آئین، جمہوریت اور شائستگی کی فتح (3)

واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خاں کی توقعات یا امیدیں اپنی جگہ، وہ اپنی حساس ذمہ داری کی بدولت ایک مخصوص سرکل کے اندر رہ کر ہی بات کر سکتے ہیں۔ ایک سفارت کار اور ایک تجزیہ کار میں یہی فرق ہوتا ہے کہ آخر الذکر خالی ڈپلومیسی سے آگے بڑھ کر حقائق واضح کر سکتا ہے۔

ہمیں اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں رہنا چاہیے کہ اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی جس پراسس سے گزر کر آ رہی ہے۔ کن مفادات اور مجبوریوں میں جکڑی ہوئی ہے۔ انڈین خارجہ پالیسی کے بالمقابل ہماری ایک جام خارجہ پالیسی ہے۔ آج اگر انڈین نژاد امریکی وائٹ ہاﺅس کی اہم کلیدی ذمہ داریوں پر ایک فوج ظفر موج کی طرح فائز ہوئے ہیں یا دوسرے بڑے عہدے یعنی امریکی نائب صدارت پر کملا دیوی ہیرس براجماں ہوئی ہیں تو ہم کیسے کہہ دیں کہ اس سے امریکا میں انڈین لابی یا بھارتی سرکار کوفائدہ نہیں پہنچے گا۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو کچھ بعید نہیں کل کو کوئی انڈین نژاد امریکی صدارت کے منصب پر بھی فائز ہو سکتا ہے جبکہ ہم یہ بھی آگہی رکھتے ہیں کہ ڈیمو کریٹس کا جھکاﺅ بالعموم پاکستان کی بجائے انڈیا کی جانب ہمیشہ زیادہ رہا ہے۔

مشرف دور میں صدر کلنٹن آخری امریکی صدر تھے جو بڑی منتوں سماجتوں کے بعد دہلی سے واپس جاتے ہوئے محض چار گھنٹوں کے لئے اسلام آباد رکے تھے۔ وہ بھی سخت شرائط کے ساتھ حتیٰ کہ انہوں نے پاکستانی حکمرانوں کے ساتھ کوئی تصویر بنوانے سے ہی انکار کر دیا تھا اور دہشت گردی کے ساتھ ساتھ انڈیا دشمنی چھوڑنے کیلئے نشریاتی بھاشن دیا تھا۔ یہ بھی کہا تھا کہ اگر آپ کو شکایات ہیں تو دوسری طرف بھی شکایات کے انبار ہیں، لہٰذا اگر کچھ پانا ہے تو پھر آپ کو ان تنگناﺅں سے اوپر اٹھنا ہوگا۔ ہم عصر امریکی صدور میں صدر باراک حسین اوباما کو جس قدر معتدل اور مسلمانوں کے ہمدرد کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا ہے، شاید ان جیسی کوئی اور مثال نہ ہو۔ مگر وہ اپنی دونوں ٹرمز میں دو مرتبہ انڈیا کے سرکاری دورے پر آئے، ان کا ایک وزٹ تو خاصا طویل تھا جس میں سول نیوکلیئر معاہدہ بھی ہوا مگر انہوں نے ایک بار بھی ہماری طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔

ری پبلکن ٹرمپ کا بھی یہی حال رہا۔ سوچنے کے لائق سوال توبنتا ہے ایک وقت تھا جب ہم امریکیوں کی آنکھوں کا تارا تھے۔ طویل سرد جنگ کے زمانے میں انڈیا ہماری پوزیشن کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا کرتا تھا اور اب ہمارا حال یہ ہے کہ کشمیر ایشو پر امریکا یورپ تو رہے ایک طرف، ہمارے عرب دوست بھی ہماری حمایت میں معمولی بیان دینے کوتیار نہیں ہیں۔ دوسروں کی طرف غصیلی نظریں اٹھانے سے پہلے بہتر ہے ہم اپنے میڈیا میں اپنی خارجہ پالیسی کا تنقیدی جائزہ لینے کی کھلی اجازت عنایت فرما دیں۔اس وقت جوبائیڈن کی قیادت میں جو ڈیمو کریٹس سیٹ اپ امریکا میں برسر اقتدار آیاہے، یہ بنیادی طور پرباراک اوباما کی حکومت کا ہی تسلسل ہے اور اس کی پالیسیوں میں وہی جھلک دکھائی دیتی رہے گی۔ جیسے کہ ایرانی نیوکلیئر ایشو کیلئے بائیڈن نے اُسی شخصیت کی تقرری کی ہے جسے صدر اوباما نے اپائنٹ کیا تھا۔

