ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن ختم کرنے والوں کا چہرہ بے نقاب کردیا: فضل الرحمٰن

  • ہفتہ 30 / جنوری / 2021
  • 5220

جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ملک میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن کا خاتمہ کرنے والوں کا چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ براڈشیٹ نے ان کی کارکردگی کا پول کھولا ہے۔ قوم کے اتنے زیادہ پیسے کا نقصان کس پاداش میں ہوا ہے، یہ ان کی نااہلیوں کی وجہ سے ہے۔ ملائیشیا میں ہمارا جہاز ان کی نااہلیوں کی وجہ سے روکا گیا ہے۔  پاکستان بین الاقوامی سطح پر اتنی سبکی کبھی نہیں اٹھانی پڑی جتنی اس دور میں پاکستان رسوا اور ذلیل ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں ضروری ہے کہ نام نہاد حکومت کا خاتمہ ہو اور  دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔ ایک صاف اور شفاف انتخاب کے ذریعے قوم کی حقیقی نمائندہ حکومت اس ملک میں ناگزیر ہو چکی ہے اور مزید قوم کا امتحان نہ لیا جائے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ریاست اس وقت خطرے میں ہے۔ ایک قوم بن کر ہم نے اس ملک کو بچانا ہے۔ اگر یہ موجود حکومت رہتی ہے تو ملک کی بقا کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔  ہم درحقیقت پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان نااہلوں سے اس قوم کو نجات دلانا قومی فریضہ بن چکا ہے اور ہم اس قومی فریضے کو ادا کررہے ہیں۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ نے کہا کہ پی ڈی ایم اس وقت متحد ہے۔ حالات کے مطابق بہترین طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے اور 5 فروری کو مظفرآباد میں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں گے اور بہت بڑا مظاہرہ ہو گا۔ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔

سینیٹ انتخابات میں پی ڈی ای میں شریک جماعتوں کی بتدریج شرکت کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں اس حوالے سے ایک سوچ تھی کہ اگر استعفے آ جاتے ہیں اور سندھ اسمبلی ٹوٹ جاتی ہے تو پھر انتخابی حلقہ ختم ہو جاتا ہے اور سینیٹ کے الیکشن نہیں ہو سکیں گے۔

بعد میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) اور جمعیت علمائے اسلام(ف) سے وابستہ آئینی ماہرین نے اس پر رائے دی کہ ایک اسمبلی کی تحلیل سے الیکٹورل کالج تحلیل نہیں ہوتا۔ الیکشن پھر بھی ہوں گے تو ہمیں فوری طور پر اپنی حکمت عملی تبدیل کرنی پڑی۔ اس حوالے سے ضمنی الیکشن میں بھی حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور سینیٹ الیکشن میں بھی حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو سینیٹ بھی ان نااہلوں سے بھر جائے گی۔

اوپن بیلٹ کے حوالے سے سوال پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت کو اپنے لوگوں اور اپنے ووٹ پر اعتماد نہیں ہے۔ ان کو پتہ ہے کہ یہ ہمارے لسٹ کے لوگ نہیں بلکہ کسی اور کی فہرست کے لوگ ہیں اور میرا اندازہ ہے کہ انہیں اپنا ووٹ بھی نہیں مل سکے گا۔ ہماری جنگ اسٹبلشمنٹ نہیں بلکہ حکومت کے ساتھ ہے۔ اسٹبلشمنٹ سے ہمیں شکایت ہے اور یہ جو کچھ مصیبت قوم پر مسلط ہے اس میں اسٹبلشمنٹ اپنے آپ کو ذمے دار تسلیم کرے۔

جمعیت علمائے اسلام(ف) کے قائد نے کہا کہ ہم کسی ادارے سے جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر وہ غلط کام کرتا ہے تو کیا غلط کو غلط بھی نہ کہیں۔ شکایت اور گلہ بھی نہ کریں، یہ کوئی انڈیا کی فوج ہے کہ ہم اس سے شکوہ نہ کریں اور دشمن سمجھیں۔ اپنے سے ہی شکایت ہوتی ہے۔ میں پاکستان کے اداروں سے شکایت کرتا ہوں، میں الیکشن کمیشن ، نیب، اسٹیبلشمنٹ سے شاکی ہوں جو اس قسم کی حرکتیں کریں۔ پارٹیوں کو توڑنے کا کردار ادا کریں، ان سے خفیہ ملاقاتیں کریں، لالچ دیں، جب یہ چیزیں ہم تک پہنچیں گی تو گلہ تو ہو گا۔