ویکسین کی برآمد پر پابندی: عالمی ادارہ صحت کی یورپی یونین پر تنقید
- تحریر بی بی سی اردو
- اتوار 31 / جنوری / 2021
- 7890
عالمی ادارہ صحت نے یورپی ممالک پر کورونا وائرس کی ویکسین کی یورپی حدود سے باہر برآمد پر پابندیاں عائد کرنے پر تنقید کی ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق ان اقدامات سے وبا پر قابو پانے میں طویل عرصہ لگ سکتا ہے۔
یورپی یونین نے یہ پابندی اس وقت عائد کی جب ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں کی طرف سے یورپی ممالک کو ویکسین کی فراہمی میں کمی کے امکان پر تنازع پیدا ہوا۔ تاہم عالمی ادارہ صحت کی نائب سربراہ میرانجیلا سیماؤ نے کہا ہے کہ یہ بہت پریشان کن رحجان ہے۔ اس سے قبل ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا تھا کہ ویکسین پر قومی تسلط سے اس وبا سے چھٹکارا حاصل کرنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
ایک آن لائن اعلیٰ سطحی اجلاس، ڈیوس ایجنڈا، میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کی ذخیرہ اندوزی سے وبا طویل عرصے تک رہ سکتی ہے، جس سے معاشی بحالی سست روی کا شکار ہو گی اور اس طرح کے اقدامات اخلاقی دیوالیہ کا سبب بنیں گے، جس سے عالمی سطح پر عدم مساوات مزید بڑھ سکتی ہے۔ ویکسین کی فراہمی میں کمی کے تنازع کے بعد یورپی یونین اب اپنی حدود میں تیار ہونے والی ویکیسن کی برآمد پر پابندیاں عائد کر رہی ہے۔
ویکسین تیار کرنے والی کمپنیان اگر یورپی ممالک کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر پورا نہیں اترتیں تو یورپی یونین میں شامل ممالک کو یہ اختیار ہے کہ وہ ویکیسن کی دوسرے ممالک تک رسائی پر پابندی عائد کر دیں۔ یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ 'ہمارے لیے اپنے شہریوں کا تحفظ ترجیح ہے اور اس وقت ہمیں جس طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے ان میں اس طرح کے اقدامات اٹھانے کے سوا کوئی اور رستہ نہیں بچا ہے۔
ان پابندیوں سے دنیا بھر میں سو سے زائد ممالک متاثر ہوں گے، جن میں برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا بھی شامل ہیں۔ مگر کئی ممالک کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہے جن میں غریب ممالک بھی شامل ہیں۔ تاہم یورپی یونین کو احتجاج کے بعد اس پابندی سے پیچھے ہٹنا پڑا تھا۔
یورپی یونین کا اصرار ہے کہ اس کی طرف سے پاپندی عائد کرنے کا یہ قدم عارضی ہے اس کا مقصد ویکسین کی برآمد کو روکنا نہیں ہے۔ یہ خبر اس وقت سامنے آئی جب یورپی ممالک کا ویکیسن تیار کرنے والی کمپنی آسترا زینیکا سے ویکسین کی سپلائی اور تقسیم میں سست روی پیدا ہونے پر تنازع پیدا ہوا۔ جمعے کو یورپی کمیشن نے اپنے مؤقف کی حمایت میں آسترا زینیکا کمپنی کے ساتھ اپنا ایک خفیہ معاہدہ بھی عام کیا ہے، جس کے تحت یہ کمپنی یورپین ممالک کو جلد ویکسین فراہمی کے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
یہ معاہدہ فارماسوٹیکل کمپنی کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ ویکسین کی تیاری اور اس کی تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ آسترا زینیکا نے ویکسین کی ترسیل میں تاخیر کی وجہ نیدر لینڈ اور بلجیئم میں پلانٹس میں خرابی بتائی ہے۔
یورپی یونین کی طرف سے جاری کردہ نئے ضوابط کے تحت اس کمپنی کو یورپین یونین کی حدود سے باہر ویکسین کی فراہمی سے قبل اجازت لینا ہو گی۔ کمپنی کی طرف سے برآمدگی اجازت کی درخواست پر یورپین یونین کے تمام 27 ممالک غور کریں گے۔ فائزر کمپنی کی طرف سے بلجیئم میں تیار کردہ ویکسین اس وقت برطانیہ برآمد کی جا رہی ہے۔ یورپی یونین کا اصرار ہے کہ آسترا زینیکا کمپنی کی طرف سے جو ویکیسین برطانیہ کے اندر تیار ہو رہی ہے، معاہدے کے تحت یورپی یونین کے شہریوں کا اس پر پہلا حق ہے۔
یورپین یونین کا فائزر کمپنی سے بھی ویکسین کی سپلائی پر تنازع ہے، جو معاہدے کے تحت مارچ تک یورپین یونین کو اس مقدار میں ویکسین فراہم نہیں کر سکے گی۔ فائزر نے اس کمی کی وجہ بلجیئم میں ہنگامی بنیادوں پر کمپنی میں توسیع کو بتایا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ترجمان مارگریٹ ہارس نے بی بی سی کو بتایا کہ کورونا ویکسین کے خلاف تیار کی جانے والی 95 فیصد ویکسین صرف دس ممالک کے پاس ہے جبکہ ابھی تک صرف دو کم اور متوسط آمدنی والے ممالک نے ویکسین لگانے کا عمل شروع کیا ہے۔