کرپشن، بدعنوانی اور قومی ایجنڈا
- تحریر سلمان عابد
- منگل 02 / فروری / 2021
- 5390
بدعنوانی کی سیاست ایک عالمی مسئلہ ہے۔ پاکستان خود اس بحران کا شکار ہے۔ اس کا مجموعی سیاسی، انتظامی، قانونی، سماجی اور معاشی نظام عدم شفافیت کی بنیاد پر کھڑا ہے۔
کوئی بھی معاشرہ اپنی تمام تر ٹھوس پالیسیوں اور منصوبہ بندی کی بنیاد پر ترقی اسی بنیاد پر کرسکتا ہے جب اس کا داخلی نظام شفافیت پر مبنی ہو۔ٹرانسپریسنی انٹرنیشنل کی کرپشن سے متعلق سی پی آئی انڈیکس رپورٹ جو2020 کی بنیاد پر جاری ہوئی کوئی انہونی رپورٹ نہیں۔ یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کرپشن سے نمٹنے میں مسلسل ناکامی سے دوچار ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔180ممالک کی بنیاد پر ہونے والی اس درجہ بندی میں ہم 31پوائنٹس کی بنیاد پر124نمبر پر کھڑے ہیں۔جبکہ اس سے قبل ہم 2019میں 120ویں نمبر پر تھے۔
تحریک انصاف اور عمران خان کی سیاست کی بنیاد احتساب اورکرپشن کی سیاست کا خاتمہ تھا اور ان کے بقول وہی کرپشن کو ختم کرنے کی عملی صلاحیت رکھتے ہیں۔لیکن جو اعداد وشمار اس بین الااقوامی رپورٹ سے ظاہر ہوتے ہیں وہ عمران خان حکومت کے دعووں کے برعکس ہے۔یہ رپورٹ اصولی طور پر حکومتی موقف کے لیے بڑا سیاسی دھچکہ بھی ہے۔ اس رپورٹ کو اگر بنیاد بنایا جائے تو یہ بھی درست ہوگا کہ پاکستان سمیت دنیا کے وہ ممالک جو کرپشن کی سیاست کا شکار ہیں ان کا بڑا مسئلہ اپنے معاشروں میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور عدم شفافیت یا عدم احتساب یا نگرانی کا کمزور اورسمجھوتوں کی بنیاد پر موجود نظام ہے۔یہ نظام اصولی طور پر کرپشن کے خاتمہ کی بجائے اسے طاقت فراہم کرنے کا سبب بنتا ہے۔
پاکستان میں جب بھی کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کے خاتمہ کی بات کی جائے تو اس میں دو امور سامنے آتے ہیں۔ او ل کرپشن کو ایک بڑا قومی مسئلہ سمجھنے کی بجائے اسے آج کی دنیا میں موجود سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ سمجھ کر قبول کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔اس طبقہ کے بقول کرپشن کوئی بڑا مسئلہ نہیں بلکہ اسے بلاوجہ جذباتیت کا رنگ دے کر مسئلہ بنایا جاتا ہے۔ دوئم جب بھی کرپٹ لوگوں یا کرپشن کے خاتمہ کی بات کی جائے تو اہل سیاست سمیت اہل دانش کا بھی ایک بڑا طبقہ سیاست، جمہوریت اور سول حکمرانی کو بنیاد بنا کر اسے اس نظام کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرنے کی سیاسی تاویلیں پیش کرتا ہے یا اسے محض سیاسی انتقام کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔
مسئلہ محض سیاست یا سیاست دانوں کا نہیں بلکہ معاشرے کے مجموعی مزاج یا طاقت کے سب فریقین کرپشن پر مبنی سیاست پر ہمیشہ سے سیاسی مصلحتوں کے تحت سیاسی سمجھوتوں کا شکار رہے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک میں سیاسی اور طویل فوجی حکمرانوں کی موجودگی کے باوجود ہم کرپشن کے خاتمہ میں کوئی بڑی نمایاں کارکردگی نہیں دکھاسکے۔اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ طاقت کے مراکز نے کرپشن او رکرپٹ لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی بجائے ان سے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر سیاسی سمجھوتے کرکے ان مجرموں کو تحفظ دیا۔ہم نے بدقسمتی سے کرپشن کے خاتمہ کے لیے جو بھی انتظامی اور قانونی ادارے بنائے ان کو کمزور کرکے اپنے ہی سیاسی او رمعاشی مفادات کو تحفظ دیا۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک میں کرپٹ لوگوں کے خلاف قانون کی حکمرانی کا نظام کمزور ہے او رکرپٹ لوگ آج ملک میں بڑی بڑی فیصلہ سازی سے جڑے نظام کا حصہ بن کر کرپشن پر مبنی سیاست کو اور زیادہ بگاڑ دینے کے کھیل کا حصہ ہیں۔
