براڈ شیٹ کا ایک سِرا یہ بھی ہے!
- تحریر
- ہفتہ 30 / جنوری / 2021
- 3320
سیاست کے میدان میں پہلے کیا کم گرمی تھی جو اچانک براڈ شیٹ نے دھما چوکڑی مچا دی۔ برطانیہ کی ایک ثالثی عدالت نے نیب کو براڈ شیٹ کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تو مجبوراٌ حکومت کو یہ رقم ادا کرنی پڑی۔ سبکی الگ ہوئی کہ لندن میں سفارتخانے کے بنک اکاؤنٹ میں موجود رقم منجمد کرکے اس سے ادائیگی وضع کرنے کا پابند کیا گیا۔
اس کے ساتھ ہی براڈ شیٹ کے ایک صاحب کاوے موسوی نام کے اَدھر اُدھر میڈیا پر دعوے دار ہیں کہ ان کی زنبیل میں پاکستان سے غیر قانونی منتقل دولت کے اب بھی بہت سے سراغ باقی ہیں، موقع ملنے کی دیر ہے اور پھر دیکھئے۔۔۔ حکومت اور اپوزیشن با لخصوص ن لیگ کے زعما کے بیانات اور جوابی بیانات نے خوب رونق لگا رکھی ہے۔ حکومت مصر ہے کہ ن لیگ ثالثی عدالت کے ایوارڈ کا اردو ترجمہ کروا کے پڑھے تو انہیں دودھ اور پانی کا فرق پتہ چل جائے گا۔ ن لیگ کے ترجمان اسے نیب اور حکومت کی ایک اور ناکامی سے تعبیر کرتے نہیں تھکتے۔ وزیر اعظم نے جھٹ سے ایک وزارتی کمیٹی بنائی اور ایک عدالتی کمیشن بھی قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔ بظاہر کمیشن کے ٹی او آرز میں یہ بھی شامل ہے کہ معلوم کرے کہ یہ معاہدہ کرتے وقت اور منسوخ کرتے وقت اس کی قانونی نزاکتوں کا خیال کیوں نہ رکھا گیا؟ کیونکر ایک پراسرار عجلت کے ساتھ ایک نو زائیدہ کمپنی کے ساتھ ایسا معاہدہ کیا گیا جسے کے دامن سے بعد میں نقصان اور جگ ہنسائی کے سوا کچھ حاصل وصول نہ ہوا۔
اللہ کرے کہ ٹی او آرز میں طے کردہ نکات پر حقائق سامنے آ سکیں لیکن ایک حقیقت کئی سالوں سے ہمارا منہ چڑا رہی ہے کہ بین الاقوامی معاہدے کرتے ہوئے بیشتر اوقات ہمارے حکام اور افسران نااہل اورنا عاقبت نا اندیش ثابت ہوئے ہیں۔ براڈ شیٹ کے علاوہ حالیہ سالوں میں ریکو ڈک کا کیس بھی عالمی سطح پر پاکستان کے گلے میں ہڈی بنا ہوا ہے۔ اس سے قبل ترکی کی فرم کارکے کے ساتھ رینٹل پاور کا بھی پاکستان کیس ہار چکا۔ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والے کئی اداروں نے بھی جب حکومت کو غیر ممالک کی عدالتوں کے کٹہرے میں کھڑا کیا، تو بھی ہمارے حصے میں ہزیمت ہی آئی۔ ا س کے بعد آؤٹ آف کورٹ تصفئیے کی کوششیں اور بعض صورتوں میں تو سفارتی تعلقات کی ڈوریاں بھی ہلانا پڑیں۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ہم بار بار اسی ہزیمت اور شکست خوردگی کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟ جواب بہت سادہ ہے اگر سیاسی تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں تو! انٹرنیشنل کمپنیوں یا اداروں کے ساتھ قانونی معاہدے بہت نازک اور پیچیدہ ہنر ہے، ان معاہدوں کی ڈرافٹنگ کے وقت تمام اسٹیک ہولڈرز کو سر جوڑ کر تمام معلومات اور معاہدے کی ہر شق کے قانونی عواقب پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ معاہدے میں فریقین کی ذمہ داری اور کردار کو مکمل واضح کرنا، مالی اور دیگر کمٹمنٹ اور ٹائم شیڈول طے کرتے وقت حد درجہ دور اندیشی کی ضرورت ہوتی ہے، کمٹمنٹ اور ٹائم شیڈول پر پورا نہ اترنے کی صورت میں فریقین پر کیا جرمانہ ہو سکتا ہے یا ہرجانہ عائد ہو سکتا ہے، تاخیر یا عدم تکمیل کی صورت میں ثالثی کیسے کی جائے گی؟ پاکستان سے باہر کی جائے گی یا پاکستان میں؟ ثالثی یا قانونی مقدمہ کن قوانین کے تحت ہو گا؟ معاہدے کی منسوخی کی صورت کیا ہوگی؟
