کرپشن: مادرِ فطرت کی بیٹی ہے
- تحریر مسعود مُنّور
- اتوار 31 / جنوری / 2021
- 14580
واقعہ کربلا مجھے ہمیشہ تجدید میثاقِ الست کی یاد دلاتا ہے۔ اپنے موقف کے لیے حضورِ حق میں زندگی کا نذرانہ پیش کردینا ، ایک نئے انسان کے جنم کا نقطہ ء آغاز ہے جو اُس قربانی کے صدقے میں جنم لیتا ہے جسے شہادت کہتے ہیں ۔
نئے انسان کا ظہور ہمیشہ زندگی کے ایک خالی احاطے کو بھرنے کے لیے ہوتا ہے۔ ایک ایسی جگہ جہاں تو تو میں کا شور اور کنفیوژن نہیں ہوتا ۔ نئے انسان کے جنم کے لیے یہ ضروری ہے کہ اُس کے بسنے کے لیے ایک موزوں اور خالی جگہ فراہم کی جا سکے۔ یہ سب کچھ یوں ہی نہیں ہو جاتا بلکہ یہ اُن چھ سماوی لہروں کے تسلسل کی بنا پر ہے جو کائنات میں مسلسل رواں دواں رہتی ہیں۔ یہ چھ لہریں فطری توانائی کی کاروائیاں ہیں جن کا مطالعہ ہم اس زمین پر کر سکتے ہیں ۔ لیکن اس مطالعے کے لیے اُس مومن کی فراست کی ضرروت ہے جو اللہ کے نور سے دیکھتا ہے کیونکہ ان فطری کاروائیوں کو جہالت کی نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ وہ چھ سماوی کاروائیاں کیا ہیں؟ صوفیا کے نزدیک اُن کے نام یہ ہیں:
1۔ افزائش 2۔ انحطاط 3۔ کایا کلپ یا تغیّر 4۔ کرپشن یا ابتذال5۔ معالجہ اور کرپشن سے صحت یابی 6۔ حیاتِ نو
یہ وہ کاروائیاں ہیں جن کا مشاہدہ زندگی میں ہر سطح پر ممکن ہے۔ افزائش یا بڑھوتری ہمارے سامنے نامیاتی زندگی میں روز رونما ہوتی ہے ۔ یہ افزائش خود کار ہوتی ہے جو سورج اور زمین کے دوطرفہ عمل سے جاری رہتی ہے جس میں ضرب کا اصول کار فرما ہوتا ہے لیکن اس افزائش کے ساتھ ہی تلف ہونے کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ وہ پھول اور پودے جنہیں سورج توانائی دیتا ہے وہ مرجھا جاتے ہیں۔ بہار اور خزاں لازم و ملزوم ہیں۔ چنانچہ ثقافتیں اور تہذیبیں بھی اسی اصول کے مطابق پنپتی اور زوال کی قبر میں دفن ہو جاتی ہیں۔ اُن کی اپنی زندگی کا عرصہ متعین ہوتا ہے جس کے بعد وہ زندہ نہیں رہ سکتیں۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے:
وہ ایک اُمت تھی سو گزر چکی۔ اُس کے لیے تھا جو اس نے اپنے کسب سے کمایا اور تمہارے لیے وہ ہے جو تم کر رہے ہو اور جو عمل اُنہوں نے کیا اُن کی باز پرس تم سے نہیں ہوگی۔
(البقر ۴۳۱) ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ ہر اُمت کے لیے ایک عرصہ مقرر ہے۔ نشوونما اور انحطاط تخلیق کے دورانیے کی دو کاروائیاں ہیں لیکن کایا کلپ یا تغیر وہ تبدیلی ہے جوترقی کی نوید ہوتی ہے۔ کوئی بھی ارذل مواد یا منفی طرزِ عمل اعلیٰ سماوی رویوں سے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن کرپشن وہ پیمانہ ہے جو نظم و ضبط کے فقدان سے پیدا ہوتا ہے۔ کرپشن میں لاقانونیت کا دور دورہ ہوتا ہے اور منفی قدروں کا بول بالا ہوتا ہے۔ نظریاتی لا یعنیت عود کر آتی ہے اور دلیل و دانش کو تہ و بالا کردیتی ہے اور معاشرہ بیمار ہو جاتا ہے۔
