ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی ختم کرنے کے لئے صدربائیڈن نے ایک اور حکم جاری کردیا
- بدھ 03 / فروری / 2021
- 5890
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اپنے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ کی پابندیوں کی امیگریشن پالیسیوں کے خاتمے کے لیے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر موجود خاندانوں کو ملانے کوشش ہے۔
نئے امریکی صدر نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے کہا کہ وہ نیا قانون نہیں بنا رہے بلکہ ناقص پالیسی کو ختم کر رہے ہیں۔ اپنی صدارت کے پہلے گھنٹے میں جو بائیڈن نے دو ہفتے قبل سابق صدر ٹرمپ کی طرف سے امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر 16 بلین ڈالرز کی رقم سے دیوار کی تعمیر رکوانے کے لیے کانگریس کو ایک بل بھجوایا تھا۔
بائیڈن کی فوری توجہ 3100 کلو میٹر اس دیوار پر ہے جو امریکہ کی جنوبی سرحد پر بنائی جا رہی ہے۔ سابق صدر ٹرمپ نے اس دیوار کے ذریعے میکسیکو، ہنڈارس، ایل سیلواڈور اور گوئٹے مالا سے امریکہ داخل ہونے والے ہزاروں تارکینِ وطن کا راستہ روکنے کی کوشش کی تھی۔ سابق صدر ٹرمپ نے اس دیوار کی مرمت اور توسیع کے عمل کی قیادت کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی طور پر امریکہ داخل ہونے والوں کو جیل میں رکھنے اور ان کو واپس بھجوانے کی پالیسیوں کو زیادہ سخت بنایا تھا۔
بائنڈن ایک ایسے حکم نامے پر بھی دستخط کر رہے ہیں جو ایک ٹاسک فورس تشکیل دے گا۔ اس ٹاسک فورس کا کام ترک وطن کرنے والے ان 600 سے زائد بچوں کو اپنے والدین سے ملوانا ہے جنہیں وفاقی حکام نے 2017 اور 2018 میں ایک دوسرے سے الگ کر دیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ خاتونِ اول جل بائیڈن متوقع طور پر اس کام میں ایک متحرک کردار ادا کریں گی۔
ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخطوں کی تقریب میں صدر بائیڈن نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ خاندانوں کو الگ کرنے کے داغ کو دھو پائے ہیں۔ بائیڈن نے اس موقع پر صحافیوں کے سوالات نہیں لیے۔ ایک سینئر عہدے دار نے بتایا کہ صدر بائیڈن کی حکمتِ عملی اس بنیادی اصول کے گرد گھومتی ہے کہ ہمارا ملک ایک محفوظ، منظم اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قائم امیگریشن سسٹم کے تحت تارکینِ وطن کو خوش آمدید کہتا ہے۔