فوجی بغاوت پر امریکہ میانمار کے خلاف اقدام کرے گا: صدر بائیڈن
- منگل 02 / فروری / 2021
- 5880
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے میانمار میں فوج کی بغاوت اور اقتدار پر قبضے کے بعد خبردار کیا ہے کہ امریکہ میانمار پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔
پیر کو ایک بیان میں صدر بائیڈن نے کہا کہ برما کے لوگ تقریباً ایک دہائی سے ملک میں انتخابات، سویلین حکومت کے قیام اور پرامن انتقال اقتدار کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ملک میں جمہوری عمل شروع ہونے پر امریکہ نے میانمار پر عائد پابندیاں ہٹا لی تھیں۔ تاہم اقتدار پر فوج کے قبضے کے بعد امریکہ پابندی کے قوانین کا جائزہ لے گا اور 'مناسب قدم' اٹھائے گا۔
امریکی صدر کے بقول جمہوریت کی طرف سفر میں پیش رفت کا ختم ہونا پابندی اور اختیارات سے متعلق قوانین کے فوری جائزے کا متقاضی ہے۔ انہوں نے دیگر اقوام پر بھی ایسا ہی کرنے پر زور دیا ہے۔ یاد رہے کہ میانمار کی فوج نے پیر کو ملک کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے سیاسی قیادت کو گرفتار کر لیا تھا۔ ملک بھر میں کم از کم ایک سال کے لیے ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی۔
امریکہ اور اقوامِ متحدہ سمیت دنیا کے مختلف ملکوں نے میانمار میں فوج کے اقتدار پر قبضے اور ملک کی سربراہ آنگ سان سوچی کی گرفتاری کے اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی گرفتاری کو 24 گھنٹے سے بھی زائد کا وقت گزر چکا ہے اور اب تک یہ نہیں معلوم کہ اُنہیں کس مقام پر رکھا گیا ہے۔ امریکی سینیٹ نے بھی کہا ہے کہ میانمار کی صورتِ حال کا بغور جائزہ لیا گیا ہے۔
سینیٹ میں اکثریتی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما چک شومر نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ کانگریس صورتِ حال کے حل کے لیے نئی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انتونیو گوتریس میانمار میں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات کی فوج کو منتقلی پر گہری تشویش رکھتے ہیں۔ یہ اقدامات میانمار میں جمہوری اصلاحات کے لیے شدید دھچکہ ہیں۔
میانمار میں انسانی حقوق کی صورتِ حال سے متعلق اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے اوم اینڈریوز نے بھی دیگر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ میانمار پر پابندیوں کے بارے میں غور کریں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میانمار پر سخت، اہداف والی پابندیاں اور اسلحے پر پابندیوں جیسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
انسانی فلاح کی تنظیم ریفیوجی انٹرنیشنل نے بھی میانمار میں صورتِ حال کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اسے برمی فوج کے سویلینز کے ساتھ دہائیوں سے جاری سلوک پر تشویش ہے۔ ریفیوجی انٹرنیشنل کے سینئر ایڈووکیٹ ڈینئل پی سلوان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میانمار کی فوج کی جانب سے اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی ایک تاریخ ہے۔ یہ فوج روہنگیا نسل کشی کی بھی ذمہ دار ہے۔ یہ فوجی بغاوت اس جگہ تک رسائی کے بارے میں بھی تشویش کا سبب ہے جہاں انسانی بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہے۔
یورپی یونین، برطانیہ، آسٹریلیا، بھارت، جاپان اور سنگاپور نے میانمار میں صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جنوبی مشرقی ایشائی ملکوں کی تنظیم آسیان نے بھی میانمار میں حالات کے معمول پر واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ چین نے کہا ہے کہ وہ اب بھی حالیہ واقعات کے بارے میں معلومات جمع کر رہا ہے۔ چین میانمار کا سب سے اہم اقتصادی اتحادی ہے۔