امریکا نے ڈینیئل پرل کیس کے ملزم کی حوالگی کا مطالبہ نہیں کیا: وزیر خارجہ
- ہفتہ 30 / جنوری / 2021
- 3830
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے ڈینیئل پرل کیس کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے لیکن انہوں نے ملزم کی حوالگی کا مطالبہ نہیں کیا۔
ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انتھونی بلنکن سے گفتگو کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ ان سے اچھی گفتگو ہوئی اور ہم نے فیصلہ کیا ہے آنے والے دنوں میں رابطہ قائم رکھیں گے۔ وزیر خارجہ امریکا کے نئے ہم منصب سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے انہیں اپنا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ فریقین نے دوطرفہ ایجنڈے پر پیشرفت اور خطے اور دنیا میں مشترکہ مفادات کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے پراتفاق کیا۔
میڈیا سے گفتگو میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ میں نے امریکی ہم منصب سے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ اس خطے میں امن و استحکام ہو اور ہماری ترجیح ہے کہ پاکستان کی معاشی مشکلات پر ہم غلبہ پائیں، اس ملک میں خوشحالی اور سرمایہ کاری ہو۔
انہوں نے ڈینیئل پرل کیس کے حال ہی میں آنے والے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں ایک فیصلہ آیا جس پر امریکی وزیر خارجہ نے تشویش کا اظہار کیا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ملزم عمر شیخ نے اعتراف جرم کیا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ امریکا کے نامور صحافی ڈینیئل پرل کو قتل کرنے کے جرم میں وہ ملوث ہیں۔ ڈینیئل پرل کے خاندان کو انصاف ملنا چاہیے۔ ہماری بھی خواہش ہے کہ قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے انہیں انصاف ملنا چاہیے۔
عمر شیخ کی حوالگی کے مطالبے کے حوالےسے سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکا نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ صوبہ سندھ کی حکومت نے وفاق سے مشاورت کے بعد فوری طور پر نظرثانی درخواست دائر کی ہے۔ اس میں سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کے لئے کہا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف پیشرفت کی ہے۔ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے خلاف ہم نے اپنے علاقوں کو صاف کیا ہے اور ہمیں ان ہزاروں خاندانوں کا احساس ہے جو اس سے متاثر ہوئے ہیں۔
بین الافغان مذاکرات کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنا کردار کر چکا اور ادا کررہا ہے۔ پاکستان یہ کہتا آیا ہے کہ یہ تاریخی اور سنہری موقع ہے اور اس کو ضائع نہ کریں۔