معاشرتی بیماری انفرادی بیماری کی طرح ہوتی ہے جسے دوا اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس کے لیے اُن معالجین کی ضرورت ہوتی ہے جو درست تشخیص کے بعد صحیح دوا تجویز کر سکیں۔لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ موجودہ بحران کے عہد میں وہ معالج موجود نہیں ہے۔ اس وقت کرپشن کی بیل ہر گھر کی دیواروں پر چڑھی ہوئی ہے۔ ہر گھر سے لاقانونیت کے جانور نکل رہے ہیں۔ سڑکیں غیر محفوظ ہیں۔ مسلح ڈاکہ زنی ہماری معاشرت کا روز مرہ بن کر رہ گئی ہیں۔ اتنے لوگ ہر روز کرونا سے نہیں مرتے جتنے سڑکوں پر، عدالتوں کے احاطوں میں، دکانوں میں اور خاندانی تنازعوں میں مر رہے ہیں۔ موت کا ہرکارہ گھر گھر سیاہ وارنٹ پہنچا رہا ہے۔ اور یہ کرپشن ہے جس نے معاشرتی توازن کو گھر سے دفتر تک ، پولیس تھانے سے عدالتوں تک ، ووٹر سے اسمبلی تک ، مکتب سے مسجد تک ، سکول سے ہسپتال تک ، میڈیا ہاؤس سے اخبارات تک آوے کا آوا بگاڑ رکھا ہے۔
کرپشن نے سوسائٹی کو تباہ کردیا ہے اور ہر طرف لاقانونیت کا دور دورہ ہے جس کی بدتریں صورت مذہبی حلقوں میں نظر آتی ہے کہ وہ لوگ جو دن بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی واضح خلاف ورزی کرتے ہیں، وہ ناموسِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ بھی بنے پھرتے ہیں اور یہ منافقت کی بدترین شکل ہے جو کرپشن کے موسم میں سکہ ء رائج الوقت بن کر رہ گئی ہے۔ پاکستان میں بہتر برس میں کرپشن کی فصل کی مسلسل آبیاری کی گئی ہے اور پاکستان کا مطلب لا الہ الاللہ بتانے والوں نے اُس مسلمان کو وجود میں آنے ہی نہیں دیا جس کے اعمال سے محمدیت کی خوشبو آتی ہو۔ رحمت اللعالمینی کے گلاب کی خشبو چھنتی ہو۔ اخوت کی خوشبو،بھائی چارے کی خوشبو،مساوات کی خوشبو، کیا اس معاشرے میں مولانا فضل الرحمان عام مسلمان سے بھائیوں کا سا سلوک کرتے ہیں ؟ یہاں مسلمان ایک دوسرے کو یوں دیکھتے ہیں جیسے کڑوی دوائی پینے سے مونہہ بگڑا ہوا ہوتا ہے ۔ لیکن عام آدمی کو اپنی نجی صورتِ حال کا احساس ہی نہیں، اس لیے وہ نیا مسلمان اب تک جنم نہیں لے سکا جس کا وعدہ قرآن میں رقم ہے۔
اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موتو قبلَ انتموتو کا سبق دیا تھا کہ پرانے بدن اور روح کو موت سے ہمکنار کر کے نئے سرے سے جنم لیا جانا لازمی ہے۔ حیات بعد موت میں یہ نکتہ بھی پوشیدہ جسے اہلِ نظر ہی سمجھتے ہیں۔ اور اسلام نے مسلمان ہونے کی بنیادی شرط صادق اور امین ہونا قرار دیا تھا لیکن آج کا مسلمان صادق اور امین ہوئے بغیر جنت کا ٹکٹ ہاتھ میں لیے لہرا رہا ہے کہ بہتر حوریں میری منتظر ہیں۔ لا حول ولا قوۃ۔ لیکن اربابِ سیاست و اقتدار اپنے اپنے جماعتی اثاثوں کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور حکمران ایک مختصر سی آبادی کے لیے شبینہ پناہ گاہیں کھول کر سمجھ رہے کہ مدینے کی ریاست کا سفر طے ہو رہا ہے ۔ ادھر ایک ویڈیو میں مفتی قوی نے دعویٰ کیا ہے کہ مدینے کی ریاست کا آئیڈیا اُن کا ہے جو انہوں نے عمران خان کودیا تھا۔ سُنا آپ نے؟ ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے۔ سبحان اللہ۔
اور ابھی ٹی وی پر یہ خبر نشر ہو رہی کہ ایک شادی والے گھر میں گھس کر ڈاکہ زنی کی گئی اور یتن بچوں کی ماں کی عزت با جماعت لوٹی گئی۔ مال و دولت چھیننے کے ساتھ عصمتوں اور عزتوں پر ڈاکہ اس انحاط زدہ معاشرے کی بد تریں ن شانی ہے لیکن اہلِ سیاست کو اپنی اپنی پڑی ہے۔ حکمران اپنی کرسی بچانے کی فکر میں ہیں اور حزبِ اختلاف اپنے اثاثوں کے غصب ہونے کے خوف میں مبتلا چیخ و پکار کر رہی ہیں اور پورا پاکستان ایک ایسے گھر میں تبدیل ہوگیا ہے جہاں میتوں پر بین ہورہے ہیں۔ کہیں نظریات کی میت پر، کہیں غیرت کی میت پر، کہیں قانون کی میت پر اور کہیں اخلاق کی میت پر، انا للہ و انا الیہ راجعون۔