے کا آغاز سعودی عرب سے کیا بلکہ اس میں اپنے سعودی و امریکی اتحادی مسلم ممالک کے قائدین کو بھی بلایا گیا۔ صدر اوباما خود کو اسرائیل کا سب سے بڑا دوست اور ہمدرد کہا کرتے تھے لیکن صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے یعنی اسرائیل کو نوازنے کے لئے جو اقدامات کئے ہیں، وہ ریکارڈ توڑ ہیں۔ انہوں نے جس طرح پہلے سے یہ اعلان کر رکھا تھا کہ وہ امریکی سفارت خانے کی یروشلم منتقلی پر عمل درآمد کریں گے اور پھر انہوں نے یک طرفہ طور پر یہ سب کر دکھایا۔ انہوں نے اسرائیل کو تسلیم کروانے کے لئے اپنے اتحادی عرب و اسلامی ممالک پر اپنی حکومت کے اختتام تک دباؤ ڈالے رکھا۔ اس سلسلے میں انہیں کامیابیاں حاصل بھی ہوئیں۔

متحدہ عرب امارات، سلطنت اومان، بحرین مراکو اور سوڈان جیسے ممالک مصر، اردن اور ترکی جیسے اسرائیل کے دوست ممالک کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ سعودی عرب نے اگرچہ باضابطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا لیکن خلیجی ممالک نے امریکا کے مطالبے پر جس طرح اسرائیل کو تسلیم کیا ہے، یہ سعودیوں کے تعاون یا اشیر باد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اور پھر جس طرح سعودی عرب نے اسرائیلی طیاروں کے لئے اپنی فضائی حدود کھولی ہیں، یہ سب واضح کرتا ہے کہ اندرونی تلخیاں ختم ہو کر اچھے تعلقات کا آغاز ہو چکا ہے۔ اور مناسب وقت پر تسلیم بھی کیا جا سکتا ہے۔

تین نومبر کو جونہی صدر ٹرمپ کو انتخابی معرکے میں شکست ہوئی تو عالمی میڈیا میں اس نوع کی خبریں نمودار ہوئیں کہ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ نے اسرائیلی وزیراعظم اور سعودی کراؤن پرنس میں خفیہ مقام پر ملاقات کا اہتمام کروایا جس کا مقصد یہ تھا کہ نو منتخب ڈیموکریٹس قیادت کے ساتھ دونوں ممالک نے ایران کے خلاف کیا مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ مسلم دہشت گردی یا انتہا پسندی کے خلاف زور دار نعرہ لگاتے ہوئے برسراقتدار آئے تھے۔ اس تناظر میں ان سے یہ توقع ہی عبث تھی کہ وہ فلسطینیوں یا کشمیریوں کے لئے کسی نوع کی کوئی آواز اٹھائیں گے۔ جب وہ یہ کہہ رہے تھے کہ کشمیر ایشو پر پاکستان اور انڈیا کے درمیان ثالثی کے لئے تیار ہیں تو صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ محض لپ سروس کر رہے ہیں۔ مگر ہمارا یہ بھولپن تھا کہ ہم اس بیان کو بھی اپنی بہت بڑی کامیابی گرداننے لگے۔