درویش کی نظر میں اس حکومت کو اندرونی، بیرونی سطح پر ان گنت چیلنجز درپیش ہیں جن کا احاطہ کرنا تو اس مختصر تحریر میں ممکن نہیں ہے البتہ ہم اختصار کے ساتھ پانچ چیلنجز سے اپنی معروضات رکھیں گے۔ جوبائیڈن حکومت نے فوری طور پر اپنے داخلی محاذ پر ٹرمپ کے پھیلائے ہوئے کچرے کو صاف کرنا ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے مواخذے کا ایشو سر اٹھا رہاہے اور اس میں ڈیمو کریٹس کے علاوہ ریپبلکن کے اپنے نمائندگان اور سینئرز بھی شامل حال ہیں۔ انہیں کورونا اور معیشت کے حوالے سے سخت فیصلے لینے ہیں روز اول جو 17 اقدام اٹھائے تھے انہیں کامیابی تک لے جانا ہے۔

 

جوبائیڈن حکومت کیلئے اس سے بھی بڑا چیلنج ایران کو نیو کلیئر ڈیل میں لانا ہے جس محنت اور جانفشانی سے اوباما نے یہ نازک ایشو ٹیکل کیا تھا اس کے بعد صدر ٹرمپ نے محض جذباتیت سے معاملات کو کہیں زیادہ بگاڑ دیا۔تیسرا بڑا چیلنج افغانستان کی موجودہ صورتحال میں دوحا اکارڈ کی نئی حیثیت کا تعین ہے، اس حوالے سے ذرا سی کوتاہی افغانستان کو خون میں نہلا سکتی ہے۔چوتھا چیلنج چین کے ساتھ بظاہر بہترین تجارتی تعلقات کی موجودگی میں اندر خانے گہری سرد جنگ جیسی منافرتیں ہیں۔ امریکی یہ چاہیں گے کہ سانپ بھی مر جائے اور امریکی لاٹھی کو گزند بھی نہ پہنچے۔ پانچواں چیلنج خود امریکا کے اپنے یورپی اتحادیوں، کینیڈا، آسٹریلیا، جاپان اور انڈیا تک کے ساتھ نئے حالات اور پیش بندی میں بدگمانیوں کو دور کرتے ہوئے امریکی اعتماد و وقار کی بحالی ہے۔

ان کی گہرائی میں جانے سے پہلے ضروری ہے کہ صدر بائیڈن کو آتے ہی جو چھوٹی چھوٹی دو سلامیاں پاکستان اور میانمار سے وصول ہوئی ہیں، یہ دونوں ان کیلئے خوشگوار نہیں ہیں۔ ڈینیل پرل کا قتل امریکی عوام اور میڈیا کیلئے کوئی غیر اہم سانحہ نہیں ہے۔ پاکستان میں یہ مقدمہ کس منطقی انجام تک پہنچ رہا ہے۔ نئے امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کو آتے ہی پہلا اعلان یہ جاری کرنا پڑا کہ امریکا ڈینیل پرل کو اغوا کرنے اور قتل کرنے پر عمر سعید شیخ کے خلاف امریکا میں کارروائی کیلئے تیار ہے۔ ہم اس حوالے سے پرعزم ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے فوری طور پر ہمارے وزیر خارجہ سے بات چیت بھی کی ، ہماری حکومت پر آگے چل کر اس حوالے سے دباﺅ آئے گا۔

میانمار (برما) میں فوج نے منتخب وزیراعظم نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی حکومت کا تختہ الٹتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔ اس پر صدربائیڈن کا یہ کہنا کہ ”دنیا برمی فوج پر اقتدار کا قبضہ چھوڑنے کیلئے یک زبان ہو جائے“ قابل فہم ہے۔ ٹرمپ کو جس طرح اپنے ملک کے اندر انسانی حقوق جمہوریت یا آزادی اظہار میں کوئی دلچسپی نہ تھی، وہ تو دوسروں سے پوچھتے رہتے تھے کہ میڈیا کو کس طرح دبا کر رکھنا ہے۔ اب پوری دنیا میں امریکی پہچان اس سے مختلف ہو گی۔ نہ صرف مہذب دنیا بلکہ تیسری دنیا کی دبی ہوئی جمہوری آوازیں امریکی جمہوریت اور قیادت کو اپنے لیے ڈھارس خیال کریں گی۔ (جاری ہے)