کورونا ویکیسن کی باوجود احتیاطی تدابیر کیوں؟
- تحریر ڈاکٹر عارف محمود کسانہ
- اتوار 31 / جنوری / 2021
- 6570
کورونا ویکسین سے بچاؤ کے لئے ویکسین دینے کا آغاز دنیا کے بیشتر ممالک میں ہوچکا ہے جس پر لوگوں میں قدرے اطمینان ہے۔ ماہرین صحت کا یہ کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین آنے کا مطلب یہ نہیں کہ وبا کے دوران کی جانے والی احتیاطی تدابیر ترک کردیجائیں۔
یہ خیال کیا جائے کہ اب خطرہ ٹل گیا ہے۔ کوویڈ 19 سے بچاؤ کے لئے کی جانے والی احتیاطی تدابیر جن میں سماجی فاصلہ، ہاتھ دھونے اور جراثیم کش محلول سے صاف رکھنا، کھانسی یا بخار کی علامات پر گھر رہنا، غیر ضروری میل جول اور بوقت ضرورت چہرے کے ماسک کے استعمال کا سلسلہ ویکسین لینے کے باوجود جاری رکھنا ہوگا۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ویکسین تو کورونا وائرس سے تحفظ فراہم کرتی ہے تو پھر احتیاطی تدابیر کیوں اختیار کرنا ہوں گی۔
طبی ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجوہات یہ ہیں کہ تمام ممالک میں ویکسینیشن کا عمل مکمل ہونے میں کافی مدت درکار ہوگی۔ چونکہ یہ ویکسین ابھی نئی ہے اس لئے اس کے موثر ہونے کا مکمل یقین نہیں اور نہ ہی حتمی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ کتنا عرصہ تک جسم میں قوت مدافعت رکھے گی۔ اب ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کچھ لوگوں کو کورونا کا حملہ دوبارہ بھی ہوا ہے اس لئے ویکسین لینے کے باوجود احتیاط بہت ضروری ہے۔
کورونا کی ویکسین لگوانے کے بعد ناروے میں کچھ معمر افراد کی ہلاکت افراد کی خبریں عالمی سطح پر گردش میں رہیں اور کئی لوگوں کو پھر سے ویکسین کے خلاف مہم چلانے کا موقع مل گیا۔ اس صورت حال کی وضاحت ناروے میں مقیم میرے بہت اچھے دوست میڈیکل اسپیشلسٹ ڈاکٹر ندیم حسین سید نے کرتے ہوئے کہا کہ ناروے کہ حکومت نے سب سے پہلے عُمر رسیدہ افراد کو ویکسین دینا شروع کی اور 85 سال سے زائد افراد کو یہ ویکسین دی۔ ان عمر رسیدہ افراد میں سے جو ویکسین لگنے کے بعد جاں بحق ہوئے ان کے بعد از موت طبی معائنہ سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ ان کے مرنے کی وجہ ویکسین نہیں بلکہ دیگر بیماریاں ہیں جن میں وہ پہلے سے ہی مبتلا تھے۔
یہاں یہ وضاحت پھر ضروری ہے کہ کورونا کے خلاف ویکسین محفوظ اور موثر حفاظت ہے۔ ہمیں خود بھی لگوانی چاہیے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دینی چاہیے۔
یہاں یہ اصول بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ویکسین بیماری کے علاج کے لئے نہیں ہوتی بلکہ اس کی روک تھام کے لیئے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ویکسین کا عمل شروع ہونے کے باوجود برطانیہ، آئیرلینڈ، ناروے اور دیگر کئی ممالک میں لاک ڈاؤن بھی جاری ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے برطانیہ میں شرح اموات آبادی کے تناسب سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ اب برطانیہ نے سویڈن کو بھی اس نئے وائرس سے بچاؤ کے لئے اقدامات کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ کورونا وائرس نے دیگر وائرس کی طرح اپنے جینیاتی مادے میں تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ نئی اقسام دریافت ہوئی ہیں۔ جب تک دنیا کے تمام ممالک میں اس سے بچاؤ سے مکمل تحفظ ممکن نہیں۔ کورونا کی وبا پر عالمی سطح پر قابو پانے کے لئے ویکسین ایک موثر ہتھیار ہے۔