میانمار میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کرلیا
- سوموار 01 / فروری / 2021
- 5540
میانمار کی فوج نے ملک کی سربراہ اور نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی اور اُن کی جماعت کے دیگر رہنماؤں کو تحویل میں لیتے ہوئے اقتدار پر سنبھال لیا ہے۔
فوج نے پیر کی صبح سرکاری تنصیبات کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے حکمران جماعت نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کے متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ دارالحکومت نیپیٹاؤ میں جگہ جگہ فوجی اہلکار گشت کر رہے ہیں اور ٹیلی فون سروس اور سرکاری ٹی وی کو بند کر دیا گیا ہے جب کہ کاروباری شہر ینگون سے رابطہ بھی منقطع ہو چکا ہے۔
میانمار کی فوج نے ملٹری ٹیلی ویژن پر ایک بیان میں کہا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی کی وجہ سے سیاسی قیادت کو نظر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ملک بھر میں ایک سال کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ فوج نے بیان میں مزید کہا ہے کہ سیاسی قیادت کی نظر بندی کے دوران تمام اختیارات آرمی چیف من آنگ لینگ کے پاس رہیں گے۔
میانمار کی سیاسی قیادت کی نظر بندی ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب حالیہ انتخابات کے بعد سویلین حکومت اور فوج کے درمیان شدید کشیدگی تھی اور ملک میں مارشل لا کے نفاذ کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ یاد رہے کہ این ایل ڈی نے گزشتہ برس نومبر میں ہونے والے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی اور اس کامیابی کو آن سانگ سوچی کی جمہوری حکومت کے حق میں ریفرنڈم قرار دیا گیا تھا۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق این ایل ڈی کے ترجمان ماؤ نیوت نے بتایا ہے کہ فوج علی الصباح آنگ سان سوچی اور ملک کے صدر ون مینٹ سمیت پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو اپنے ہمراہ لے گئی ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن کو آنگ سان سوچی کو حراست میں لیے جانے پر بریفنگ دی گئی ہے۔
ترجمان جین ساکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ میانمار کے حالیہ انتخابات کے نتائج اور جمہوری انتقالِ اقتدار میں خلل ڈالنے کے اقدامات کی مخالفت کرتا ہے۔ اگر یہ اقدامات واپس نہ لیے گئے تو امریکہ ذمہ داروں کے خلاف اقدامات اٹھائے گا۔
آسٹریلیا کی حکومت نے بھی کہا ہے کہ میانمار کی فوج کی جانب سے ایک مرتبہ پھر اقتدار پر قبضے کی خبروں پر تشویش ہے۔ آسٹریلیا نے زیرِ حراست رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ جاپان نے کہا ہے کہ وہ میانمار کی صورتِ حال کا جائزہ لے رہا ہے اور فوری طور پر اپنے شہریوں کو وطن واپس لانے کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں۔