کرپشن کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ہمارے ریاستی، انتظامی او رقانونی اداروں میں بے جا سیاسی مداخلت ہے۔طاقت ور طبقہ سمجھتا ہے کہ اداروں کی کمزوری ہی ان کے سیاسی کھیل مفاد میں ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہم نے کبھی بھی ادارہ جاتی اصلاحات پر توجہ نہیں دی اور اس کھیل کو مصنوعی انداز سے چلایا۔مسئلہ محض اوپر کی سطح پر کرپشن کا ہی نہیں بلکہ نچلی سطح پر بھی روزمرہ کے معاملات کو دیکھیں تو ہمیں عام آدمی سے جڑے اداروں کی سطح پر بھی کرپشن جیسے مرض کا سامنا ہے۔سیاسی جماعتوں کے نظام میں کرپٹ لوگوں کو نہ صرف تحفظ دیا جاتا ہے بلکہ ان کو سیاسی جماعتوں کے داخلی نظام میں فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے۔کیونکہ یہ کرپٹ لوگ چاہے ان کا براہ راست تعلق سیاست سے ہویا نہ ہو یہ سیاسی جماعتوں او ران کی قیادت کے لیے پیسہ پیدا کرنے کی مشینیں ہیں۔یہ ہی کرپٹ لوگ سیاسی جماعتوں او ران کی قیادت پر عملًا سرمایہ کاری کرکے سیاسی نظام پر غلبہ حاصل یا فیصلہ کن حیثیت اختیار کرگئے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ کرپشن کا خاتمہ کوئی معمولی کام نہیں او رنہ ہی یہ کام محض جذباتیت اور سیاسی نعروں کی بنیاد پر ہوگا۔ یہ کام عملی طور پر ملک کے سیاسی، انتظامی، قانونی او رمعاشی نظام میں اصلاحات چاہتا ہے۔ان اصلاحات کا ہونا اس لیے بھی آسان نہیں کیونکہ طاقت ور افراد جو اس نظام کے ہر شعبہ میں موجود ہیں وہ خود اصلاحات کے عمل میں ایک بڑی رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ یہ لوگ جہاں مختلف شعبوں میں موجود ہیں وہیں خود عمران خان کی اپنی جماعت میں ایسے لوگ ہیں جو شفافیت پر مبنی اصلاحات میں رکاوٹ ہیں اور وہ ایسی کڑوی اصلاحات کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔اسی طرح دیگر سیاسی جماعتیں اس بیانیہ کو قبول کرنے کے لیے ہی تیار نہیں کہ ان کی جماعتوں میں کرپٹ لوگ موجود ہیں یا و ہ ان کو سیاسی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
بدقسمتی یہ ہے کہ اس ملک میں سیاست، قانون اور جمہوریت سے جڑا اہل دانش یا تھنک ٹینک جیسے افراد یا ادارے بھی کرپٹ لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی بجائے شعوری یا لاشعوی طور پر ان کو دانشورانہ تحفظ فراہم کرتے ہیں۔میڈیا کی سطح پر بھی یہ ہی کرپٹ لوگ سیاسی اور جمہوری حقوق کے بڑے چیمپن کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اس ملک میں جو امیری اور غریبی کی بنیاد پر نہ صرف تقسیم بلکہ مختلف نوعیت کی ناہمواریاں بڑھ رہی ہیں اس کی جہاں دیگر وجوہات ہیں وہیں ایک بڑی وجہ کرپشن بھی ہے۔ کیونکہ اس کرپٹ سیاست کا براہ راست نشانہ عام لوگ بنتے ہیں اور اس سے لوگوں میں نفرت اور غصہ پیدا ہوتا ہے جو ریاست اور شہری کے تعلق کو کمزور کرتا ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ طاقت میں موجود گروہ چاہے وہ کسی بھی طبقہ سے ہو بنیادی طور پر نئی نسل کو یہ ہی پیغام دے رہا ہے کہ اصل طاقت اختیارات کا حصول اور زیادہ سے زیادہ جائز و ناجائز پیسہ بنانا ہوتا ہے۔ اس لیے نئی نسل بھی اختیارات کے کھیل کا حصہ بنتی ہے تو وہ بھی اسی کرپشن پر مبنی سیاست کے کھیل کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یا ان کو مجبور کردیا جاتا ہے کہ وہ اس کھیل سے جڑے رہیں وگرنہ دوسری صورت میں ان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔شفافیت کا نظام بنیادی طور پر مضبوط ادارہ سازی سے جڑا ہوتا ہے اور جمہوریت کی بنیادی شرط ہی ادارہ سازی کو بنیاد بنا کر اصلاحات کی طرف توجہ دینی ہوتی ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہماری جمہوری سیاست اصلاحات کو محض اپنے ذاتی مفادات تک رکھ کر آگے بڑھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ احتساب، نگرانی، شفافیت، جوابدہی، ادارہ سازی،شعور کو اجاگر کرنا جیسے لفظ ہماری سیاسی ڈکشنری میں موجود تو ہیں مگر یہ ہماری قومی سیاسی ترجیحات کا حصہ نہیں بن سکے۔