یہ اور ایسے دیگر قانونی نکات کوایک متوازن قانونی معاہدے کی شکل دینا ایک قانونی مہارت ہے جو کمیاب اور مہنگی ہے۔ مہارت اور دقتِ نظر سے کئے گئے معاہدوں کی صورت میں دوسرا فریق کل کلاں اگر عدالت میں جائے بھی تو پاکستان اور اس کے اداروں کی جانب سے کیے گئے قانونی معاہدوں کی اعلی درجے کی دستاویز ہی اس کی بہترین ضمانت ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کی حکومت اور اس کے اداروں کا بین الاقوامی قانونی معاہدے کرتے وقت انداز اور ویہ انتہائی لاپرواہی، غیر ذمہ دارانہ اور اکثر جلد بازی پر مشتمل ہوتا ہے۔ بیرونی سرمایہ کار سرمایہ کاری سے قبل بہت نرم گو، شفیق اور ہمدرد نظر آتے ہیں۔ ان کی پشت پر دیگر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ کام کرنے، ان کے سسٹم کی خامیوں کی گہری سوجھ بوجھ اور بہترین وکلاء کی مہارت موجود ہوتی ہے۔ ا س کے برعکس ہمارے اقتدار کے ایوانوں میں موجود حکام میں سے بیشتر اپنے انتہائی محدود سیاسی مفادات کے زیرِ اثر ہوتے ہیں، اس پر مستزاد ایک پر اسرار رازداری اور جلد بازی بھی ہوتی ہے۔
کہنے کو وزارت قانون یا اداروں کے قانونی مشیران موجود ہوتے ہیں مگر مقتدر ایوانوں سے جلد ی اور ٌ فوراٌ فورا ٌ ٌکا دباؤ قانونی معاہدے کی ڈرافٹنگ میں درکار وقت کو بھی وقت کا زیاں سمجھتے ہیں۔ ایسے میں قانونی سقم کی نشاندہی کرنے والوں کو مین میخ نکالنے اور روڑے اٹکانے کے الزام میں ان ایوانوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کسی ایک حکومت کی بات نہیں، اقتدار کے ایوانوں مین الّا ماشائاللہ ایسا ہی رویہ روا رکھا جاتا ہے۔ قانونی پہلووں میں سقم کی نشاندہی کرنے والے بار بار عتاب کو شکار ہوتے ہیں تو ان اداروں میں دوسرے کام کرنے والے جی حضوری کرکے ’مشکوک دستاویز‘ پر دستخط کرکے صاحب بہادر کی خوشنودی کے امیدوار رہتے ہیں۔
پاکستان اور اس کے ادارے بار بار بین لاقوامی عدالتوں میں قانونی جنگ کیوں ہارتے ہیں؟ اس پس منظر میں اس سوال کا جواب سمجھنا کوئی مشکل نہیں۔ دنیا میں قانون کی عملداری کس درجہ سخت گیر اور ہمہ گیر ہے، ا س کایک اندازہ حال ہی میں ملائیشیا میں پی آئی اے کے طیارے کو عین پرواز کے وقت روکنے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ پی آئی اے نے کمپنی کو ادائیگی کرکے عدالت سے واگزاری کی اجازت لی۔ ہمارے ہاں چہار جانب جاری زوال نے قانونی نظام کو بھی شکستہ کر دیا ہے اور قانون کے بارے میں عمومی رویے بھی اسی لاپرواہی کا شکار ہیں مگر دنیا میں قانونی نظام معاہدوں کی پاسداری پر استوار ہے۔ اس نکتے کو سمجھنے اور ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے سے آئندہ ایسے یکطرفہ خطرناک نتائج کے حامل معاہدوں سے بچا جا سکتا ہے ورنہ کل ریکوڈک اور کارکے تھا، آج براڈ شیٹ او رکل کوئی اور تماشا ہمارا منتظر ہوگا!