امریکا میں پاکستان کے موجودہ سفیر ڈاکٹر اسد مجید خاں ہمارے پرانے دوست اور منجھے ہوئے سفارت کار ہیں۔ آج ہی اُن کے ساتھ درویش کی تفصیلی گفتگو ہوئی تو استفسار کیا کہ آپ ریپبلکن کے بالمقابل ڈیموکریٹس کی حالیہ فتح کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ بالخصوص انڈو پاک ریلیشن کے حوالے سے؟۔ سفیر محترم بولے کہ امریکا سے ہمارے مراسم کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹس یہ دونوں سے بالاتر ہیں کیونکہ دونوں کے ادوار میں کوئی فرق نہیں رہا ہے۔ نو منتخب امریکی صدر جوبائیڈن ماقبل نائب صدر کی حیثیت سے پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں اور پاکستان سے خوب آگہی رکھتے ہیں۔ وہ ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں کوئی تیس برس سے زائد تو وہ سینیٹر رہ چکے ہیں۔ ہم امریکا سے اپنے تعلقات کو دوسرے ممالک کے لینزز سے نہیں دیکھتے۔ ہمارا سوال تھا کہ صدر جوبائیڈن کی جو ٹیم سامنے آ رہی ہے، اُس میں کوئی 18کے قریب انڈین نژاد امریکی ہیں۔ اس طرح اُن کی نائب صدر کملا دیوی ہیرس کا پس منظر بھی انڈین ہے۔ اس لئے پاکستان میں عوامی سطح پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جوبائیڈن حکومت پاکستان کے حق میں بہتر نہیں ہو گی؟

ڈاکٹر اسد مجید خاں بولے یہ تاثر قطعاً درست نہیں ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ امریکا تو ملک ہی آباد کاروں کا ہے۔ یہاں ہر قوم نسل اور رنگت کا بندہ ترقی کرتے ہوئے اعلیٰ مقام تک پہنچ سکتا ہے۔ امریکن چاہے برٹش پس منظر کے ہوں یا انڈین نژاد یا افریقین، جب وہ پالیسی مشینری میں آتے ہیں تو وہ صرف امریکن ہوتے ہیں۔ آپ دیکھیں کہ چائینز پس منظر کے بہت سے امریکی اہم ذمہ داریوں پر فائز ہیں تو کیا وہ چائینہ کے لئے کام کریں گے۔ وہ اپنی ذمہ داریاں امریکی پالیسیوں کی مطابقت میں ادا کریں گے۔ انڈیا بلاشبہ آبادی کے لحاظ سے بڑا ملک ہے بلکہ امریکا کے لئے وہ بڑی منڈی ہے۔ لیکن پاکستان کی اہمیت اپنی جگہ ہے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اس کی علاقائی اہمیت اور خطے میں کردار امریکیوں پر واضح ہے۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی ہمارے امریکا کے ساتھ قریبی مراسم قائم ہو گئے تھے۔ ہماری ایگریکلچر فیلڈ میں امریکا نے بہت تعاون کیا۔ ریسرچ اداروں نے گندم اور چاول کی نئی اقسام سے لے کر پیداوار بڑھانے کے لئے بہت تعاون کیا۔ افغانستان میں امن قائم کرنے کے لئے اس وقت پاکستان اور امریکا کا تعاون سب کے سامنے ہے۔

امریکا سے ہمارے تعلقات کو ڈالروں سے نہیں ماپا جانا چاہئے ہماری موجودہ گورنمنٹ کا تو سلوگن ہی یہ ہے کہ ہم ایڈ نہیں ٹریڈ چاہتے ہیں۔ آپ دیکھیں الحمد للہ پچھلے دس مہینوں میں کے علاوہ امریکا سے ہماری ایکسپورٹس میں گیارہ پرسنٹ خوش آئند اضافہ ہوا ہے۔

ترسیلاتِ زر 47فیصد بڑھی ہیں۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ امریکی کمپنیوں کی پاکستان میں زیادہ سے زیادہ انویسٹمنٹ کروائیں اور اس سلسلے میں ہمیں کامیابیاں مل رہی ہیں۔

کشمیر کے حوالے سے ایک سوال پر پاکستان کے سفیر نے کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی جو خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ہم جوبائیڈن حکومت سے یہ توقع رکھیں گے کہ وہ اس کے خلاف آواز اٹھائے گی۔ پاکستان اور انڈیا دونوں نیو کلیئر پاور کی حامل ذمہ دار ریاستیں ہیں دنیا کی ٹوٹل آبادی کا پانچواں حصہ اس خطے میں ہے کوئی بھی امریکی حکومت اسے کیسے نظر انداز کر سکتی۔ (جاری ہے)