روسی اپوزیشن رہنما نوالنی کے حق میں احتجاج، تین ہزار سے زائد مظاہرین گرفتار

  • اتوار 31 / جنوری / 2021
  • 4290

روس کی پولیس نے اتوار کو حکومت مخالف سیاست دان الیکسی نوالنی کے حق میں مظاہرے میں شریک تین ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بھی نوالنی کے حق میں مظاہرہ کرنے والے سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا تھا۔ نوالنی کے حامیوں کی طرف سے منگل کو اُن کے خلاف مقدمے کے آغاز پر بھی ملک بھر میں مظاہروں کی کال دی گئی ہے۔ احتجاج میں شریک مظاہرین نے حکام کے انتباہ کی پرواہ کیے بغیر ملک کے مختلف حصوں میں مظاہروں میں حصہ لیا۔

دارالحکومت ماسکو اور دوسرے بڑے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں احتجاجی ریلی سے پہلے 250 افراد کو زیر حراست لے لیا گیا۔ مظاہرے سے قبل ماسکو پولیس نے سات میٹرو اسٹیشنز بند کرنے کا اعلان کیا تھا اور شہر کے مرکزی علاقوں کی طرف پیدل جانے والے لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا تھا۔ اس موقع پر حکام کی طرف سے کئی دکانوں اور ریستورانوں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا جب کہ شہر کے وسط میں ٹریفک کو بھی متبادل راستوں پر چلنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔

یہ مظاہرے نیوالنی کی حال ہی میں جرمنی سے روس واپسی پر گرفتاری کے بعد سے ہی جاری ہیں۔ نیوالنی پر گزشتہ سال اگست میں زہر کے ذریعے جان لیوا حملہ کیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے انہیں علاج کے لیے جرمنی منتقل کیا گیا تھا۔ نیوالنی کو محکمہ جیل کی درخواست پر وطن واپسی پر ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان پر  الزام ہے کہ نوالنی نے 2014 میں منی لانڈرنگ کیس میں معطل کی جانے والی ساڑھے تین سال قید کی سزا کے عوض عائد کی جانے والی شرائط پوری نہیں کیں۔

نیوالنی کا یہ مؤقف رہا ہے کہ اُن پر مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے جاتے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ روس کے حزبِ اختلاف کے سینئر رہنما اور حکومت کے ناقد 44 سالہ الیکسی نیوالنی کو بے ہوشی کی حالت میں گزشتہ سال اگست میں روس سے جرمنی منتقل کیا گیا تھا۔ الیکسی نولنی سائبیریا سے ماسکو آتے ہوئے جہاز میں بے ہوش ہو گئے تھے۔

ان کے قریبی ساتھیوں نے انہیں مبینہ طور پر زہر دینے کے الزامات عائد کیے تھے۔ اس حوالے سے نیوالنی کے حامیوں کی جانب سے روسی صدر ولادی میر پوٹن پر بھی الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم پوٹن انتظامیہ ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔

امریکہ اور یورپی یونین نے نوالنی کی گرفتاری اور مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہوئے روس پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی پاسداری یقینی بنائے۔