بھارت میں کسانوں کا احتجاج داخلی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے
- تحریر وائس آف امریکہ اردو
- سوموار 01 / فروری / 2021
- 8630
چھبیس جنوری کو بھارت کے یوم جمہوریہ پر ہزاروں کسانوں کی دہلی کے لال قلعے پر چڑھائی اور ہنگامہ آرائی کے بعد بھارت میں یہ خدشات جنم لے رہے ہیں کہ کئی ہفتوں سے جاری اس مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو یہ بھارت کی داخلی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
بھارتی حکومت کی جانب سے گزشتہ سال منظور کیے گئے متنازع زرعی قوانین کے خلاف ہریانہ اور اتر پردیش سے متصل دارالحکومت دہلی کی سرحدوں پر ہزاروں کسانوں کے احتجاجی دھرنوں کو دو ماہ سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے۔ لیکن اب بھی اس مسئلے کے حل کی بظاہر کوئی امید نظر نہیں آ رہی ہے۔ حکومت اور کسانوں کے درمیان مذاکرات کے 11 ادوار ہو چکے ہیں لیکن اس بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
کسانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت تینوں متنازع قوانین واپس لے تو ہی احتجاج ختم ہو گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ قوانین واپس نہیں لے گی البتہ ان میں مذاکرات کے ذریعے ترامیم کر سکتی ہے۔ حکومت نے ان قوانین کو ڈیڑھ سال کے لیے معطل کرنے کی بھی پیش کش کی ہے جسے کسانوں نے مسترد کر دیا ہے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پہلی بار اس معاملے پر لب کشائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اب بھی بات چیت کے لیے تیار ہے اور وزیرِ زراعت محض ایک فون کال کی دوری پر ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کرے۔
سینئر تجزیہ کار رادھیکا راما سیشن کہتی ہیں کہ یوم جمہوریہ پر جو کچھ ہوا اس کی روشنی میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ داخلی سلامتی کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ اُن کے بقول کسانوں کا الزام ہے کہ ان کی پرامن ریلی میں کچھ ایسے عناصر داخل ہو گئے تھے جنہوں نے تشدد کو ہوا دی تاکہ ان کی تحریک کو بدنام کیا جا سکے۔ انہوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت اور حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگ شروع سے ہی یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ کسانوں کے احتجاج کو خالصتانی اور ماؤ نواز عناصر کی حمایت حاصل ہے۔ حالاں کہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
'رورل وائس ڈاٹ ان' کے چیف ایڈیٹر اور سینئر تجزیہ کار ہرویر سنگھ کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ تحریک کے دوران ایسے ملک دشمن عناصر سرگرم ہو گئے ہوں جو ملک کی سیکیورٹی کے لیے بھی خطرہ ہوں اور کسانوں کی تحریک کو بھی نقصان پہنچا رہے ہوں۔ اُن کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بات کا پتا لگائے اور اگر ایسے عناصر سرگرم ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کرے۔
کارواں میگزین کے ایڈیٹر ہرتوش سنگھ بل نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ حکومت خود داخلی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ کیوں کہ اگر حکومت ملکی مفادات کے بجائے اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دینے لگے تو سیکیورٹی کے مسائل تو پیدا ہو ہی جاتے ہیں۔ وہ زور دے کر کہتے ہیں کہ کسانوں کی تحریک سے اندرونی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ کسان تو زرعی قوانین کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور حکومت اور اس کے وزرا خالصتان کے بارے میں بات کر رہے ہیں تو اس سے ظاہر ہے کہ حکومت خود داخلی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کر رہی ہے۔
ایک اور تجزیہ کار وویک شکلا کہتے ہیں کہ ملک دشمن عناصر ایسی تحریکوں میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ 26 جنوری کو ہزاروں ٹریکٹر پرامن انداز میں نکل رہے تھے۔ لیکن کچھ لوگوں نے لال قلعہ پر چڑھائی کر دی اور وہی واقعہ خبر بن گیا۔ اُن کے بقول پرامن انداز میں نکلنے والے ٹریکٹروں کی ریلی کا ذکر کوئی نہیں کر رہا صرف لال قلعے پر چڑھائی کی بات ہو رہی ہے۔ لہٰذا اس کا خدشہ تو ہے کہ اگر فوری طور پر یہ مسئلہ حل نہیں کیا گیا تو سلامتی کی صورتِ حال خراب ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ بھارتی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے دو دسمبر 2020 کو وزیرِ داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی تھی اور ان سے اپیل کی تھی کہ اس احتجاج کو جلد ختم کرایا جائے ورنہ اس سے معیشت کو تو نقصان پہنچے گا ہی ملکی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ جب اس احتجاج کا آغاز ہوا تھا تو بی جے پی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ احتجاج میں پاکستان اور چین کا ہاتھ ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے اندرونی امور میں مداخلت نہیں کرتا۔